16

زمین پر پانی کیسے آیا؟

زمین پر پانی کیسے آیا؟

آج حیاتیاتی سائنس بہت ترقی کرچکی ہے لیکن اب بھی اس بارے میں تحقیق جاری ہے کہ زمین پر پانی کیسے آیا؟ کیا زمین پر ہم سے پہلے کوئی مخلوق رہائش پذیر تھی، جس نے پانی بنایا یا اس سب کے پیچھے وجہ کچھ اور ہی ہے؟ہم جانتے ہیں کہ زمین کا تین چوتھائی حصہ پانی ہے اور اس کا بڑا حصہ سمندری پانی پر مشتمل ہے جب کہ صرف 3 فی صدحصہ ’’صاف پانی‘‘پر مشتمل ہے۔

واضع رہے کہ ہم انسانوں کے لیے یہ 3 فی صد حصہ ہی پینے کے قابل ہےلیکن آج ہم اس صاف پانی کا بے دریغ استعمال کر کے اسے ناقابل استعمال بنا رہے ہیں۔اگر پاکستان میں موجودہ شرح کے مطابق پانی کا استعمال جاری رہا تو ماہرین کے مطابق 2025 تک اس ملک میں صاف پانی میسر نہیں ہوگا اور عوام ایک ایک بوند کو ترس جائے گی بہت سے لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ایک طرف تو سائنس داں کہتے ہیں کہ دنیا کا پانی ازل سے اب تک برابر ہے اور دوسری طرف پانی ختم ہونے کا ڈر پیدا کیا ہوا ہے۔

اس بات کا آسان سا جواب یہ ہے کہ دنیا میں ’’پانی ‘‘ازل سے موجود ’’پانی ‘‘کے برابر ہے لیکن ازل میں موجود ’’صاف پانی‘‘ کے مقابلے میں آج ’’صاف پانی‘‘ بہت کم ہے۔ ہم سب پانی کا استعمال تو کر رہے ہیں، لیکن بہت کم ہی ایسے لوگ ہیں جو صاف پانی بنانے کے بارے میں سوچ رہے ہوں، مگر کیا آج بھی ہم اسی طرح پانی بنا سکتے ہیں ،جس طرح تقریباً 3 ارب سال پہلے پانی زمین پر وجود میں آیا؟ اس بات کا جواب 100 فی صدیقین کے ساتھ تو نہیں دیا جا سکتا لیکن ہاں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پانی کے وجود کے بارے میں سائنس دانوں نے جو 2 نظریے پیش کیے ہیں ان کی حقیقت تسلیم کی جا سکتی ہے، سائنسدانوں کی جانب سے پیش کیے گئے نظریے درج ذیل ہیں۔

پہلا نظریہ

کیمیائی عمل کے نتیجے میں پانی کا زمین پر وجود ہوا،اس پہلے نظریے کے مطابق 3 ارب سال پہلے جب زمین کو وجود میں آئے ہوئے تقریبا ایک ارب سال گزر چکے تھے اور زمین آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہو رہی تھی تو اس پر کیمیائی عمل کے نتیجے میں پانی وجود میں آیا، یاد رہے کہ زمین بھی ہائیڈروجن اور ہیلیم گیس کے اسی بادل سے وجود میں آئی ،جس سے نظام شمسی کا سورج اور باقی سیارے وجود میں آئے۔ 

ماضی میں زمین ایک آگ کے گولے کی طرح تھی، جس میں مختلف معدنیات بھی موجود تھے، ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ ایٹم، جو مادّے کا بنیادی زرہ ہے، اس وقت دوسرے ایٹم سے مل کر تعلق بنائے گا جب اس کے آس پاس کا ماحول جس میں مخصوص درجۂ حرارت اور دباؤ شامل ہے وہ ملاپ کے لیے بہتر ہوگا۔

شروع میں زمین بہت گرم تھی، جس وجہ سے ایٹمز آپس میں مل کر کوئی نئے مالیکیولز (ایٹمز کا مجموعہ) بنا رہے تھے، لیکن جیسے جیسے زمین ٹھنڈی ہوئی ویسے ہی مختلف ایٹمز ملے اور نئے مالیکیولز پیدا ہوئے، یہ مالیکیولز بھی ایک دوسرے سے ملے اور مزید باریک مالیکیولز بنے، ان کے ملنے سے پہلا خلیہ (جانداروں کا بنیادی حصہ) جو کہ پہلا جاندار تھا فضاء میں آتش فشاں سے نکلنے والی ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس اور زمین میں موجود ہائیڈروکاربنز (ایسے مالیکیول جو ہائیڈروجن، کاربن اور آکسیجن سے مل کر بنے ہوں) خوراک کے طور پر لیتا اور اس سے توانائی حاصل کرتا رہا۔

ان چھوٹے جانداروں کا ایک ہی بنیادی اصول ہے کہ ہر 20 منٹ میں ایک سے 2 ہو جانا، اسی طرح ان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوتا گیا اور ان کی بہت سے نسلیں بھی پیدا ہوئیں، چوں کہ ارتقائی عمل کا آغاز ہو چکا تھا۔ لہٰذا بعد میں آنے والی نسلوں میں اپنے آباء کی نسبت تبدیلیاں آچکی تھی اور وہ فضاء میں آکسیجن گیس بنانے لگے۔

ان کی آبادی کے ساتھ ساتھ آکسیجن گیس میں اضافہ ہوں اور وہ جاندار جن کی مرکزی خوراک آکسیجن نہیں بلکہ ہائیڈروجن سلفائیڈ تھی ان کی آبادی مرنے لگی اور ختم ہو گئی۔ آہستہ آہستہ آکسیجن گیس کی وجہ سے کرہ ٔارض کے گرد ’’اوزون کی پٹی ‘‘بننے لگی، اس کے ساتھ ہی آکسیجن مٹی میں موجود دوسری معدنیات سے ملی اور اس کیمیائی عمل کے نتیجے میں پانی کا مالیکیول جس میں 2 ایٹم ہائیڈروجن اور ایک ایٹم آکسیجن کا ہوتا ہے وجود میں آیا۔

اس عمل کو کیمیائی ریڈکشن کہتے ہیں، چوں کہ ہائیڈروجن (معدنیات میں) اور آزاد آکسیجن (فضاء میں) دونوں کی وافر مقدار موجود تھی، لہٰذا پانی بھی تیزی سے بننے لگا اور زمین پر موجود تمام گڑھے پانی سے بھر گئے، سورج کی روشنی تو پہلے سے موجود تھی اس لیے بادل بننے کا عمل اور بارشوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا، جس سے زمین اور ٹھنڈی ہوتی چلی گئی اور مختلف اقسام کے جانداروں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔

دوسرا نظریہ

شہاب ثاقب کے ذریعے پانی کی زمین پر آمدبیسویں صدی میں سائنس دانوں کو شہاب ثاقب اور دمدار ستاروں کے بارے میں بہت کچھ نیا پتا چلا، ہم جانتے ہیں کہ شہاب ثاقب وہ پتھریلے مادّے ہیں جو نظام شمسی کے بننے کے ساتھ وجود میں آئے اور اگر ہم انہیں سیاروں اور سورج کے بننے میں باقی رہ جانے والا کچرا کہیں تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ سائنسدانوں نے زمین پر گرنے والے ان پتھروں کا مشاہدہ بھی کیا کہ آخر یہ پتھر بنے کس چیز کے ہوتے ہیں؟ 

ان کی جانچ سے نہ صرف ہمیں یہ زمین اور باقی سیاروں کی حالت زار کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل ہوئی، بلکہ یہ بھی پتا چلا کہ ان میں پانی بھی موجود ہے!چوں کہ اس وقت تک سائنسدانوں نے نظام شمسی میں زمین کے علاوہ کسی اور سیارے پر پانی نہیں دیکھا تھا، لہٰذا اس دریافت پر وہ بہت حیران ہوگئے، سائنسدانوں نے تحقیق سے یہ بھی پتا لگایا کہ زمین کے بننے کے فورا بعد زمین پر کئی سالوں تک ان سیارچوں کی بارش ہوتی رہی اور عین ممکن ہے کہ یہ سیارچے اپنے ساتھ پانی زمین پر لائے ہوں۔

اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ زمین پر پانی کا وجود صرف سیارچوں کی بارش سے ہی ہوا بلکہ اس پانی کا زیادہ حصہ کیمیائی ریڈکشن کی وجہ سے وجود میں آیا اور کچھ حصہ ان سیارچوں کی وجہ سے آیا ۔بہر حال ان دونوں نظریوں میں سے کسی ایک کو بھی غلط نہیں کہاجا سکتا، کیوں کہ دونوں ہی دلائل سے ثابت ہیں زمین پر پانی کے وجود میں ان دونوں عوامل کی اپنی حیثیت ہے، یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری زندگیوں میں پانی کیا اہمیت رکھتا ہے، ہم پانی کے بنا زیادہ سے زیادہ 5 دن تک رہ سکتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ صاف پانی کو ضائع ہونے سے بچائیں، تا کہ ہم خود بھی سکون میں رہیں اور ہماری آنے والی نسلیں بھی بہتر زندگی گزار سکیں۔

if($('.apester-media').length > 0) { var scriptElement=document.createElement('script'); scriptElement.type="text/javascript"; scriptElement.setAttribute="async"; scriptElement.src="https://static.apester.com/js/sdk/latest/apester-sdk.js"; document.body.appendChild(scriptElement); }

if($('.twitter-tweet').length > 0) { var tweetObj = document.getElementsByClassName('tweetPost'); var counter_tweet = 0; if (tweetObj.length == 0) { tweetObj = document.getElementsByClassName('twitter-tweet'); $.each(tweetObj, function (i, v) { $(this).attr('id', 'twitter-post-widget-' + i); }); } else { $.each(tweetObj, function (i, v) {

if($(this).find('.twitter-tweet').length > 0){ $(this).find('.twitter-tweet').attr('id', 'twitter-post-widget-' + counter_tweet); counter_tweet++; } }); } $.getScript('https://platform.twitter.com/widgets.js', function () { var k = 0; var tweet = document.getElementById('twitter-post-widget-' + k); var tweetParent, tweetID;

while (tweet) { tweetParent = tweet.parentNode; //tweetID = tweet.dataset.tweetId; tweetID = tweetParent.getAttribute("id"); if(tweetID === null){ tweetID = tweet.dataset.tweetId; } //var tweetVideoClass = tweet.getAttribute('class').split(' ')[0]; $(tweet).remove();

twttr.widgets.createTweet( tweetID, tweetParent ); k++; tweet = document.getElementById('twitter-post-widget-' + k); } }); /*==============*/ var tweetObjVid = document.getElementsByClassName('tweetVideo'); var counter_tweet = 0; if (tweetObjVid.length == 0) {

tweetObjVid = document.getElementsByClassName('twitter-video'); $.each(tweetObjVid, function (i, v) { $(this).attr('id', 'twitter-vid-widget-' + i); });

} else {

$.each(tweetObjVid, function (i, v) { if($(this).find('.twitter-video').length > 0){ $(this).find('.twitter-tweet').attr('id', 'twitter-vid-widget-' + counter_tweet); counter_tweet++; } });

} $.getScript('//platform.twitter.com/widgets.js', function () { var v = 0; var tweetVid = document.getElementById('twitter-vid-widget-' + v); var tweetParentVid, tweetIDVid; while (tweetVid) { tweetParentVid = tweetVid.parentNode; //tweetIDVid = tweetVid.dataset.tweetId; tweetIDVid = tweetParentVid.getAttribute("id"); if(tweetIDVid === null){ tweetIDVid = tweet.dataset.tweetId; } $(tweetVid).remove(); twttr.widgets.createVideo( tweetIDVid, tweetParentVid ); v++; tweetVid = document.getElementById('twitter-vid-widget-' + v); } }); }

if($('.instagram-media').length > 0){ var scriptElement=document.createElement('script'); scriptElement.type="text/javascript"; scriptElement.setAttribute="async"; scriptElement.src="https://platform.instagram.com/en_US/embeds.js"; document.body.appendChild(scriptElement); }

if($('.tiktok-embed').length > 0){ var scriptElement=document.createElement('script'); scriptElement.type="text/javascript"; scriptElement.setAttribute="async"; scriptElement.src="https://www.tiktok.com/embed.js"; document.body.appendChild(scriptElement); }

if($('.fb-video').length > 0 || $('.fb-post').length > 0){ var container_width = $(window).width();

if(container_width < 500){ if($('.fb-video').length > 0){ let embed_url = $('.fb-video').attr('data-href'); let htmla="

'; $('.fb-video').parent('.embed_external_url').html(htmla); } else{ let embed_url = $('.fb-video').attr('data-href'); let htmla="

'; } }

var scriptElement=document.createElement('script'); scriptElement.type="text/javascript"; scriptElement.setAttribute="async"; scriptElement.src="https://connect.facebook.net/en_US/sdk.js#xfbml=1&version=v2.11&appId=580305968816694"; document.body.appendChild(scriptElement); } } },100); var story_embed_gallery = $('.detail_gallery').find('.embedgallery').length; if(story_embed_gallery > 0){ var styleElement=document.createElement('link'); styleElement.type="text/css"; styleElement.rel="stylesheet"; styleElement.href="https://jang.com.pk/assets/front/css/swiper-bundle.min.css"; document.head.appendChild(styleElement);

var styleElement=document.createElement('link'); styleElement.type="text/css"; styleElement.rel="stylesheet"; styleElement.href="https://jang.com.pk/assets/front/css/colorbox.css"; document.head.appendChild(styleElement); } if($("#theNewsWidget").length > 0){ /*$("#theNewsWidget").load("https://www.thenews.com.pk/get_entertainment_news_widget");*/ $("#theNewsWidget").load("https://jang.com.pk/jang_english_news"); }

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں