2

اولڈ گرانٹ کا ایک کروڑ دس لاکھ روپے کا معاملہ حل نہ ہوا، آر سی بی ڈرافٹ مین حمزہ کی مبینہ بے ضابطگیاں پھر سامنے آگئیں

دفعہ 256 کے نوٹسز کا سلسلہ، مبینہ سیلنگ کے بعد چند ہی منٹوں میں دکانیں دوبارہ کھولنے کے الزامات*

کراچی میں ایک زمانے میں پرچی مافیا (بھتہ) کا راج تھا، اب راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں بھی ’’نوٹس مافیا‘‘ کا راج شروع؟

ہم یہ کام شوق سے نہیں کرتے، اوپر والوں کی ڈیمانڈیں بہت زیادہ ہیں‘‘ ذرائع سے منسوب دعویٰ، خاموشی نے کئی سوالات کھڑے کر دیے

راولپنڈی (مدثر الیاس کیانی) کراچی میں ایک زمانے میں مبینہ پرچی مافیا (بھتہ) کا ایسا راج تھا کہ کسی صاحبِ حیثیت شخص کے گھر شام کو پرچی پہنچ جاتی تھی اور مطالبہ پورا نہ کرنے کی صورت میں مبینہ طور پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں سامنے آنے والے بعض معاملات نے اب اسی طرز کے ایک مبینہ نظام کے خدشات کو جنم دے دیا ہے، جہاں ذرائع کے مطابق شہریوں کو پہلے نوٹس دیا جاتا ہے، کارروائی یا سیلنگ کی جاتی ہے اور بعد ازاں مبینہ مالی مفادات پورے ہونے پر وہی کارروائی ختم کر دی جاتی ہے۔اولڈ گرانٹ سے متعلق ایک کروڑ دس لاکھ روپے کے مبینہ معاملے کی بازگشت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے ڈرافٹ مین حمزہ کے حوالے سے مبینہ بے ضابطگیوں کا ایک اور معاملہ سامنے آگیا ہے، جس نے بورڈ میں نوٹسز کے اجراء، سیلنگ، ڈی سیلنگ اور نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق حمزہ کی جانب سے مختلف مقامات پر کنٹونمنٹس ایکٹ 1924ء کی دفعہ 256 کے تحت نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں۔ الزام ہے کہ بعض مقامات پر نوٹس جاری کرنے کے بعد دکانوں یا تعمیرات کو سیل کیا جاتا ہے، تاہم مبینہ طور پر مالی مفادات حاصل ہونے کے بعد انہیں دوبارہ کھول دیا جاتا ہے۔تازہ معاملے میں کشمیر روڈ، صدر کی پراپرٹی نمبر 74، 75 اور 75-A سے متعلق راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کا ایک باقاعدہ نوٹس بھی سامنے آیا ہے، جس پر 31 اگست 2026 کی تاریخ درج ہے۔نوٹس کے عنوان میں Notice Under Section 256 of the Cantonments Act 1924 درج ہے، جبکہ اس میں 6 اگست 2026 کے سابقہ نوٹس کا حوالہ دیتے ہوئے متعلقہ فریق کو مبینہ غیر قانونی تعمیرات ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔نوٹس میں متعلقہ فریق کو تین روز کے اندر غیر قانونی ڈھانچہ ختم کرنے کا حتمی موقع دیا گیا، جبکہ عدم تعمیل کی صورت میں demolition، removal اور sealing سمیت قانونی کارروائی کی تنبیہ کی گئی ہے۔نوٹس میں کارروائی پر آنے والے اخراجات بھی متعلقہ فریق سے وصول کرنے کا ذکر موجود ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ معاملے میں دکانیں سیل کرنے کے چند ہی منٹ بعد مبینہ طور پر رقم وصول کرکے دوبارہ کھول دی گئیں، جبکہ یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ متعلقہ نوٹس کو بعد ازاں مبینہ طور پر پھاڑ دیا گیا۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو سوال صرف ایک دکان کی ڈی سیلنگ کا نہیں بلکہ سرکاری نوٹس اور قانون کے نفاذ کے پورے طریقۂ کار کا ہے۔مزید اہم بات یہ ہے کہ اسی نوعیت کے ایک مبینہ آرڈر/نوٹس کی نقول متعدد مرتبہ سامنے آچکی ہیں۔ اب یہ بھی تحقیق طلب معاملہ ہے کہ ان نوٹسز پر درج دستخط واقعی متعلقہ مجاز افسر کے ہیں یا کسی اور ذریعے سے استعمال کیے گئے؟ کیا جس افسر کے دستخط نوٹس پر موجود ہیں، اسے اس کے اجراء اور بعد کی کارروائی کا علم بھی ہے؟اگر دستخط کسی افسر کی اجازت اور علم کے بغیر استعمال ہوئے ہیں تو یہ الگ سنگین معاملہ ہوگا، اور اگر باقاعدہ اجازت سے جاری ہوئے ہیں تو پھر یہ وضاحت ضروری ہے کہ دفعہ 256 کے تحت کارروائی کے بعد مبینہ ڈی سیلنگ کس قانونی اختیار کے تحت ہوئی۔حمزہ کے حوالے سے ماضی کا ریکارڈ بھی اس معاملے کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔ جیسا کہ ہماری سابقہ خصوصی اشاعت میں بھی نشاندہی کی گئی تھی، جب حمزہ کھاریاں میں تعینات تھے اور انہیں جہلم کاعارضی چارج حاصل تھا، اس دوران GLR Book میں مبینہ ٹیمپرنگ کے معاملے پر انکوائری بھی سامنے آئی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے میں ایک غریب شخص کو مبینہ طور پر قربانی کا بکرا بنایا گیا، جبکہ حمزہ نے اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے خود کو اس معاملے سے نکال لیا اور مبینہ طور پر زیادہ تر ملبہ اسی شخص پر ڈال دیا گیا۔بعد ازاں ان کی واہ کینٹ اور راولپنڈی میں تعیناتی کے دوران بھی مختلف شکایات اور مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملات سامنے آنے کا دعویٰ کیا جاتا رہا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اگر ایک اہلکار کے خلاف مختلف تعیناتیوں کے دوران شکایات اور انکوائریوں کے معاملات سامنے آتے رہے ہوں تو راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ اسے اتنی اہم اور حساس پوسٹ پر رکھنے کی کیا وجوہات ہیں؟بعض ذرائع کے مطابق ایسے اہلکار مبینہ طور پر یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ’’ہم یہ کام شوق سے نہیں کرتے، اوپر والوں کی ڈیمانڈیں بہت زیادہ ہیں، جنہیں پورا کرنے کے لیے ہمیں بھی اس طرح کے کام کرنا پڑتے ہیں۔‘‘ یہ دعویٰ کسی جرم کا ثبوت نہیں، تاہم متعدد بار نشاندہی کے باوجود اگر راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ انتظامیہ کی جانب سے ایسے معاملات پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے تو اس خاموشی سے مذکورہ دعوؤں کو تقویت ملنے اور کسی حد تک درست ثابت ہونے کا تاثر ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ’’دال میں کچھ کالا ہے‘‘۔اگر واقعی اعلیٰ افسران کا ان مبینہ معاملات سے کوئی تعلق نہیں اور وہ کسی قسم کی رقم یا حصہ وصول نہیں کرتے تو پھر وہ سامنے آکر واضح طور پر یہ مؤقف کیوں نہیں دیتے کہ ان پر عائد الزامات بے بنیاد ہیں؟ آخر انتظامیہ کس چیز کا انتظار کر رہی ہے یا کس مصلحت کے تحت خاموش ہے کہ ایک اہلکار سرِعام یہ تاثر دیتا رہے کہ مختلف عمارتوں یا معاملات کے عوض اوپر تک رقم پہنچائی جاتی ہے، جبکہ متعلقہ افسران کی جانب سے اس تاثر کی تردید تک سامنے نہ آئے؟اگر یہ الزامات من گھڑت ہیں تو انتظامیہ کو چاہیے کہ میڈیا کے ذریعے دوٹوک وضاحت کرے، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے اور اصل ریکارڈ سامنے رکھ کر ثابت کرے کہ ’’اوپر والوں‘‘ کا ان معاملات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ بصورت دیگر یہ خاموشی خود کئی نئے سوالات کو جنم دیتی رہے گی۔ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ میں بعض بااثر عناصر مبینہ طور پر اپنی پسند کے اہلکاروں کو اہم مقامات پر تعینات کرواتے اور انہیں اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ذرائع کے مطابق حمزہ ڈرافٹ مین کو مبینہ طور پر اس وقت سپورٹ اور سرپرستی فراہم کرنے والوں میں وزارتِ دفاع کے ایک سینئر جوائنٹ سیکرٹری کا نام بھی سرفہرست بتایا جا رہا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔اسی طرح ایک دوسرے سروے ڈرافٹ مین کے حوالے سے بھی نوٹسز کے ذریعے شہریوں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور مالی مفادات حاصل کرنے کی شکایات سامنے آنے کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔ اگر یہ شکایات بے بنیاد ہیں تو متعلقہ ریکارڈ سامنے لا کر انہیں مسترد کیا جا سکتا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ کنٹونمنٹس ایکٹ کی دفعہ 185 اور 256 کے تحت جاری ہونے والے نوٹسز کی قانونی وقعت کیا رہ جاتی ہے، اگر انہیں جاری کرنے کے بعد مبینہ طور پر چند منٹوں یا دنوں میں ختم کر دیا جائے؟
کیا کنٹونمنٹ بورڈ کے پاس ہر نوٹس کا مکمل ریکارڈ موجود ہے؟ کیا ہر سیلنگ اور ڈی سیلنگ کے لیے مجاز افسر کی تحریری اجازت حاصل کی جاتی ہے؟ کیا دستخط شدہ نوٹسز کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے؟ اور کیا انتظامیہ یہ تصدیق کرے گی کہ اس کے نام سے جاری ہونے والے تمام نوٹس واقعی مجاز افسران کی منظوری اور علم میں جاری ہوئے؟یہ معاملہ اب صرف ڈرافٹ مین حمزہ تک محدود نہیں رہا بلکہ کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں رہنے والے اور کاروبار کرنے والے متعدد شہریوں کا معاملہ بن چکا ہے، جو مبینہ طور پر ذہنی کوفت، دباؤ اور بلیک میلنگ جیسے حالات کا سامنا کررہے ہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ معاملہ اب راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے پورے نگرانی کے نظام، احتساب اور قانون کے نفاذ کے طریقۂ کار پر سوال بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ شہریوں کو اذیت اور پریشانی میں مبتلا کرنے کے لیے قائم ہے یا انہیں قانونی دائرے میں سہولیات فراہم کرنے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے؟ اگر عائد کیے گئے الزامات بے بنیاد ہیں تو اصل ریکارڈ سامنے لانے میں قباحت کس بات کی ہے اور حقائق کو واضح کیوں نہیں کیا جاتا؟ اور اگر بے ضابطگیاں ثابت ہوتی ہیں تو ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنے میں جھجک اور ڈر کس بات کا؟اسی حوالے سے ڈرافٹ مین حمزہ کا مؤقف لیا گیا تو انہوں نے واضح طور پر بتایا کہ انہوں نے جو کچھ بھی کیا، وہ اپنے انچارج اور اعلی افسران کے باقاعدہ احکامات پر کیا ہے۔ تاہم چیف ایگزیکٹو افسر سمیت کنٹونمنٹ بورڈ انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی واضح مؤقف یا وضاحت سامنے نہیں آئی اور خبر کی اشاعت تک انتظامیہ کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ انتظامیہ کا مؤقف موصول ہونے کی صورت میں اسے بھی شامل کیا جائے گا۔اب ضرورت صرف وضاحت کی نہیں بلکہ شفاف اور ذمہ دارانہ انکوائری اور ایکشن کی ہے، تاکہ یہ طے ہو سکے کہ دفعہ 185 اور 256 کے تحت جاری ہونے والے نوٹسز قانون کی عملداری اور ضابطے کی تکمیل کے لیے استعمال ہو رہے ہیں یا شہریوں پر دباؤ ڈالنے، انہیں ہراساں کرنے اور کسی مبینہ غیر قانونی یا غیر شفاف نظام کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں