آسٹریلیا میں مسئلہ بیٹنگ کا نہیں بولنگ کا ہے، اظہر علی

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اظہر علی کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں مسئلہ بیٹنگ کا نہیں، بولنگ کا ہے، ٹیسٹ میچ اُسے ہرانے کےلیے میچ میں 20 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنا ضروری ہے۔

کراچی میں جیو نیوز کو انٹرویو میں اظہر علی نے کہا کہ کافی عرصہ ہوگیا آسٹریلیا میں پاکستانی بولرز ایک میچ میں 20 وکٹیں نہیں لے سکے ہیں، ان سیریز میں بیٹسمینوں نے رنز بھی بنائے مگر حریف کو آؤٹ نہ کر پائے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک آپ آسٹریلیا کو 300 کے اندر آؤٹ نہیں کریں گے، اس کو ہرانا مشکل ہوگا، بیٹرز نے تو ماضی میں بھی رنز کئے لیکن بولرز آؤٹ نہیں کرسکے۔

اظہر علی کا کہنا تھا کہ آپ وہاں جا کر 600 رنز تو نہیں کرسکتے، 400 یا 450 کرسکتے ہیں لیکن اس کے بعد اگر آسٹریلیا کو آؤٹ نہ کیا تو پھر دوسری اننگز میں پھنس جائیں گے۔

ایک سوال پر سابق کپتان نے کہا کہ پاکستان ٹیم سیریز میں اب بھی کم بیک کرسکتی ہے لیکن بولرز کو ذمے داری نبھانا ہوگی۔

پرتھ ٹیسٹ کے حوالے سے ایک سوال پر اظہر علی نے کہا کہ پرتھ میں فہیم اشرف یا سلمان علی آغا میں سے کسی ایک کو کھیلنا چاہیے تھا اور ان کی جگہ ایک اور اسپیشلسٹ بولر کو ٹیم میں ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ پرتھ میں پاکستان ٹیم 89 پر ضرور آؤٹ ہوئی مگر اس وقت تک وکٹ کافی مشکل ہو چکا تھا اور کافی غیر متوازی باؤنس تھا، ایسے میں آسٹریلین اٹیک کے سامنے پاکستانی بیٹنگ کا لڑکھڑانا غیر متوقع نہیں تھا۔

اظہر علی ان دنوں پریذیڈنٹ ٹرافی میں شریک ہیں، جس میں انہوں نے پیر کو ایس این جی پی ایل کی نمائندگی کرتے ہوئے سنچری اسکور کی، یہ ان کے کیریئر کی 49 ویں فرسٹ کلاس سنچری تھی۔

اظہر علی نے کہا کہ وہ 50 ویں سنچری کے بھی خواہشمند ہیں لیکن ریٹائرمنٹ واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اچھے نوٹ پر کرکٹ چھوڑنا چاہتے تھے، ہوسکتا ہے کہ 3، 4 میچز پہلے ہی چھوڑ دی لیکن اس وقت پلیئرز آنے لگے تو موقع مناسب سمجھا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں