25

حشرات کی دنیا اور ’’ایس آئی ٹی‘‘ (SIT) ٹیکنالوجی

حشرات کی دنیا اور ’’ایس آئی ٹی‘‘ (SIT) ٹیکنالوجی

حشرات اس کرۂ ارض پرپانے جانے والی سب سے زیادہ نمایاں حیثیت والی مخلوق ہے جو کہ نہ صرف تعداد میں زیادہ ہے بلکہ کرہ ارض کے ہر خطے پر اس کی موجوگی کے اثرات ملے گے جانوروں کے گروپ کی بہترین نمائندگی حشرات ہی کرتی ہیں، تاہم ان میں بہت کم تعداد میں مویشوں اور انسانوں میں بڑے پودوں کے کیڑے یا جینز کے ویکسٹر ہیں۔ 

حشرات الارض کی آبادی پر قابو پانے کے لیے کئی دہائیوں سے کیڑے مار ادویات کا استعمال ہے ،تاہم انسانی صحت اور موحولیات کے بارے میں خدشات کے ساتھ ساتھ کیڑے مار ادویات کے خلاف مزاحمت کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ نے زیادہ ماحول دوست اور پائیدار کیڑوں پر قابو پانے کے طریقوں جیسے جراثیم سے پاک کیڑوں کی تیکنیکSterile insect technique (SIT)پر زور دیا جارہا ہے گذشتہ کئی دہائیوں سےایس آئی ٹی تیکنیک کو پوری دنیا میں کیڑے مکوڑوں کی آبادی اور بیماریوں کے ویکسٹروں کے حملے کو دبانے اس پر قابو پانے مقامی طور پر ختم کرنے یا (دوبارہ) حملے کو روکنے کے لیےعلاقے بھر میں مربوط کیڑوں کے انتظام کی حکمت عملیوں کے حصے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ایس آئی ٹی کو1950 میں پہلی بار نیو ورلڈ اسکریوروم کو کلیومیا کے خلاف استعمال کیا گیا۔ بعد ازاں اس کا کامیاب تجربہ ایریاوائیڈ انسٹیگرئیڈ پیسٹ مینجمنٹ (AW-IPM)کے خلاف کیا گیا اور اس کے ٹریلز کے بڑے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے۔ 

اس تیکنیک میں حشرات کی کثیر مقدار کی ضرورت پڑتی ہے، جس کے لئے کثیر تعداد میں انڈوں کا دستیاب ہونا ضروری ہے۔ انڈوں کیRearing میں رکھا جاتا ہے جن کو مختلف درجۂ حرارت پر پروان چڑھا یاجاتا ہے اور بالآخر بالغ مختلف نشوونما کے مراحلے طے کرنے کے بعد تباہ کار شعاعوں سے گزر جاتا ہے، جس سے اس کا تولیدی نظام متاثر ہوتا ہے، تاہم اس طریقہ کار کے بعد اس آبادی کو بڑے پیمانے پر فلیڈ میںReleaseکیا جاتا ہے۔ 

ماحولیاتی آلودگی کوکم کرکے فضا میں حشرات کش ادویات کے تناسب کو کم کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ترقی پذیر ممالک میں اس کی افادیت اور اہمیت سے لوگ اب بھی ناپید ہیں۔ جب کہ ترقی یافتہ لوگ اس ٹیکنالوجی سے تیار کردہ پیداوار کو اہمیت دیتے ہیں، تاہم ترقی پذیر ممالک میں خوراک کی بڑھتی ہوئی مانگ کے تحت ہمیں اشد ضرورت ہے کہ ایس آئی ٹی ٹیکنالوجی کی افادیت کو سمجھا جائے اور کوشش کریں کہ اس کو حشرات کے خلاف استعمال کیا جائے۔

حشرات کی دنیا اور ’’ایس آئی ٹی‘‘ (SIT) ٹیکنالوجی

ترقی یافتہ ممالک میں زرعی اراض حشرات کش اسپرے سے مکمل شفاف ہیں۔ ان کی غذائی اجناس کی مارکیٹ میں قدر بہت زیادہ ہے جبکہ ہماری تیار کردہ پروکٹ کو عالمی منڈی میں وہ پذیرائی نہیں مل پاتی، جس کی ضرورت ہے، تاہم پاکستان میںAtomic nuclear کے کئی انسٹی ٹیوٹ ہیں جن میں NIAB اور NIA ٹنڈوجام شامل ہیں جب کہNCBI میں بھی اس ٹیکنالوجی کو روشناس کروانے کے ساتھ ساتھ ان کی لیپ میں کئی تجربات مختلف حشرات پرکئے جارہے ہیں جن میں فروٹ فلائی کا تجربہ بہت کامیاب رہا ہے ۔ اورفروٹ فلائی کو اس تیکنیک کے ذریعے مکمل کنٹرول کیا جاسکتا ہے اب تک ایس آئی ٹی کا بہترین استعمال کرنے والے ممالک میں چلی،گونلے، مالا، میکسیو،امریکا اور جاپان شامل ہیں جہاں پھلوں کی مکھوں کو مکمل طور پر اس ٹیکنالوجی سے کنٹرول کرلیاگیا ہے۔

ایس آئی ٹی ٹیکنالوجی نہ صرف کیڑوں کی آبادی کو ختم کرنے کی منفرد صلاحیت رکھتی ہے بلکہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور دیگولسیٹری شرائط کوبھی پورا کرتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی محلہ آور انواع(Invasive Sap)کے ابتدائی پھیلاو کو ختم کرنے کے لیے ایس آئی ٹی بذات خود ایک منفرد،بہترین اور طاقتور آلہ کار تصور کیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر ایس آئی ٹی تیکنیک کے ذریعے اسکریوورم کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ فلائیTsetse فلائی خربوزہ کی مکھیاں اسپڈ فروٹ فلائی، گلابی بول ورم وغیرہ کو کامیاب تجربات کے ساتھ کنٹرول کیا جارہا ہے،تاہم مالیکیولز مار کرکے ذریعے کھیت میں جاری جراثیم کش ادویات کا release بھی شامل ہے تاریخی شواہد کے مطابق 1930 اور 1940کی دہائیوں کے دوران اس تیکنیک کا آغاز کیاگیا۔ 

اس کے تصور کواُجاگر کرنے میں A.S serhrovskوہنڈیلاننک اور ای ایف نیکنگ کوجاتا ہے یہ وہ سائنسدان تھے جنہوں نے تاریخ میں پہلی دفعہ ایس آئی ٹی تصور اُجاگر کیا اور دنیا کو بتایا کہ حیاتیاتی دنیا میں حشرات کو بھی اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کنٹرول کرکہ زرعی اجناس کو بچایا جاسکتا ہے۔ ایس آئی ٹی تیکنیک ایک ماحول دوست خودکار طریقہ کار ہے۔ یہ امریکا میکسیکو اور وسطی امریکا میں بڑے پیمانے پر کئی مہلک حشرات کی روک تھام کے لیے استعمال ہورہا ہے۔ اس تنکینک کے ذریعے عموماً مچھرTSC TSC فلائی ،گلابی بول ورم کو باآسانی کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور یہ ہی حشرات پھلوں کے لیے بہت مہلک ثابت ہوتے ہیں۔

کیلی فورنیا میں مچھروں کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر لڑیلز1970میں لگائے گئے ،جس کے بڑے ہی حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے۔ ایس آئی ٹی کی باقاعدہ آغاز کے ساتھ ہی1940کی دہائی میں اس سے کئی Pestکیڑوں پر قابو پانے کے لیے مختلف جگہوں پر ٹریلز کا آغاز کیاگیا ہے جن میں کامیابی کے ساتھ کئی حشرات کو کنٹرول کیا گیا،تاہم اس تنکینک کے فروغ میںRad Sourceکابھی ایک کلیدی کردار رہا ہے۔ ایڈسورس ایک عالمی لائف سائنس لیڈر ہے جو ملیکتی ایکسرے ٹیکنالوجیز تیار کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محفوظ،ثابت اور قابل اعتماد ایکس رے شعاع ریزی کے آلات بناتا ہے جو پوری دنیا میں کیڑوں اور ویکسٹر سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے بوجھ کو کسی حد تک کم کرنے میں بڑی معاون ثابت ہوئیں ہیں۔ 

اس تییکنیک میں شعاع ریزی جیسا کہ گاما شعاعوں اور ایکس رے کے ساتھ بڑے پیمانے پر پائے جانے والے کیڑوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ایس آئی ٹی ٹیکنالوجی کے استعمال کے کئی اہم فوائد ہیں جن میں خاص کر فصلوں اور مویشیوں کی پیداوار کے نقصانات میں خاطر خواہ کمی، کیڑوں کے تعارف کی روک تھام کے ذریعے باغبانی اور مویشیوں کی صنعتوں کا تحفظQuarantine Restrictionsکے بغیر اعلیٰ قیمت کے ساتھ عالمی منڈیوں تک رسائی اور مزید یہ کہ برآمدات کے لیے موافق حالات کا فروغ دینا ہے، کیوں کہ ترقی یافتہ ممالک کی غذائی اجناس کی ضروریات اور بغیر حشرات کش اسپرے کی پیداوار کی مانگ بڑھ رہی ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی کے مثبت پہلوؤں کے ساتھ ساتھ کچھ خامیاں اور منفی رحجان بھی ہے جن میں عموماً کیڑوں کی کثیر تعداد کا مہیا نہ ہونا اور بعض اوقات کیڑوں کو بڑھتی تعداد میں چھانٹنے اور اس بات کا تعین کرنے کا کوئی سستا تیز یا موثر طریقہ نہیں ہے۔

ایس آئی ٹی ٹیکنالوجی کے ذریعے اب تک تقریباً حشرات کے اہم ترین سات گروپس کو مختلف تجربات سے گزر گیا ہے اور کئی گروپ کے تو بہت ہی حوصلہ افزا نتائج ملے ہیں۔ مزید یہ ہے یہ ٹیکنالوجی موجودہ دور میں حشرات پر قابو پانے کا سب سے زیادہ ماحولیاتی طور پر اہم ذریعہ ہے۔ یہ ایک اکیلی ٹیکنالوجی نہیں ہے بلکہ اس کو پورے علاقے کے پروگرام میں کیڑوں کے انتظام کی دیگر ٹیکنالوجز کے ساتھ مربوط کرکہ اور مزید بہتر اور بہترین کی طرف جانے کے لیے ایس آئی ٹی ٹیکنالوجی کوIPMحکمت عملی کے ساتھ مربوط کرناہوگا ۔مزید یہ ہے کہFAOاورIAEAکی حکمت عملیوں میں بھی ایس آئی ٹی و انفرادی حیثیت حاصل ہے اور وہ وقت دور نہیں جب جلد ہی یہ ٹیکنالوجی ترقی یافتہ ممالک کی طرح ترقی پذیر ممالک میں بھی عروج پرہوگی اور شاید ہماری آنے والی نئی نسلوں کو زہر آلودہ خوراک کے بجائے صاف اور شفاف ماحول میں صحت افزا خوراک میسر ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں