دیدہ دلیری یا آشیر باد؟ سوشل میڈیا پر ’’پہلے آئیے، پہلے پائیے‘‘ کا دعویٰ، جمعے تک دکانیں تیار ہونے کی ویڈیو وائرل
کینٹ قوانین کے تحت تعمیراتی منظوری لازم، مبینہ دکانوں کی قانونی حیثیت پر سوالات، انسپکٹر، سپر چیکر، ڈرافٹ مین اور انچارج ایڈیشنل سی ای او سب کا علم کیسے؟
مذکورہ شخص کے خلاف ایف آئی اے میں مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دے دی، کینٹ بورڈ انتظامیہ
راولپنڈی (مدثر الیاس کیانی سے) راولپنڈی کے بھاٹا چوک میں کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے کرائے پر دی گئی ایک جگہ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے دعووں نے شہری حلقوں میں تشویش اور کئی سنجیدہ سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ ایک مخصوص سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے مبینہ طور پر جاری ویڈیو میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بھاٹا چوک کی مذکورہ جگہ پر تقریباً 100 دکانیں جمعے تک تعمیر ہو جائیں گی اور شہریوں کو فروخت کی جا رہی ہیں، جبکہ ان کی ایڈوانس بکنگ بھی شروع کر دی گئی ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں ایک شخص مبینہ طور پر زیرِ تعمیر مقام کے سامنے بیٹھ کر دعویٰ کرتا دکھائی دیتا ہے کہ یہاں 100 دکانیں بنائی جا رہی ہیں، جو جمعے تک تیار ہو جائیں گی، جبکہ دکانوں کی فراہمی ’’پہلے آئیے، پہلے پائیے‘‘ کی بنیاد پر ہوگی۔ تاہم ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ متعلقہ سرکاری پلیٹ فارم ایف آئی اے میں مذکورہ شخص کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست دے دی گئی ہے۔ تاہم یاد رہے کہ متذکرہ شخص کسی دفتر یا ہوٹل میں بیٹھ کر ویڈیو نہیں بنا رہا بلکہ بھاٹا چوک میں منڈی کی جگہ پر تعمیر ہونے والی عمارت کے سامنے کرسی پر سکون سے بیٹھا نظر آ رہا ہے۔یہاں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ چونکہ یہ جگہ اس وقت ٹھیکیدار کی زیرِ نگرانی ہے، تو وہاں جاری تعمیراتی سرگرمیوں اور مبینہ طور پر دکانوں کی بکنگ کے دعوے سے متعلق متعلقہ افسران کو علم تھا یا نہیں؟ بالخصوص انسپکٹر، سپر چیکر، ڈرافٹ مین، انچارج ایڈیشنل سی ای او اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) سمیت متعلقہ حکام کو اگر اس تعمیر کا علم نہیں تھا تو یہ معاملہ بھی اپنی جگہ ایک اہم انتظامی سوال بن جاتا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ کی زیرِ نگرانی جگہ پر ہونے والی تعمیراتی سرگرمی ان کی نظروں سے کیسے اوجھل رہی؟Cantonments Act, 1924 کی دفعات 178A، 179، 180 اور 181 کے تحت کنٹونمنٹ میں عمارت کی تعمیر یا دوبارہ تعمیر کے لیے متعلقہ کنٹونمنٹ بورڈ کی پیشگی منظوری اور مقررہ طریقہ کار کی تکمیل ضروری ہے۔ اسی قانون کے تحت بورڈ کو تعمیراتی درخواست، عمارت کے مقصد اور متعلقہ نقشوں و تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد تعمیر کی اجازت دینے یا انکار کرنے کا اختیار حاصل ہے۔مزید برآں، قانون کی دفعہ 184 غیر مجاز تعمیر کے خلاف کارروائی کی گنجائش فراہم کرتی ہے، جبکہ دفعہ 185 کے تحت بورڈ کو بعض حالات میں غیر مجاز تعمیر رکوانے اور اسے ہٹانے یا تبدیل کرانے کے اختیارات حاصل ہیں۔یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھاٹا چوک کی مذکورہ جگہ پر اگر واقعی دکانیں تعمیر کی جا رہی ہیں تو ان کی منظوری کس نے دی، نقشہ کس نے منظور کیا، تعمیر کس مقصد کے لیے منظور ہوئی اور دکانوں کی مبینہ فروخت یا ایڈوانس بکنگ کی اجازت کس قانون یا معاہدے کے تحت دی گئی؟اگر کینٹ بورڈ کی انتظامیہ کا مؤقف یہی ہے کہ انہیں ایسی 100 دکانوں کی تعمیر یا بکنگ کا علم نہیں تو پھر سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے دعووں کی باقاعدہ وضاحت اور متعلقہ ریکارڈ کی جانچ ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔ بالخصوص یہ معلوم کرنا بھی ضروری ہے کہ تعمیراتی مقام کی نگرانی کس افسر یا اہلکار کے سپرد تھی، موقع پر ہونے والی تعمیر کی باقاعدہ نگرانی کس نے کی۔شہریوں کے لیے بھی یہ معاملہ اہم ہے، کیونکہ کسی بھی دکان یا کمرشل جگہ کی مبینہ بکنگ کے لیے رقم ادا کرنے سے قبل اس کی ملکیت، لیز، تعمیراتی منظوری، نقشے اور کینٹونمنٹ بورڈ سے حاصل کردہ تمام متعلقہ اجازتوں کی تصدیق ضروری ہے۔ بصورتِ دیگر مستقبل میں رقم، قبضے اور قانونی حیثیت سے متعلق تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔
