2

ڈی جی ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس اور کنٹونمنٹ انتظامیہ کی رٹ پر سوال، بلال گجر کے زیر نگرانی ایک اور متنازع کمرشل مارکیٹ سامنے آ گئی

وارڈ 6 سے 9 میں آتے ہی پیر سیف اللہ کی مبینہ ملی بھگت سے سیل مارکیٹ بھی کھل گئی، پہلے سیاسی دباؤ کا جواز، اب نئی مارکیٹ کے قانونی ثبوت بھی پیش نہ کیے جا سکے

راولپنڈی (مدثر الیاس کیانی سے): راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے بلڈنگ انسپکٹر بلال گجر ایک مرتبہ پھر تنازع کا مرکز بن گئے ہیں۔ ان کے زیر نگرانی علاقے میں سبز اور سفید رنگ کے شٹروں پر مشتمل چھ دکانوں کی ایک نئی کمرشل مارکیٹ قائم ہونے کے بعد اس کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بلال گجر کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ تعمیرات منظور شدہ نقشے کے مطابق اور مکمل طور پر قانونی ہیں، تاہم متعدد بار مطالبے کے باوجود وہ منظور شدہ نقشہ، این او سی یا دیگر متعلقہ قانونی دستاویزات فراہم نہیں کر سکے۔ذرائع کے مطابق اس سے قبل بھی جب بلال گجر وارڈ 9 میں تعینات تھے تو پیر سیف اللہ کی مبینہ ملی بھگت سے قائم ایک مارکیٹ کو سیل کرنے کی کارروائی کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیا اور اس پر خوب داد سمیٹی گئی۔ تاہم صرف سات دن کے قلیل عرصے میں ہی سیل کی گئی مارکیٹ دوبارہ کھل گئی۔ذرائع کے مطابق بعد ازاں بلال گجر نے مبینہ طور پر مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ مارکیٹ ایک بااثر مقامی سیاسی شخصیت کی پشت پناہی کے باعث دوبارہ کھولی گئی اور وہ اسے رکوانے سے قاصر ہیں۔ ان کے بقول متعلقہ افراد نے مارکیٹ کے لوگوں کو ہدایت دے رکھی تھی کہ اگر کنٹونمنٹ بورڈ کا کوئی اہلکار کارروائی کے لیے آئے تو اسے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا جائے۔ اسی وجہ سے وہ مزید کارروائی نہیں کر سکے۔ذرائع کے مطابق مذکورہ مارکیٹ آج بھی مبینہ طور پر غیر قانونی حیثیت کے ساتھ قائم ہے۔ اس صورتحال پر شہری حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا اس کے پیچھے اتنا بااثر مافیا موجود ہے جس کے سامنے ڈی جی ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس، چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اور کنٹونمنٹ بورڈ کی پوری انتظامیہ بھی مؤثر کارروائی کرنے میں بے بس دکھائی دیتی ہے، یا پھر اس معاملے میں مبینہ طور پر اتنے بڑے مالی مفادات وابستہ ہیں کہ کوئی بھی ذمہ دار اس کے خلاف عملی کارروائی کرنے کو تیار نہیں۔ ان سنگین سوالات پر متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔اب انہی بلال گجر کے زیر نگرانی علاقے میں سبز اور سفید رنگ کے شٹروں پر مشتمل چھ نئی دکانیں قائم ہونے کے بعد ایک بار پھر کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ اگر یہ تعمیرات واقعی قانونی ہیں تو متعلقہ ریکارڈ، منظور شدہ نقشہ اور دیگر قانونی دستاویزات منظرِ عام پر کیوں نہیں لائی جا رہیں؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ محض زبانی دعوے کافی نہیں، بلکہ شفافیت کے لیے تمام ریکارڈ عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔کوئی بھی چاہے تو شواہد کے ساتھ اپنا موقف دے سکتا ہے جسکو ادارہ اپنی غیر جانبدرانہ پالیسی کے مطابق مناسب جگہ فراہم کرے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں