فضائی آلودگی اور حیاتیاتی بقاء کو لاحق خطرات

فضائی آلودگی اور حیاتیاتی بقاء کو لاحق خطرات

فضائی آلودگی کیا ہے؟ یہ دراصل فضا میں موجود مادّوں کی موجودگی ہے، جو انسانوں اور دوسرے حیات کی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے یا ہوا مادّی وسائل کو بڑی حد تک نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہے۔ ہوا کی ترکیب یا کوالٹی میں کوئی تبدیلی اس کو آلودہ کردیتی ہے، یہ تبدیلی دراصل دھوئیں اور مختلف مضر ذرّات کی آمیزش سے بنتی ہے۔ ان میں عام طو پر کیمیاوی کھادوں، کیڑے مار دواؤں کے اسپرے، فیکٹریوں، گاڑیوں اور انرجی پیدا کرنے والے یونٹ میں ایندھن کا چلنا، اینٹوں کی پھٹوں سے نکلنے والا دھواں کھیتوں میں فضلے کا جمع ہونا بدقسمتی سے یہ فضائی آلودگی خطرناک بیماریوں کے پیدا ہونے کا بڑا خطرہ تصور کی جاتی ہے۔ 

ان میں عام طور پر سانس، پھیپھڑوں کی بیماری، دل کی بیماری، سی او پی ڈی، اسٹروک، جلد کی بیماری ا ور کینسر جیسی مہلک بیماریوں کی فہرست شامل ہے۔ عموماً کاربن ڈائی آکسائیڈ کی زیادتی گرین ہاؤس انفیکٹ پیدا کرتی ہے، جس میں زمین حرارت میں بتدریج اضافہ ہونا، بھاری دھاتیں اور تابکاری والی شعاعیں، پودوں میں آبی حیات کو بری طرح متاثر کرتی ہیں، عموماً سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن آکسائیڈز کی وجہ سے تیزابی بارشیں ہوتی ہیں، ان بارشوں کے نتیجےمیں انسانی صحت آبی مخلوق کھیتوں اور عمارتوں کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دراصل ہوا میں اندرونی یا بیرونی طریقوں سے کچھ مہلک اجزا کا عمل دخل ہوا کو یکسر تبدیل کردیتا ہے، جس کی وجہ سے فضا آلودہ ہوجاتی ہے اور ہم جب اس فضا میں سانس لیتے ہیں تو ان گنت مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ آلودہ فضا میں رہنے والے باسی میں ناصرف ہم بلکہ تمام چرند پرند، آبی مخلوق بھی اس مہلک زد میں ہے۔ بدقسمتی سے فضائی آلودگی کی وجہ سے ماحول میں وہ زہر بھر چکا ہے کہ ایک ادنی حیات بھی محفوظ نہیں تصور کی جاسکتی اور اس کا رہنا بھی اس جہاں میں محال ہوگیا ہے۔ 

فضائی آلودگی کے چیدہ چیدہ مسائل میں صحت عالمی کو درپیش مسائل کے ساتھ ساتھ ماحول میں تبدیلیاں اور موسمی تغرات کا قبل از وقت وقوع پذیر ہوجانا ان تمام خطرات کی علامات ہیں جن کا عالمی سطح پر بلکہ پاکستان میں بھی آغاز ہوچکا ہے۔ بدقسمتی سے گرین ہاؤس ایفکٹ کے حوالے سے موسمیاتی تبدیلیوں میں پاکستان کا صرف ایک فی صد سے بھی کم حصہ ہے، جس کی وجہ سے یہ ملک دنیا میں5ویں نمبر پر غیر محفوظ ترین ملک تصور کیا جانے لگا ہے۔ آب و ہوا میں تبدیلی کے باعث شدید بارشیں اور2022ء کا سیلاب اس بات کا پیش خیمہ تھیں کہ اب ہم خطرے سے دور نہیں ہیں۔

بلکہ ملک میں خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے اور ہمیں ہنگامی اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔ فضائی آلودگی کئی اموات کا باعث بنتی ہے، دنیا میں ہر خطے میں حیات اس آلودگی کا شکار ہے، شکاگو یونیورسٹی کی حالیہ تحقیق کے مطابق صرف فضائی آلودگی کی وجہ سے اوسطاً پاکستانیوں کی متوقع عمر میں3.8سال کی کمی ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں کچھ اہم دھاتیں جن میں کیڈہم، مرکری، سیسہ، لوہا، کرومیم، تانبا اور کفل کا بے تحاشا استعمال بھی کئی امراض کو جنم دیتا ہے۔ 

جن میں خاص کر خون کا کینسر، لیوکیمیا وغیرہ شامل ہیں، نہ صرف یہ بلکہ یہ فصلوں اور آبی حیات کو بھی نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں، آبی ماحولیاتی نظام میں تیزابیت، نائٹروجن اور مرکری کے اثرات بڑی تیزی سے منظرعام پر آرہے ہیں۔ دراصل فضائی آلودگی جھیلوں کی تیزابیت کو بڑھاتی ہے اور مرکری کی سطح بڑھ کر آبی حیات کی زندگی مشکل بنادیتی ہے۔ ان دھاتوں کی کثرت عموماً پھیپھڑوں کی نشوونما کو روکتی ہے، اس کے نظام کو متاثر کرتی ہے ملک میں بڑھتے ہوئے دمے کا پھیلائو اور شدت کا بنیادی عنصر فضائی آلودگی ہی ہے، اس طرح فضائی آلودگی سے سالانہ کئی ملین اموات کا سامنا ہے جب کہ صرف پلاسٹک بیگ سے مرنے والے آبی جانداروں کی اموات کی شرح بھی بہت زیادہ ہیں۔ 

فضائی آلودگی کے نتیجے میں عالمی سطح پر گلوبل وارمنگ، تیزابی بارشوں اور اوزن کی سطح میں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ صرف پلاسٹک، تھیلیاں استعمال کرنے سے ہر سال ہزاروں، لاکھوں کی تعداد میں سمندری پرندے ممالیہ، کچھوے، سیل اور کئی دیگر سمندری جاندار اس کی زد میں آکر ہلاک ہوجاتے ہیں اور یہ ہلاکت ارتقائی عمل میں ایک خلا پیدا کررہی ہے۔ پاکستانی ساحلوں میں حیران کن حد تکGreen Turtleکی شرح میں کمی آلودہ پانی کے باعث ڈولفن کی نشوونما اور آبادی میں کمی اس طرح راہب سیل اور سیسفیک لاگر ہڈ سمندری مخلوق کی آبادیوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ 

فضا میں موجودہ کثیر مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور سلفر ڈائی آکسائیڈ بھی دمہ، برونیکل علامات پھیپھڑوں میں سوزش اور کینسر کا باعث بنتے ہیں، یہ امر بھی غور طلب ہے کہ زمین کی تاریخ میں ماحول کی ساخت ہمیشہ ہر لمحہ مثالی نہیں رہی ہے بلکہ یہ لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہے، پھر بھی زندگی کا ارتقا ہوا جیسا کہ آج سے ہزاروں ملین سال قبل زمینی ارتقاء کے دوران کئی بڑی ماحولیاتی آفاقت رونما ہوئیں اور نئی طرح کے حیاتیاتی انواع کا خاتمہ ہوا۔

یہ انسانی غیر قانونی سرگرمیاں ہی تھی جو فضا میں ان گنت مسائل کا پیش خیمہ بنی، عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش رفت کئی ذرائع میں مجبوراً اضافہ کرنا پڑا، جس میں غذائی اجناس کا حصول تھا، جس کے لیے کئی ملین ایکڑ اراضی کو زیر کاشت لاکر اور بہترین فصل حاصل کرنے کی غرض سے اس اراضی پر ملین Pesticide اور Insecticide کا اسپرے کیا گیا، یہ ہی وہ نقطہ آغاز تھا جب ماحول آلودہ ہونا شروع ہوا اور انسان نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے ہی بنائے ہوئے جال میں پھنس گیا۔ گھریلو جانوروں پر بھی فضائی آلودگی کے کئی مضر اثرات دیکھنے میں آئے ہیں، یہ آلودگی ان کے پھیپھڑوں کے نظام کو متاثر کرتی ہے، ان میں کئی طرح کے صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

مٹی کی آلودگی جس میں کیمیکل سیل یا زیر زمین رسائو سے خارج ہوتے ہیں اور مٹی میں ہائٹرو کاربن بھاری دھاتیں اور کلورسٹیڈ ہائیڈرو کاربن کی مقدار کو بڑھا دیتے ہیں جوکہ یقیناً مٹی کی زخیزی کو متاثر کرتی ہے، اس طرح تابکاری آلات اور تھرمل آلودگی نے بھی قدرتی آبی ذخائر میں درجۂ حرارت کی زیادتی کی وجہ سے بہت بگاڑ پیدا کیا ہوا ہے۔ 

درحقیقت آلودگی نے بڑے پیمانے پر ماحول پر کئی منفی اثرات کو پیدا کیے ہیں اور اگر قدرتی وجوہات کا مشاہدہ کیا جائے تو بحری جہازوں سے پیدا ہونے والے فضائی آلودگی بادلوں کو تبدیل کرتی ہے، جس سے عالمی سطح پر درجۂ حرارت میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے ہی بے موسمی بارشیں اور موسم کی اچانک تبدیلی نے کئی طرح کے مسائل کو جنم دیا ہے۔ 

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آنے ولے حشرات یا دوسرے حیات اپنے زندہ رہنے کے لیے موزوں حالات اور رہنے سہنے اور کھانے پر کس ذریعہ پر انحصار کرے، عموماً جن پودوں پر یہ حشرات Feed کرتے ہیں، ان کی کاشت کا موسم تو کچھ اور ہوتا ہے، اس طرح ارتقائی عمل میں بھی ایک رکاوٹ کا باعث بن رہا ہے، اس طرح آتش فشاں کا پھٹ جانا اور پھٹنے کے دوران بڑی مقدار میں نقصان دہ گیس فضا میں خارج کرتے ہیں۔ 

ان میں بڑی تعداد میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح ہوتی ہے جوکہ نہ صرف انسانی جان بلکہ دوسرے جانداروں کے لیے بھی بہت مہلک ہے، اس طرح ہائٹروجن کی زیادتی، موسمیاتی تبدیلیوں کا باعث بنتی ہے اور تیزابی بارشوں کی فروانی جوکہ نئی ان گنت مسائل کو جنم دیتی ہیں، سلفر ڈائی آکسائیڈ یعنی جانوروں کے لیے بہت نقصان دہ ہے، اب کرۂ ارض پر مہلک بیماریوں کا گراف بڑھتا ہی چلا جارہا ہے، آتش فشاں پھٹنے سے دوسرے کئی مہلک گیسوں کے ساتھ ساتھ زہریلے کیمیکل شامل ہیں۔

ماحولیاتی آلودگی کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے دنیا بھر میں بہت سے اقدام نے مختلف قسم کی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ آلودگی کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے قانون سازی کی ہے۔ عالمی سطح پر نئی ماحولیاتی ایجنسیاں بڑا فعال کردار ادا کررہی ہیں۔ 1987ء میں اوزن ختم کرنے والے کیمیکل پر پابندی عائد کی گئی۔ اس کے کچھ خاطر خواہ نتائج بھی حاصل ہوئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے علاقائی یا ملک سطح پر وہ کون سے طریقہ کار ہیں جن کو اپنا کر فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے مناسب سدباب تلاش کیا جائے۔

توانائی کی بچت کو ممکن بنائیے، پرانے درخت زیادہ مقدار میں آکسیجن کے حصول کا ذرائع ہیں، یہ نہ صرف ہماری سانس کے لیے آکسیجن کا باعث ہیں بلکہ ماحول سے بھی کئی طرح کے مضر اثرات کو زائل کرنے پر مامور ہیں۔ لہٰذا ان کی کٹائی سے ہر ممکن حد تک اجتناب کیا جائے۔ گرین پاکستان کے حصول کو ممکن بنایا جائے۔ یاد رکھیں ،ہماری حیات اس ملک کی بقاء سے ہی ممکن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں