بہ یک وقت سمندر اور ہوا سے کاربن کشید کرنے والی ٹیکنالوجی

بہ یک وقت سمندر اور ہوا سے کاربن کشید کرنے والی ٹیکنالوجی

امریکا کی اسٹارٹ اپ کمپنی نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ہی وقت میں ہوا اور سمندر کے پانی سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کشید کرنے کے ساتھ ہائیڈروجن کے بطور متبادل ایندھن بناکر موسمیاتی تغیر سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ موسمیاتی تغیر سے نمٹنے کے لیے بڑی بڑی ٹیکنالوجی اور آئل کمپنیاں دو حکمتِ عملیوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ پہلی حکمت عملی ماحول اور سمندر سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کشید کرنا جب کہ دوسری ماحول دوست متبادل ایندھن کا بنایا جانا ہے۔ کیلی فورنیا کی مقامی ٹیکنالوجی کمپنی ایک ساتھ تینوں امور انجام دے رہی ہے۔

اس کمپنی کے لاس اینجلس اور سِنگا پور میں قائم دو پائلٹ پلانٹ کام کر رہے ہیں۔ یہ پلانٹ سمندر سے پانی لیتے ہیں، پھر اس سے بجلی گزارتے ہیں۔ اس عمل سے پانی کے مالیکیول علیحدہ ہوجاتے ہیں، اور ہائیڈروجن مالیکیول نکال کر کمپنی ایندھن کے طور پر فروخت کردیتی ہے۔بجلی گزارنے سے یہ پانی دو حصوں میں بٹ جاتا ہے، جن میں سے ایک انتہائی ایسیڈک(تیزابی) اور دوسرا انتہائی لکلائن(بیسک) پانی ہوتا ہے۔ بیسک پانی میں گھلی ہوئی کیلشیئم کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ساتھ جڑ کر کیلشیئم کاربونیٹ بنا لیتی ہے۔

ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کشید کرنے کے لیے کمپنی اس ہی بیسک پانی سے ہوا گزارتی ہے، جس کے بعد گیس میگنیشیئم کاربونیٹ کی شکل میں ڈھل جاتی ہے۔ کمپنی کے مطابق کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ان منرلز میں پھنسا کر سمندر میں 10 ہزار سال سے زائد عرصے تک رکھا جاسکتا ہے اور ماحول میں شامل ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں