حکومت بھتہ لیوی ختم کرے، عوام کو ریلیف ملنے تک تحریک اور دھرنا جاری رہے گا۔
49 ہزار میگاواٹ پیداوری صلاحیت کے باوجود غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے معیشت کو 150 سے 200 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
آئی پی پیز کو کپیسیٹی پیمنٹ کے نام پر عوام کی جیبوں سے اربوں روپے دیے جا رہے ہیں، تاجر اور کسان تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے۔
پیرا فورس تاجروں کو ہراساں کرنے اور بھتہ وصولی کا ذریعہ بن چکی ہے۔

امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ کی وزیراعلیٰ ہاؤس چیئرنگ کراس احتجاجی دھرنے میں پریس کانفرنس
لاہور (عمرحیات چوہدری): جماعت اسلامی لاہور کے امیر ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے ملک میں جاری توانائی کے شدید بحران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بجلی کی کل طلب تقریباً 22 ہزار میگاواٹ ہے جبکہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 49 ہزار میگاواٹ موجود ہے۔ اس کے باوجود ملک بھر میں چار چار گھنٹے اور کئی علاقوں میں اس سے بھی زائد غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ محض 4 ہزار میگاواٹ کے شارٹ فال سے واضح ہوتا ہے کہ آئی پی پیز (IPPs) کم بجلی پیدا کر رہے ہیں اور عوام پر کپیسیٹی پیمنٹ کے نام پر بلاجواز ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ اس صورتحال سے معیشت کو 150 سے 200 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے اور معاشی سرگرمیوں میں 4 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔پریس کانفرنس میں نائب امیر جماعت اسلامی لاہور انجینئر اخلاق احمد اور ترجمان جماعت اسلامی پاکستان شکیل احمد ترابی سمیت دیگر اہم رہنما بھی موجود تھے۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے اعلان کیا کہ 3 ستمبر کی ملک گیر ہڑتال کے لیے تاجر برادری کی کامل حمایت حاصل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرنگ کراس دھرنے کو آج 16 روز مکمل ہو چکے ہیں اور جماعت اسلامی سروں پر کفن باندھ کر عوامی حقوق کے لیے میدانِ عمل میں ہے۔ اگر مطالبات کی منظوری کے لیے 116 دن بھی دھرنا دینا پڑا تو ہم اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔امیر جماعت اسلامی لاہور نے مزید کہا کہ حکومت عام آدمی، تاجر اور کسان کو ریلیف دینے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ ملکی زراعت تباہ ہو چکی ہے جبکہ بڑے جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں سے ٹیکس لینے کے بجائے سارا بوجھ عام شہری پر ڈال دیا گیا ہے۔ تاجر برادری پر مظالم کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “پیرا فورس” تاجروں کو ہراساں کرنے اور بھتہ وصولی کا ذریعہ بن چکی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ کو اس تمام صورتحال کا علم ہونے کے باوجود اسے ختم نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں احتجاجی دھرنے کا تیسرا مرحلہ جاری ہے، جبکہ لیاقت باغ میں جلسے کی اجازت نہ دے کر حکومت نے اپنی بزدلی کا ثبوت دیا ہے۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکمران ہم سے رجوع کریں تو ہم بھتہ، پیٹرولیم لیوی اور غیر ضروری ٹیکسوں کے خاتمے کا قابلِ عمل حل فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر اعلیٰ افسران اور وزراء حل نہیں بتا سکتے تو پھر ان کے عہدوں کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکمران، اعلیٰ افسران اور ججز فوری طور پر اپنی مراعات میں کمی کریں اور قومی وسائل کو اشرافیہ کے بجائے عام عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں۔