18

’’سورج‘‘ کرہ ارض پر زندگی اور توانائی کا عظیم منبع و مخرج

’’سورج‘‘ کرہ ارض پر زندگی اور توانائی کا عظیم منبع و مخرج

ناسا سولر ڈائنامکس آبزرویٹری نے سورج کی سطح پر نمونوں کو پکڑا ہے۔ بالائے بنفشی روشنی میں دیکھے جانے والے، یہ سیاہ دھبے کورونل ہولز کے نام سے جانے جاتے ہیں اور یہ وہ علاقے ہیں جہاں تیز شمسی ہوا خلا میں چلتی ہے۔ سورج کی سطح پر سیاہ دھبے، جن کو سن سپاٹ(Sun spot) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اگرچہ وہ سورج کے چہرے پر جھریاں کی طرح نظر آتے ہیں، لیکن وہ زمین سے کہیں زیادہ بڑے ہو سکتے ہیں۔

سن سپاٹ وہ علاقے ہیں جہاں میگنیٹک فیلڈ زمین کے مقابلے میں تقریباً 2500 گنا زیادہ مضبوط ہوتی ہے، جو سورج کی کسی بھی جگہ سے کہیں زیادہ ہے۔ مضبوط میگنینٹک فیلڈ کی وجہ سے میگنیٹک پریشر بڑھتا ہے جب کہ ارد گرد کے ماحول کا دباؤ کم ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کے گردونواح کی نسبت درجۂ حرارت کم ہوجاتا ہے، کیوںکہ concentrated میگنیٹک فیلڈ سورج کے اندرونی حصے سے سطح تک گرم، نئی گیس کے بہاؤ کو روکتا ہے۔ سن سپاٹ ان جوڑوں میں پائے جاتے ہیں جن میں میگنیٹک فیلڈ مخالف سمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ 

ایک عام سپاٹ ایک تاریک علاقے پر مشتمل ہوتا ہے جسے امبرا (umbra )کہا جاتا ہے، جس کے چاروں طرف ہلکا علاقہ(Lighter region) ہوتا ہے۔ جسے penumbra کہا جاتا ہے۔ سورج کے دھبے نسبتاً تاریک نظر آتے ہیں ،کیوںکہ سورج کے ارد گرد کی سطح (فوٹو سفیئر) تقریباً 10,000 ڈگری ایف ہے۔ جب کہ امبرا تقریباً 6,300 ڈگری ایف ہے۔ سورج کے دھبے کافی بڑے ہوتے ہیں جیسے کہ اوپر بتایا گیا ہے زمین سے بھی بڑے ہو سکتے ہیں۔ ہمارا سورج وہ ستارہ ہے ،جس کے گرد زمین اور نظام شمسی کے دیگر اجزا گھومتے ہیں۔ سورج بہت زیادہ توانائی کا منبع ہے، جس کا ایک حصہ زمین کو روشنی اور حرارت فراہم کرتا ہے جو زندگی کو سہارا دینے کے لیے ضروری ہے۔ 

سورج نظام شمسی کے مرکز میں واقع ہے، جہاں یہ اب تک کی سب سے بڑی چیز ہے۔ اس میں نظام شمسی کا 99.8 فی صد حصہ ہے اور یہ زمین کے قطر سے تقریباً 109 گنا زیادہ ہے – تقریباً 10 لاکھ زمینیں سورج کے اندر فٹ ہو سکتی ہیں۔ سورج کی سطح تقریباً 10,000 ڈگری فارن ہائیٹ گرم ہے، جب کہ مرکز میں درجۂ حرارت 27 ملین فارن ہائیٹ سے زیادہ تک پہنچ جاتا ہے، جو کہ نیوکلیئر ری ایکشنز کی وجہ سے ہوتا ہے۔ 

سورج ملکی وے میں 100 بلین سے زیادہ ستاروں میں سے ایک ہے۔ یہ کہکشاں کے مرکز سے تقریباً 25,000 نوری سال کے فاصلے پر چکر لگاتا ہے، ہر 250 ملین سال یا اس کے بعد ایک بار چکر مکمل کرتا ہے۔ سورج ، ستاروں کی ایک جنریشن کا حصہ ہے جسے پاپولیشن I کہا جاتا ہے، جو نسبتاً ہیلیم سے بھاری عناصر سے مالا مال ہیں۔ ستاروں کی ایک پرانی جنریشن کو پاپولیشن II کہا جاتا ہے، اور پاپولیشن III کی ایک پچھلی جنریشن موجود ہو سکتی ہے، حالاںکہ اس جنریشن کے کوئی ممبر ابھی تک معلوم نہیں ہیں۔

’’سورج‘‘ کرہ ارض پر زندگی اور توانائی کا عظیم منبع و مخرج

سورج کی پیدائش تقریباً 4.6 بلین سال پہلے ہوئی تھی۔ بہت سے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ سورج اور بقیہ نظام شمسی گیس اور دھول کے ایک بڑے، گھومنے والے بادل سے بنا ہے جسے’’ سولر نیبولا‘‘ کہا جاتا ہے۔ جیسے ہی نیبولا اپنی کشش ثقل کی وجہ سے گرا، یہ تیزی سے گھومتا اور ایک ڈسک میں چپٹا ہوگیا۔ سورج کی تشکیل کے لیے زیادہ تر مواد مرکز کی طرف کھینچا گیا۔ سورج کے پاس اتنا نیوکلیئر فیول موجود ہے کہ سورج اب سے مزید 5 ارب سال تک باقی ہے۔ اس کے بعد یہ پھول کر سرخ دیو بن جائے گا۔

آخر کار، یہ اپنی بیرونی تہوں کو بہا دے گا، اور بقیہ کور تباہ ہو کر وائٹ ڈوارف بن جائے گا۔ آہستہ آہستہ، سفید بونا ختم ہو جائے گا، اور ایک مدھم، ٹھنڈی نظریاتی چیز کے طور پر اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو جائے گا جسے ’’بلیک ڈوارف‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مرکز سورج کے مرکز سے اس کی سطح کے راستے کے ایک چوتھائی حصے تک پھیلا ہوا ہے۔ اگرچہ یہ سورج کے حجم کا تقریباً 2 فی صد بنتا ہے، لیکن یہ سیسہ(لیڈ(lead)) کی کثافت سے تقریباً 15 گنا زیادہ ہے اور سورج کی کمیت کا تقریباً آدھا حصہ رکھتا ہے۔ اس کے بعد ریڈی ایٹیو زون ہے، جو سورج کی سطح تک 70 فی صد راستے تک پھیلا ہوا ہے، جو سورج کے حجم کا 32 فی صد اور اس کی کمیت کا 48 فی صد بناتا ہے۔ کور سے روشنی اس زون میں بکھر جاتی ہے، تاکہ ایک فوٹون کو گزرنے میں اکثر دس لاکھ سال لگ جائیں۔

کور سورج کی سب سے اندرونی تہہ ہے اور تمام انرجی کا ماخذ بھی ہے۔یہاں مسلسل نیوکلیئر ری ایکشنز ہو رہے ہیں۔ نیوکلیئر ری ایکشن میں فیوژن (ایٹم کا ٹوٹنا) اور فیوژن (ایٹموں کا جڑنا) دونوں ری ایکشن ہوتے ہیں اور ان ری ایکشنز سے بہت زیادہ انرجی پیدا ہوتی ہے۔ کور سورج کی اندرونی تہوں کا 20 فی صد ہے۔ اس تہہ کا درجہ ٔ حرارت ڈیڑھ کروڑ کیلون (1.5 کروڑ کیلون) ہے. یہاں سے انرجی بننے کے عمل کے بعد خارج ہوتی ہے اور اوپر والی سطحوں کی جانب بڑھتی ہوئی باہر نکلتی ہے۔

’’سورج‘‘ کرہ ارض پر زندگی اور توانائی کا عظیم منبع و مخرج

ریڈی ایٹو زون سورج کو دوسری تہہ ہے جو اندرونی کور کے اوپر ہے۔یہ 25 فی صد سے شروع ہو کر باہر کی طرف 70 فی صد تک جاتی ہے۔ کور میں بننے والی انرجی اس سطح سے گزرتی ہے اور باہر کی طرف جاتی ہے۔کانویکٹو زون سورج کی سب سے بیرونی اور موٹی سطح ہے اور 2 لاکھ کلومیٹر (200،000km) گہری ہے. یہاں سے روشنی سورج کی بیرونی ماحول تک پہنچتی ہے۔

جب سورج کی کور میں ری ایکشنز ہوتے ہیں اور انتہائی انرجی کی وجہ سے گیسی مادّہ نچلی سطح سے اوپر کی جانب آتا ہے اور بلبلےکی طرح پھٹتا ہے اور انرجی خارج کرتا ہے جو پورے سولر سسٹم یعنی نظام شمسی تک پہنچتی ہے، کیوں کہ یہ بلبلہ بہت بڑا ہوتا ہے کچھ تو زمین کے سائز کے بھی ہوتے ہیں اس لیے ان سے انرجی کی بھی بڑی مقدار خارج ہوتی ہے۔انہیں کنویکشن سیلز بھی کہتے ہیں۔ ان کا دورانیہ 5 سے 10 منٹ سے لے کر 24 گھنٹے تک بھی ہو سکتا ہے۔سورج کی بیرونی سطح کا وہ حصہ جہاں ٹمپریچر نسبتاً کم ہو وہاں کالے رنگ کا دھبہ (Black sun spot) نظر آتا ہے۔ کچھ دھبے یعنی سن اسپاٹز زمین سے بھی بڑے ہوتے ہیں۔ 

اس کا ٹمپریچر 3800K ہوتا ہے جب کہ سورج کی سطح کا عموماً ٹمپریچر 5800K ہوتا ہے۔سورج کی بیرونی سطح یعنی وہ حصہ جو ہم دیکھ سکتے ہیں ’’فوٹو سفئیر‘‘ کہلاتا ہے، یہ سورج کی بیرونی سطح سے باہر 400 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے مزید اوپر والا حصہ’’ کروموسفئیر‘‘ کہلاتا ہے۔ جیسے جیسے سورج کے بیرونی ماحول سے اندرونی ماحول کی جانب جائیں گے تو شفاف سے دھندلا پن ہوتا جائے گا۔ 

سورج کے اندر انرجی فوٹونز کی صورت میں باہر نکلتی ہے، مگر ان فوٹونز کو سورج کی اندرونی سطح سے باہر نکلتے نکلتے کئی سال لگ جاتے ہیں، کیوں کہ اندرونی سطحوں سے جیسے جیسے باہر آئیں گے ماحول ڈینس (گاڑھا) ہوتا جائے گا۔سورج انتہائی گرم ہونے کی وجہ سے پلازمہ (مادہ کی چوتھی حالت) سے مل کر بنا ہے یا یہ کہہ لیں کہ سورج ہے ہی پلازمہ. (پلازمہ میں ایٹمز، آئنز اور الیکٹرانز موجود ہوتے ہیں)

سورج زمین پر زندگی کا ذمہ دار ہے۔ تمام زندگی اور انرجی کا پہلا ذریعہ سورج ہی ہے۔یہ ہماری زمین سے تقریباً 149 ملین کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اتنی دوری کے باوجود ہم اس کی گرمی اور تپش کو نا صرف محسوس کرتے ہیں بلکہ اس سے مختلف کام بھی لیتے ہیں۔ سورج کی گرمی کیا ہوتی ہے؟ سورج کی یہ گرمی ’’ہائیڈروجن‘‘ کے ایٹمز ہیلیم کی ایٹمز میں تبدیل ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ آسمان پر جتنے بھی ستارے آپ دیکھ رہے ہیں ان سب میں یہی عمل ہوتا ہے لیکن ہم سےبہت دور ہونے کی وجہ سے ان کی گرمائش ہم محسوس نہیں کرپاتے۔ لیکن وہ بھی ’’سورج‘‘ ہی کی طرح آگ اُگل رہے ہیں۔چونکہ سورج تک ہماری ٹیکنالوجی آسانی سے پہنچ سکتی ہے۔

اس وجہ سے ناسا نے 2018ء میں ’’پرکر سولر پروب‘‘ نامی ایک ایسا ’’اسپیس جہاز‘‘ بنایا، جو ہماری ’’سورج‘‘ کے قریب جاسکے، تاکہ ہم سورج کے متعلق زیادہ بہتر طریقے سے جان سکیں۔ چونکہ ہماری سورج کا در جہ ٔ حرارت پانچ ہزار سینٹی گریڈ ہے، جس کی وجہ سے اس کے قریب جانا اور اس کی گرمی کو برداشت کرنا ایک ناممکن سی بات ہے، لیکن یہ ’’خلائی جہاز‘‘ پرکر سولر پروب جس دھات سے بنایا گیا تھا وہ 2600 فارن ہائیٹ تک گرمی برداشت کرسکتا تھا۔ مذکورہ ’’خلائی جہاز‘‘پرکر سولر پروب میں ناسا کے انجینئرز نے مختلف قسم کے دھات استعمال کیے، جن کا نقطہ پھگلاؤ بہت زیادہ ہے۔ یہ ا سپیس جہاز 2018 کو سورج کی طرف روانہ کیا گیا۔ 

یہ ناسا کا واحد اسپیس جہاز ہے جو اپنی رفتار تقریباً 69 ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ تک بڑھا سکتا ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی خوبی ہے۔لیکن اس وقت یہ تقریبا پانچ لاکھ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے رواں دواں ہے، اس خلائی جہاز کا مقصد سورج کے سامنے سے قریب سے قریب تر ہوکر گزرنا ہے۔اس خلائی جہاز نے سورج کے گرد اب تک کئے چکر کاٹے ہیں اور تاحال تک موشن میں ہے۔ ناسا کےفلکیات دانوں کا کہنا ہے، کہ پرکر سولر پروب نے سورج کو تقریباً ایک کروڑ اور تیس لاکھ کلو میٹر قریب سے دیکھا ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

اس پرکر سولر پروب نامی جہاز کا انجینئرز سٹوارٹ بیل کے مطابق یہ خلائی جہاز 5 گھنٹوں کے دوران تقریبا تین مرتبہ اس لکیر کے اوپر اور نیچے سے ہو کر گزرا، جس سے سورج ایک کروڑ تیس ہزار کلو میٹر پر ہے۔ ناسا کا مزید کہنا ہےکہ سال 2025ء میں اُسے سورج سے 70 لاکھ کلومیٹر فاصلے تک پہنچ جانا چاہیے۔ اس نے سورج کے سب سے خطرناک علاقے میں بھی ایک بار غوطہ لگایا ہے۔ جہاں کا درجہ ٔحرارت بہت ہی زیادہ ہوتا ہے۔ مستقبل قریب میں مزید انکشافات اور راز افشاں ہونے کےقوی امکانات ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں