زلزلے کی شدت اور تباہ کن اثرات

زلزلے کی شدت اور تباہ کن اثرات

ابھی ترکیہ اور شام آنے والے بدترین زلزلے کو آئے ہوئے چند ہفتے ہی گزرے تھے کہ 21 مارچ 2023 ء کو پاکستان اور افغانستان میں ریکٹر سکیل پر6.8کی شدت کا زلزلہ آیا، جس سے کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے اور تقریباً100 سے زیادہ عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

امریکن جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز افغانستان کے قصبے جرم سے 40کلومیٹر جنوب مشرق میں پاکستان اور تاجکستان کی سرحدوں کے قریب تھا۔ یورپین میڈی ٹرینین سیزمولوجیکل سینٹر کے مطابق زلزلے کو پاکستان ،ازبکستان ،تاجکستان ،قازقستان،کرغستان ،افغانستان، ترکمانستان اور چین کے تقریباً 285ملین افراد نے ہزار کلومیٹر کے علاقوں تک محسوس کیا۔

اس زلزلے کے فوراً ہی بعد افغانستان کے علاقے کوہ ہندوکش کے مرکز سے ریکٹر سکیل کے مطابق 3.7 شدت کے آفٹر شاک محسوس کیے گئے ۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ زلزلے پاکستان کے تقریباً تمام شہروں میں محسوس کیے گئے۔ زلزلے بنیادی طور پر زمین کے ارتعاش کا نام ہے جوکہ زمین کے اندر پائے جانے والی قدرتی پلیٹیوں کی اچانک غیر معمولی حرکات کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ زلزلے معمولی نوعیت سے لے کر شدید نوعیت کے ہو سکتے ہیں اور بعض اوقات اتنے خفیف ہوتے ہیں کہ عام آدمی کو اس کو پتہ ہی نہیں چلتا زلزلے کی ا سٹڈی کو سیزمالوجی (seismology)کہتے ہیں۔ 

اس ا سٹڈی میں زلزلے کی وجوہات شدت ، دورانیہ اور اقسام وغیرہ کو جانچا جاتا ہے۔ زلزلے کی شدت کو ریکٹر سکیل سے ناپا جاتا ہے جو چارلس فانسس ریکٹر (Charles Fancis Riciter) نامی شخص نے 1935 میں ایجاد کیا۔ اگر زلزلے کی شدت 5 یا 5 سے زیادہ ہو تو پھر زلزلہ تباہی پھیلا سکتا ہے ۔عام طور پر ایک بڑے زلزلے کے آنے سے پہلے چھوٹا زلزلہ آتا ہے، جس کو’’منی شاک‘‘ (mini shock) یا فار شاک کہتے ہیں۔ 

اس کے بعد بڑا زلزلہ آتا ہے جو کہ بڑی تباہی پھیلاتا ہے اس کے بعدفٹر شاک(after shock) کا زلزلہ آتا ہے جو کہ بڑے زلزلے کے بعد نمودار ہوتا ہے، آفٹر شاک اسی علاقے میں وقوع پذیر ہوتا ہے لیکن شدت میں بڑے زلزلے سے کم ہوتا ہے اور یہ زلزلے کے بعد زمین کے اندر پائے جانے والی پلیٹوں کی ری ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں ہوتا ہے۔

زلزلوں میں نقصان کی سب سے بڑی وجہ زمین کے اندر حل چل ہوتی ہے ۔ زلزلے دو طرح سے نقصان پہنچاتے ہیں پہلی وجہ زلزلے کی شدت ہے اور دوسری وجہ زلزلے کا دورانیہ ہے ایک شدید نوعیت کا زلزلہ کم وقت میں زیادہ نقصان پہنچا سکتاہے او ر ایک کم نوعیت کا زلزلہ زیادہ دورانیے میں نقصان پہنچا سکتا ہے۔ زلزلے عموماً زیادہ شدت اور لمبے دورانیے کے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ زلزلے کے مرکز سے نقصان بڑی تیزی سے نمودار ہوتے ہیں اور جتنا مرکز سے دور ہوتا جائے گا اس کی شدت اور اثرات کم ہو جائیں گے۔ 

یہاں یہ ابہام بھی دور ہو جانا چاہیے کہ زلزلے کے نتیجے میں زمین میں بڑے گہرے گڑے پڑھ جاتے ہیں ،جب کہ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔البتہ زمین میں چھوٹے کریک پڑ جاتے ہیں۔ زلزلے پوری دنیا میں وقوع پزیر ہو سکتے ہیں لیکن عموماً ان جگہوں پر زیادہ نمودار ہوتے ہیں جہاں زیا دہ ٹیکٹونیک پلیٹس پائی جاتی ہیں ۔ یہ بات بھی بڑی دلچسپی کی حامل ہے کہ وہ جگہ جہاں آتش فشاں پہاڑپھٹتے ہیں وہاں زلزلہ پہاڑ پھٹنے کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک بڑے زلزلے کے بعد کئی گھنٹوں بلکہ کئی دنوں تک آفٹر شاک محسوس کئے جا سکتے ہیں۔

آج کے جدید دور اور ترقی کے باوجود زلزلوں سے متعلق پیشن گوئی کرنا مشکل ہےکہ کب ،کس تاریخ ،وقت اور کہاں پر آئے گا۔ اس کا تعین کرنا بہت مشکل ہے اور نہ ہی زلزلے کا کوئی خاص مہینہ یا سال مخصوص ہوتا ہے، البتہ موجودہ ترقی کے دور میں کچھ انسانی افعال مثلاً کان کنی، ڈیم کی تعمیر ، ڈیم کے کے لیے ضرورت سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنا ،تیل دریافت کرنے کے لیے کنوں کے اندر پانی کو بھرنا جس کے باعث پانی زمین کے اندر گہرائی میں داخل ہو کر کریک پیدا کر سکتا ہے جو کہ چھوٹے پیمانے کے زلزلے کا باعث ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ زیرِ زمین ایٹمی دھماکے بھی معمولی زلزلے پیدا کر سکتے ہیں اور یہ دھماکے والی جگہ کے قریب ہی پیدا ہوتے ہیں یہاں یہ ابہام بھی دور ہونا چاہیے کہ چھوٹے زلزلے بڑے زلزلے کے پیش خیمہ ہو سکتے ہیں ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہوتا ان کا صر ف اتنا فائدہ ہو سکتا ہے کہ اگلے آنے والے زلزلوں کے لیے لوگ منصوبہ بندی کر لیں۔ انسانی ذہن میں اٹھنے والے اس سوال کے کہ کیا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زلزلوں کی شدت اور تعداد میں اضافہ ہور ہا ہے۔ بالکل بے بنیاد ہے زلزلے اسی رفتار سے آرہے ہیں اس میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا اس وقت انسانی تاریخ میں سب سے شدید زلزلہ 22 مئی1960 چلی میں آیا، جس کی شدت ریکڑ سکیل پر9.5ریکارڈ کی گئی۔

اگرچہ کہ جدید ہارپ (HAARP) ٹیکنالوجی کے ذریعے موسمیاتی و محولیاتی تبدیلیاں ممکن ہیں، جس کے ذریعے سیلاب ، بارشیں ،لینڈ سلائڈنگ،سونامی اور خشک سالی جیسی قدرتی آفات کو مصنوعی طور پرشدت سے پیدا کیا جاسکتا ہے اور اس جدید ٹیکنالوجی سے کسی بھی ملک اور خطے کو موسمیاتی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ مذکورہ ترکی اور شام میں بڑے پیمانے پر آنے والے حالیہ زلزلے کے بارے میں ہالینڈ کے کچھ سائنسدانوں نے مطلع کیا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان، افغانستان اور چین میں بھی ان زلزلوں کے تسلسل کے بارے میں خبر دار کیا تھا جوکہ سو فیصددرست ثابت ہوا ہے۔اس سے قبل 2021 میں پاکستان کے تین صوبوں کو متاثر کرنے والے سیلاب کو بھی اسی ٹیکنالوجی سے منسوب کیا جارہا ہے ،جس میں پاکستان کو تقریباً 3.3 ارب روپے کا نقصان ہوا اور جوکہ پاکستان کی کمزور معیشت کے لیے ایک بہت بڑا دھچکہ ثابت ہوا ہے اور اس کے پاکستانی معیشت ،معاشرت اور سیاست پر دوراثر اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

زلزلہ ایک ایسا عمل ہے، جس کوقدرتی و مصنوعی طور پر پیدا کیا جاسکتا ہے جوایک بڑی تباہی کا باعث بنتا ہے ۔البتہ اس کے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے ۔ اس ضمن میں زلزلے سے محفوظ عمارت کا ڈیزائن و تعمیر کے ڈھانچے کو بین الاقوامی معیا ر کے مطابق کھڑ ا کرنا چاہیے، تا کہ زلزلے کے طاقت ور جھٹکوں کو عمارتیں برداشت کر سکیں رہائشی کمرشل و کاروباری عمارت کے اندر ہنگامی انخلا کے پلان آویزاں کئے جانے چاہئیں ۔حکومتِ پاکستان کو زلزے اور آتش زدگی سے بچائو کے لیے بلڈنگ اور فائر سیفٹی کوڈز متعارف کرانے چاہئیں۔ اس حوالے سے وفاقی و صوبائی سطح پر ان عمور سے متعلق قانون سازی ہونی چاہیے۔

نئی قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے اور موجودہ فائر سیفٹی اور بلڈنگ سیفٹی قوانین پر وفاقی ، صوبائی اور مقامی حکومتوں کو عمل پیرا ہو نا چاہیے اور کسی بھی کمرشل صنعتی ورہائشی عمارت کی تعمیر میں احتیاطی تدابیر کو ملحوظ خاطر رکھا جائے جن سے لوگوں کی جانی ومالی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، اس کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتیں امریکاکو باور کرائیں کہ دنیاکے امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ہارپ (HAARP) ٹیکنالوجی کے تخریبی استعمال سے گریز کرے ،تاکہ آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنایا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں