2023 میں 8 کروڑ 95 لاکھ، 2024 میں 10 کروڑ 99 لاکھ، 2025 میں 16 کروڑ 57 لاکھ؛ 2026 میں 28 کروڑ ایک لاکھ روپے کی مبینہ بولی
معمول کی ایک سالہ بولی کے برعکس اس بار تین سالہ معاہدہ؛ e-PADS کے بغیر ٹینڈر، مبینہ پول، 12 لاکھ روپے کی ادائیگی اور 12 کروڑ روپے تک رشوت کے الزامات
ہفتے میں دو دن منڈی لگانے کی مبینہ شرط کے باوجود مستقل تعمیرات شروع، بلڈنگ انسپکٹر کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو ارسال ہونے کا دعویٰ
راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کی انتہائی قیمتی سرکاری اراضی پر قائم بھاٹہ چوک منڈی مویشیاں کی حالیہ نیلامی نے ٹینڈر کے طریقہ کار، معاہدے کی مدت، مالی شرائط، مبینہ ملی بھگت، ممکنہ مالی بے ضابطگیوں، کامیاب فریق کے ممکنہ تعلقات اور منڈی کی اراضی پر شروع ہونے والی مبینہ مستقل تعمیرات کے حوالے سے متعدد اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ معاملہ اب صرف ایک ٹینڈر کی رقم تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے ساتھ سرکاری اراضی کے مستقبل، بورڈ کے ریونیو، ٹینڈرنگ کے طریقہ کار اور انتظامی نگرانی کے بنیادی سوالات بھی جڑ گئے ہیں۔بھاٹہ چوک منڈی مویشیاں راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے اہم ریونیو ذرائع میں شمار ہوتی ہے۔دستیاب ریکارڈ کے مطابق 2023 میں منڈی کا کنٹریکٹ 8 کروڑ 95 لاکھ روپے میں نیلام ہوا، 2024 میں یہ رقم بڑھ کر 10 کروڑ 99 لاکھ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ 2025 میں منڈی کا ٹھیکہ 16 کروڑ 57 لاکھ روپے میں نیلام کیا گیا۔2025 کی نیلامی میں 24 بولی دہندگان نے حصہ لیا اور معین خان نے سب سے زیادہ بولی دی۔2026 کے حوالے سے مارچ میں سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ نے منڈی مویشیاں اور پارکنگ کے لیے 40 کروڑ روپے بیس پرائس مقرر کی تھی، تاہم ابتدائی مرحلے میں 20 کروڑ روپے کی بولی موصول ہوئی، جو مقررہ بیس پرائس سے کم تھی، جس کے باعث دوبارہ نیلامی کا فیصلہ کیا گیا۔ بعد ازاں ذرائع نے دعویٰ کیا کہ دوبارہ ہونے والی بولی میں بھاٹہ چوک منڈی مویشیاں کا معاملہ 28 کروڑ ایک لاکھ روپے تک پہنچا۔ تاہم اس رقم کی آزادانہ سرکاری تصدیق تاحال سامنے نہیں آ سکی، اس لیے اسے ذرائع کے دعوے کے طور پر ہی بیان کیا جا رہا ہے۔معاملے کا ایک اہم اور غیر معمولی پہلو ٹینڈر کی مدت ہے۔ ذرائع کے مطابق عام طور پر کنٹونمنٹ بورڈ کی منڈی مویشیاں کی بولی ایک سال کے لیے ہوتی رہی ہے، تاہم اس مرتبہ مبینہ طور پر 28 کروڑ ایک لاکھ روپے کی بولی تین سال کی مدت کے لیے کی گئی ہے۔اگر یہ تفصیل درست ہے تو تین سال کی مجموعی رقم کو سالانہ بنیاد پر تقسیم کرنے سے رقم تقریباً 9 کروڑ 33 لاکھ روپے سالانہ بنتی ہے، جو 2025 میں صرف ایک سال کے لیے ہونے والے 16 کروڑ 57 لاکھ روپے کے ٹینڈر کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ یہی پہلو یہ سوال اٹھاتا ہے کہ جب ماضی میں منڈی کی بولی سالانہ بنیادوں پر ہوتی رہی تو اس مرتبہ تین سال کی مدت مقرر کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟تین سالہ معاہدے کی منظوری کس مجاز اتھارٹی نے دی؟ کیا تین سال کی مدت مقرر کرنے سے پہلے گزشتہ برسوں کے ریونیو کا تقابلی جائزہ لیا گیا؟ کیا زمین کی بڑھتی ہوئی قدر، کاروباری سرگرمی اور مستقبل کے ممکنہ ریونیو کو مدنظر رکھا گیا؟ اور کیا معاہدے کی شرائط میں کنٹونمنٹ بورڈ کے مالی مفاد کا مکمل تحفظ کیا گیا؟ ان سوالات کا جواب اصل ٹینڈر فائل اور منظوری کے ریکارڈ سے ہی سامنے آ سکتا ہے۔ٹینڈرنگ کے طریقہ کار نے بھی معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ سرکاری خریداری کے عمل کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے e-Pak Acquisition & Disposal System (e-PADS) کا نظام مرحلہ وار نافذ کیا گیا، جبکہ PPRA کے تحت E-Pak Procurement Regulations 2023 بھی جاری ہو چکے ہیں۔ PPRA کے ریکارڈ میں Cantonment Boards کے procurement اور auction معاملات بھی موجود ہیں۔روزنامہ عوامی مشن نے اس پورے معاملے پر کنٹونمنٹ بورڈ کے سیکرٹری سے تفصیلی مؤقف حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا اور ان کے سامنے متعدد بنیادی سوالات رکھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ اتنا بڑا اور اہم ٹینڈر e-PADS کے بجائے کس طریقہ کار کے تحت کیا گیا؟ تین سال کے لیے معاہدہ کس بنیاد پر کیا گیا؟ معمول کے مطابق منڈی کی بولی ایک سال کے لیے ہوتی رہی ہے تو اس مرتبہ تین سالہ مدت کس اتھارٹی نے منظور کی؟ 28 کروڑ ایک لاکھ روپے کی رقم کیسے طے ہوئی؟ ٹرمز اینڈ کنڈیشنز کیا ہیں؟ کتنے بولی دہندگان نے حصہ لیا؟ کامیاب بولی دہندہ کا انتخاب کس طریقے سے ہوا؟ مبینہ تعمیرات کس کی اجازت سے ہو رہی ہیں اور بلڈنگ انسپکٹر کی رپورٹ پر کیا کارروائی کی گئی؟سیکرٹری کنٹونمنٹ بورڈ نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ تمام متعلقہ ریکارڈ اور معاملات کو چیک کرنے کے بعد منگل یا بدھ تک مکمل معلومات فراہم کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب کنٹونمنٹ بورڈ کے ٹینڈرز e-PADS کے تحت ہونا شروع ہو چکے ہیں، تاہم مذکورہ منڈی کا ٹینڈر جس وقت ہوا، اس وقت بورڈ میں e-PADS فعال نہیں تھا اور مذکورہ ٹینڈر e-PADS کے ذریعے نہیں کیا گیا۔سیکرٹری کے اس مؤقف کے بعد روزنامہ عوامی مشن کی تحقیقاتی ٹیم نے PPRA کے دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں electronic procurement کا عملی استعمال کب اور کس نوعیت سے ہو رہا تھا۔تحقیق کے دوران 2025 میں راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے نام سے متعدد Auction اور procurement records سامنے آئے۔ ان میں TS563389E — Auction، جو 27 مئی 2025 کو مشتہر ہوا اور 16 جون 2025 اس کی closing date تھی، TS561945E — Auction، جو 7 مئی 2025 کو مشتہر ہوا اور 26 مئی 2025 اس کی closing date تھی، جبکہ TS564266E — Auction بھی RCB کے نام سے 12 جون 2025 کو درج ہوا، جس کی closing date 8 جولائی 2025 تھی۔یہ ریکارڈ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ 2025 میں RCB کے مختلف Auction اور procurement معاملات PPRA کے electronic record پر موجود تھے۔ لیکن یہی صورتحال بھاٹہ چوک منڈی کے معاملے میں ایک بنیادی سوال ضرور پیدا کرتی ہے کہ اگر 2025 میں RCB کے دیگر Auction اور procurement معاملات PPRA کے electronic system پر موجود تھے تو کنٹونمنٹ بورڈ کی اہم ترین ریونیو دینے والی منڈی کا 28 کروڑ ایک لاکھ روپے کا مبینہ تین سالہ معاہدہ e-PADS کے ذریعے کیوں نہیں کیا گیا؟کیا اس مخصوص ٹینڈر کو e-PADS سے مستثنیٰ رکھنے کا کوئی تحریری حکم موجود تھا؟ اگر تھا تو کس مجاز اتھارٹی نے جاری کیا؟ کیا ٹینڈر فائل میں اس استثنیٰ کی منظوری موجود ہے؟ کیا بھاٹہ چوک منڈی کے لیے کوئی الگ قانونی یا انتظامی mechanism اختیار کیا گیا؟ یہی وہ سوالات ہیں جن کا جواب اس ٹینڈر کے قانونی اور انتظامی طریقہ کار کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔روزنامہ عوامی مشن کی تحقیقاتی ٹیم اس بنیادی سوال کا حتمی جواب حاصل کرنے سے ابھی تک قاصر ہے کہ جب RCB کے متعدد معاملات 2025 میں PPRA کے electronic procurement record پر موجود تھے تو بھاٹہ چوک منڈی مویشیاں جیسے کروڑوں روپے کے انتہائی اہم ٹینڈر کو e-PADS کے ذریعے کرانے سے گریز کی اصل وجہ کیا تھی۔اسی لیے روزنامہ عوامی مشن اس معاملے پر سیکرٹری کنٹونمنٹ بورڈ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ سے دوبارہ تحریری مؤقف حاصل کرے گا تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اس مخصوص ٹینڈر کے لیے e-PADS استعمال نہ کرنے کی قانونی، انتظامی اور تکنیکی وجہ کیا تھی، کیا کسی مجاز اتھارٹی نے کوئی استثنیٰ دیا تھا اور اگر دیا تھا تو اس کا تحریری ریکارڈ کہاں موجود ہے۔دوسری جانب ذرائع کی جانب سے الزام سامنے آیا ہے کہ مبینہ طور پر مرکزی کنٹریکٹر نے دیگر ممکنہ کنٹریکٹرز کے ساتھ ملی بھگت کرکے ٹینڈر کو ’’پول‘‘ کیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس مبینہ پول کے نتیجے میں ٹینڈر میں شامل بعض دیگر افراد کو رقم ادا کی گئی اور 12 لاکھ روپے کی مبینہ ادائیگی کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔اس معاملے میں روزنامہ عوامی مشن نے متعدد اہم شواہد حاصل کر لیے ہیں، جبکہ بعض شواہد اور معلومات کا حصول ابھی باقی ہے۔ مزید شواہد موصول ہونے اور ان کی جانچ پڑتال کے بعد یہ بھی سامنے لایا جائے گا کہ مبینہ طور پر 12 لاکھ روپے کی ادائیگی کن کن افراد کو کی گئی، کس مقصد کے لیے کی گئی اور اس کا ٹینڈر کے عمل سے کیا تعلق تھا۔ذرائع کی جانب سے اس ٹینڈر کے حوالے سے ایک اور نہایت سنگین الزام یہ بھی سامنے آیا ہے کہ انتظامیہ کے بعض اہلکاروں کو مبینہ طور پر ٹینڈر حاصل کرنے کے لیے 12 کروڑ روپے تک رشوت دینے کی باتیں گردش کر رہی ہیں۔ اس الزام کی ابتدائی سطح پر روزنامہ عوامی مشن کی جانب سے بھی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، جبکہ اس حوالے سے کافی حد تک شواہد اور اہم معلومات سامنے آ چکی ہیں۔ مزید دستاویزی شواہد اور متعلقہ معلومات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور بہت جلد اس معاملے کے حوالے سے مکمل تحقیق، دستیاب شواہد اور اہم حقائق عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔یہ الزام اپنی نوعیت میں انتہائی سنگین ہے اور اس کی حتمی حیثیت مکمل دستاویزی شواہد، متعلقہ ریکارڈ اور سرکاری تحقیقات سے ہی واضح ہو سکتی ہے۔ اگر کسی سرکاری اہلکار کو ٹینڈر کے حصول کے لیے رشوت دیے جانے کا ثبوت سامنے آتا ہے تو معاملہ محض انتظامی بے ضابطگی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ قانونی کارروائی کا تقاضا کرے گا۔معاملے کا ایک اور اہم پہلو منڈی کے لیے مختص اراضی کے استعمال سے متعلق ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ منڈی کے ٹرمز اینڈ کنڈیشنز میں مبینہ طور پر یہ شرط شامل تھی کہ یہاں ہفتے میں صرف دو دن منڈی لگائی جائے گی۔ اگر یہ شرط واقعی معاہدے کا حصہ ہے تو سوال یہ ہے کہ منڈی کے لیے استعمال ہونے والی قیمتی سرکاری اراضی پر مستقل نوعیت کی دکانیں اور دیگر تعمیرات کس اجازت کے تحت شروع ہوئیں؟
فراہم کردہ تصاویر میں مبینہ طور پر دکانوں کی تعمیر کا عمل دکھائی دیتا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر نے موقع کی صورتحال کی رپورٹ تیار کرکے اعلیٰ حکام کو بھجوا دی ہے۔ اگر رپورٹ واقعی اعلیٰ حکام کو ارسال ہو چکی ہے تو یہ سوال بھی اہم ہے کہ رپورٹ موصول ہونے کے بعد مبینہ تعمیرات روکنے، ان کی قانونی حیثیت واضح کرنے یا ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟کیا کامیاب فریق کو مستقل تعمیرات کی اجازت معاہدے میں دی گئی تھی؟ کیا منظور شدہ نقشہ موجود ہے؟ کیا بلڈنگ برانچ سے اجازت حاصل کی گئی؟ اور اگر اجازت نہیں لی گئی تو تعمیراتی سرگرمی کس بنیاد پر جاری ہے؟قیمتی سرکاری اراضی کے استعمال کا یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ماضی میں مختلف سرکاری اداروں کی لیز شدہ یا زیرِ استعمال زمینوں پر غیر مجاز تعمیرات، قبضوں اور اصل مقصد سے ہٹ کر استعمال کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ اسلام آباد میں بھی سرکاری اراضی اور تجاوزات کے خلاف کارروائیاں حکومت کی ترجیحات میں شامل رہی ہیں۔ اسی تناظر میں سوال یہ ہے کہ اگر کنٹونمنٹ بورڈ کی زمین کسی مخصوص مدت اور مقصد کے لیے دی جاتی ہے تو بعد میں مستقل نوعیت کی تعمیرات یا قبضے کی صورت حال کیوں پیدا ہوتی ہے؟ کیا زمین کے استعمال کی مسلسل نگرانی کا مؤثر نظام موجود ہے؟ اور کیا بھاٹہ چوک کی زمین کے معاملے میں بھی مستقبل میں ایسا خطرہ موجود ہے؟ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آ رہا ہے کہ جس فریق کے نام پر مذکورہ بولی جانے کی بات کی جا رہی ہے، اس کے راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں تعینات ایک سینئر افسر سے قریبی تعلقات ہیں۔ ذرائع مزید دعویٰ کرتے ہیں کہ مذکورہ سینئر افسر کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے اور کامیاب بولی دہندہ کے ساتھ قریبی رشتہ داری کا تعلق بھی بتایا جا رہا ہے۔اس دعوے کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، تاہم اگر کسی سرکاری افسر کے کامیاب بولی دہندہ کے ساتھ براہِ راست یا بالواسطہ کاروباری یا خاندانی مفادات وابستہ ہوں تو یہ ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کا اہم سوال بن سکتا ہے۔ اسی لیے کامیاب بولی دہندہ کا نام، متعلقہ افسران سے اس کے تعلقات، ٹینڈر کمیٹی کی کارروائی، بولی کی مکمل تفصیلات اور تین سالہ معاہدے کی منظوری کا ریکارڈ سامنے لانا ضروری ہے۔دوسری جانب شہری اور کاروباری حلقوں نے ڈائریکٹر جنرل ملٹری لینڈز اینڈ کینٹونمنٹس، چیف ایگزیکٹو آفیسر راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بھاٹہ چوک منڈی مویشیاں کے ٹینڈر کی شروع سے آخر تک مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ انکوائری کرائی جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں ٹینڈر نوٹس، بولی کی مکمل کارروائی، تمام بولی دہندگان کی تفصیلات، کامیاب بولی دہندہ کا نام، تین سالہ معاہدے کی قانونی حیثیت، مکمل ٹرمز اینڈ کنڈیشنز، زمین کے استعمال کا مقصد، ادائیگیوں کا ریکارڈ، مبینہ 12 لاکھ روپے کی ادائیگی، 12 کروڑ روپے تک رشوت کے الزامات، کامیاب پارٹی اور متعلقہ افسران کے ممکنہ تعلقات، بلڈنگ انسپکٹر کی رپورٹ اور مبینہ تعمیرات سمیت ہر پہلو کا جائزہ لیا جائے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر معاہدے میں ہفتے میں صرف دو دن منڈی لگانے کی شرط موجود ہے تو اس شرط سے ہٹ کر مستقل دکانیں یا دیگر تعمیرات قائم کرنے کی اجازت کس نے دی، یہ بھی واضح کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح اگر سرکاری زمین مخصوص مقصد اور مدت کے لیے دی گئی ہے تو اس کے استعمال کی نگرانی اور معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔بھاٹہ چوک کی اراضی معمولی نوعیت کی زمین نہیں بلکہ کنٹونمنٹ بورڈ کی قیمتی سرکاری ملکیت ہے، جس سے ادارے کو ہر سال کروڑوں روپے کا ریونیو حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے شہریوں کے مطابق کسی فرد، ٹھیکیدار یا اہلکار کو نیلامی کی آڑ میں معاہدے کی شرائط سے تجاوز کرنے، مستقل تعمیرات قائم کرنے یا سرکاری اراضی کے استعمال میں ایسی تبدیلی کی اجازت نہیں دی جا سکتی جس سے مستقبل میں ادارے کا کنٹرول کمزور پڑ جائے۔اب اصل امتحان کنٹونمنٹ بورڈ کی اعلیٰ انتظامیہ اور ملٹری لینڈز اینڈ کینٹونمنٹس کے متعلقہ حکام کا ہے کہ وہ مکمل ریکارڈ سامنے لا کر واضح کریں کہ 28 کروڑ ایک لاکھ روپے کی مبینہ بولی کس کے نام ہوئی، تین سالہ مدت کس بنیاد پر مقرر کی گئی، e-PADS کے بغیر ٹینڈر کا قانونی و انتظامی طریقہ کار کیا تھا، 2025 کے دیگر RCB Auction کے مقابلے میں اس ٹینڈر کے لیے مختلف طریقہ کار کیوں اختیار کیا گیا، مبینہ پول اور 12 لاکھ روپے کی ادائیگی کے الزامات میں کتنی حقیقت ہے، 12 کروڑ روپے تک رشوت کے الزام کی کیا حیثیت ہے، کامیاب بولی دہندہ کے متعلقہ افسران سے کیا تعلقات ہیں، مبینہ طور پر ہفتے میں دو دن منڈی لگانے کی شرط کے باوجود مستقل تعمیرات کس کی اجازت سے ہوئیں اور بلڈنگ انسپکٹر کی رپورٹ پر کیا کارروائی کی گئی۔یہ سوالات محض کسی ایک فرد یا ٹھیکیدار کے خلاف الزام نہیں بلکہ ایک قیمتی سرکاری اثاثے کے شفاف استعمال، کنٹونمنٹ بورڈ کے ریونیو، ٹینڈرنگ کے نظام اور انتظامی جواب دہی سے متعلق ہیں۔ اگر ٹینڈر، معاہدہ، ادائیگیاں اور تعمیرات قواعد کے مطابق ہیں تو مکمل ریکارڈ سامنے آنے سے تمام ابہامات ختم ہو سکتے ہیں، اور اگر کسی مرحلے پر بے ضابطگی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کا تعین بھی اسی ریکارڈ اور غیر جانب دارانہ انکوائری سے ممکن ہوگا۔روزنامہ عوامی مشن اس معاملے کی تحقیق جاری رکھے گا۔ 12 لاکھ روپے کی مبینہ ادائیگی، 12 کروڑ روپے تک رشوت کے الزام، ٹینڈر کے ممکنہ پول، e-PADS کے استعمال نہ ہونے، تین سالہ معاہدے، زمین کے استعمال، مبینہ تعمیرات اور متعلقہ افسران کے ممکنہ تعلقات کے حوالے سے مزید شواہد اور معلومات موصول ہونے پر انہیں بھی صحافتی اصولوں کے مطابق عوام کے سامنے لایا جائے گا۔


