88

صحافی بمقابلہ سرکاری افسر۔۔ ایری گیشن سب انجینئر عابد حسین کو صحافی عمر حیات چوہدری کی جانب سے باقاعدہ 05 کروڑ کا ہرجانہ لیگل نوٹس جاری



لیگل نوٹس بھیجتے ہوئے ایڈووکیٹ شکیل ادریس نے سرکاری افسر کو اس کا ہرجانہ ادا کرنے کیلئے مقررہ  15 دن کا ٹائم مقررکیا،  بعد ازاں یہ کیس عدالت سنے گی

جھوٹے مدعی نے بالآخر عدالت میں جھوٹے مقدمے کا اعتراف تحریری بیان کی صورت میں دیا ،  سرکاری افسر پرعدالت نے بھی نہائیت برہمی کا اظہار کیا

مشینری ڈویژن لاہور میں صحافی پر جھوٹی FIR   درج کروائی گئی تھی جس میں صحافی عدالت سے با عزت بری اور افسر مکمل طور پر ناکام ہو کر نکلے

سابقہ ایکسین احمد حسن نے  SDO  رائو اطہر اور سب انجینئر عابد سے مل کر صحافی پر غیر قانونی تشدد کیا اور من گھڑت وقوعہ بنا کر مقدمہ درج کروایا تھا

مقدمہ نمبر  1273/23  کے مطابق الزام لگایا گیا کہ ڈیپارٹمنٹ میں موجود تمام تر افسران و سٹاف کی موجودگی میں صحافی  سرکاری کمپیوٹر،لیپ ٹاپ لے گئے۔!

مقدمے کے اگلے دن ہی سیکرٹری آبپاشی نے سخت نوٹس لیا اورایکسین سمیت افسران و سٹاف کی موجودگی میں سرکاری سامان چوری ہونے پر افسران پر غصے کا اظہار کیا

دلچسپ امر یہ ہے کہ افسران نے صحافی کی دوران گرفتاری حوالات میں ہی معافی تلافی سمیت مقدمہ واپس لینے کے لئے منت سماجت کیں مگر صحافی نے ٹرائل کا فیصلہ کیا

مسلسل ڈھائی سال ٹرائل میں مدعی کی عدالت میں مسلسل غیر حاضریاں رہی، ثبوت ، گواہوں کو پیش کرنے میں مکمل ناکام رہے،  ہڈی گلے میں بری طرح سے پھنس گئی

صحافی نے باقاعدہ عدالت سے کنفرم ضمانت حاصل کر کے رہائی پائی اور اپنے مقدمے کو قانون کے مطابق چلایا،  جبکہ سرکاری افسران کو ہر سمت سے رسوائی کا دامن ہاتھ آیا

لاہور(کورٹ رپورٹر)  محکمہ آبپاشی پنجاب میں اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے اور صحافی پر جھوٹے مقدمے کا معاملہ سامنے آیا ہے ،  عدالت سے صحافی کو تمام تر الزامات سے باعزت بری کرنے کا آرڈر ملا جبکہ سرکاری افسران کو عدالت سے ہی شرمندگی سمیت ماتھے پر جھوٹے مقدمے کا کلنک سجانے کو بھی ملا صحافی نے سرکاری افسر کو باقاعدہ ہتک عزت ہونے پر 05کروڑ روپے ہرجانہ نوٹس بھی بھجوا دیا ہے  تفصیلات کے مطابق ماضی 12 ستمبر 2023 کو اختیارات کے نشے میں دُھت اس وقت کے ایکسین مشینری ڈویژن لاہور احمد حسن کی سربراہی میں ایس ڈی او رائو اطہر اور سب انجینئر عابد حسین نے صحافی عمر حیات چوہدری پر غیر قانونی تشدد کرنے سمیت من گھڑت وقوعہ بنا کر جھوٹی FIR   مقدمہ نمبر 1273/23   درج کروایاتھا  مقدمے کے مطابق صحافی پر الزام لگایا گیا کہ ڈیپارٹمنٹ میں موجود تمام تر افسران و سٹاف کی موجودگی کے دوران صحافی سرکاری کمپیوٹر،لیپ ٹاپ لے گیا۔!  حیرانگی ہے اتنے بڑے ڈیپارٹمنٹ میں موجود سینکڑوں افسران و سٹاف کی موجودگی میں نہتا آدمی بھلا ایسی حرکت کو ممکن کیسے کر سکتا ہے۔؟  اس من گھڑت وقوعہ بنانے اور صحافی پر سرکاری دفتر میں تشدد کا نشانہ بنانے پر سینئر صحافی فاروق راجپوت،ثمینہ شفیع ،میاں سہیل تاج،میاں شہزاد تاج، رانا مصور،جہانزیب خان کاکڑ سمیت دیگر کثیر تعداد میں صحافی برادری نے سیکرٹری ایری گیشن سے ملاقات کی اور ایکسین و ماتحت افسروں کی جانب سے اس غیر قانونی اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا سیکرٹری نے شدید برہمی اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس پر فوراً ایکشن لیا جس کے بعد جھوٹے مقدمے والے افسران نے اِن ڈائریکٹ و ڈائریکٹ دونوں صورتوں میں گرفتار صحافی عمر حیات سے حوالات میں رات گئے تک مسلسل مختلف اوقات میں کئی ملاقاتیں کیں اور معافی تلافی،درمیانہ راستہ نکالنے سمیت مقدمہ ہی واپس لینے کے لئے کہتے رہے مگر صحافی نے مسلسل اس کیس کا سامنا کرنے اور ٹرائل چلانے پر بضد رہے اور بالآخر 21 ستمبر کو عدالت سے کنفرم ضمانت حاصل کی اور پھر قانون کے مطابق مسلسل تقریباً ڈھائی سال اس کا ٹرائل بھگتا دلچسپ امر یہ ہے کہ سرکاری افسر سب انجینئر مدعی عابد حسین کی عدالت میں مسلسل غیر حاضریاں رہی مزید اس ٹرائل میں وہ ایک بھی ثبوت اور ایک بھی گواہ پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے جھوٹے مدعی اور سرکاری افسر نے بالآخر عدالت میں جھوٹے مقدمے کا اعتراف کرتے ہوئے تحریری بیان بھی دیا سرکاری افسر پرعدالت نے بھی نہائیت برہمی کا اظہار کیا  جس پر عدالت سے ہر سوں پشیماں اور رسوائی کا ہی سامنا رہا ، صحافی نے بھی سرکاری افسر کی جانب سے جھوٹے مقدمے پر اپنی عزت نفس کو مجروع ہونے پر باقاعدہ طور پر ایڈووکیٹ شکیل ادریس کی جانب سے  05  کروڑ روپے ہتک عزت / ہرجانہ کا لیگل نوٹس جاری کر دیا ہے اور اس میں ان کو 15 دن کا مقررہ وقت فراہم کیا گیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں