40

محکمہ آبپاشی کی مغل پورہ ایریگیشن ورکشاپ شیخوپورہ ڈویژن میں بوگس بھرتیوں کی مد میں 2 ارب 37 کروڑ 50 لاکھ غبن کرنے کا انکشاف

ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسران کا ملزمان پر ہاتھ ڈالنے سے گریز ملزمان کے ساتھ ملی بھگت کے مترادف۔۔!!

سال 2009ء تا سال 2025ء تک تعینات 16 ایگزیکٹو انجئنیرز ذاتی مالی فوائد کے لیے منظم مجرمانہ پریکٹس کو اعلی انتظامی آفسران کی آشیر باد سے آگے بڑھاتے رہے

قومی خزانے سے مبینہ چوری شدہ 2375 ملین روپے ریکوری والا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا قوم کی نظریں جم گئیں

مفادات کی منظر کشی دیکھتا اُونٹ آفیسر قبیلے سے بچ کر قومی خزانے کا رُخ کرے گا یا اِس قبیلے کے ہاتھوں ذبح ہو کر بندر بانٹ ہو گا۔؟

ذاتی تجوریاں بھرنے کی لالچ میں قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا کر حکومتی گڈ گورننس کی ساکھ کو منوں مٹی تلے دفنا دیا

شیخوپورہ ڈویژن کے مختلف سابقہ ایگزیکٹو انجینئرز 278 گھوسٹ ملازمین کو فرضی بھرتی اور فرضی ریٹائرڈ کرکے قومی خزانے سے خطیر رقم کو ذاتی جیبوں میں مںنتقل کرنا تشویشناک

چیف انجینئر ڈویلپمنٹ زون اور ایس ای میکینکل سرکل لاہور کا شامل جرم ہونے کے باوجود اپنی انہی سیٹوں پر ہی موجود رہ کر احتسابی اداروں کو منہ چڑھانے لگا

میگا کرپشن کی نشاندہی کے باوجود ایکسینز (مرکزی ملزمان) کا کھلم کھلا دندناتے پھرنا حکومتی مشینری سے ٹکر لے گیا

سنگین جرم کرنے والوں نے شرمناک اقدامات سے محکمہ کی ساکھ کو بری طرح سے پامال کیا، بظاہر محکمہ انہار کا ڈویلپمنٹ زون قومی خزانے پر بھاری بوجھ بن گیا

افسران بالا نے بھی میگا کرپشن اسکینڈل اور خطیر رقم کی ریکوری کا ڈھول اپنے گلے سے اُتار کر دوسرے ادارے کے گلے ڈال کر اپنی ذمہ داری سے راہ فرار

مغلپورہ ایریگیشن ورکشاپ (MIW) میں میگا کرپشن اسکینڈل پر محکمانہ پراسرار خاموشی ممکنہ بڑے طوفان کا پیش خیمہ، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کسی بڑے سانحہ کے منتظر۔؟ !!

محکمہ کا چیک اینڈ بیلنس کا نظام تشویش ناک اور ناکامی سے دوچار، ڈویلپمنٹ زون کے افسران کا بھیانک چہرہ عوام اور حکمران کے سامنے کھل کر عیاں ہو گیا

لاہور(نیوز انویسٹیگیشن سیل، عمر حیات چوہدری سے) محکمہ آبپاشی پنجاب میں مغلپورہ ایری گیشن ورکشاپ (MIW ) شیخوپورہ ڈویژن سونے کی کان بن گیا ، افسران کی نااہلی سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان، پہنچنے کے باوجود دست احتساب متحرک نہ ہو سکا حالانکہ افسران شارٹ کٹ مار کر ارب پتی ہو گئے افسران، MIW شیخوپورہ ڈویژن کے ایکسینز حضرات نے بوگس بھرتیاں کرکے تنخواہوں کی مد میں اربوں روپے اور پھر بوگس ملازمین کو ریٹائرڈ بھی کرکے پینشنز کی خطیر رقم بھی وصول کرتے رہے میگا کرپشن اسکینڈل نے محکمہ میں ہلچل مچا دی افسران نے ذاتی تجوریاں بھرنے کی لالچ میں قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا کر حکومتی گڈ گورننس کی ساکھ کو منوں مٹی تلے دفنا دیا

انویسٹی گیشن سیل سے اور تفصیلات کے مطابق محکمہ آبپاشی کی MIW شیخوپورہ ڈویژن میں بوگس بھرتیوں کی مد میں 2 ارب 37 کروڑ 50 لاکھ غبن ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے حیرت انگیز امر سوال یہ ہے کہ سال 2009ء سے سال 2025ء تک یہاں تعینات 16 ایکسینز حضرات کس کی آشیر باد سے منظم مجرمانہ پریکٹس کو تقویت دیتے رہے؟ کیونکہ MIW ڈویژن میں سابقہ کئی ایگزیکٹو انجینئرز 278 گھوسٹ ملازمین کو فرضی بھرتی کرکے اور فرضی ریٹائرڈ بھی کرکے قومی خزانے سے خطیر رقم لوٹتے رہے ، اعلی انتظامی افسران کا ملزمان پر ہاتھ ڈالنے سے گریزاں ہونا ملزمان کے ساتھ ملی بھگت کے مترادف قرار دیا جانے لگا دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ چیف ڈویلپمنٹ زون اور ایس ای میکینکل سرکل لاہور شامل جرم ہونے کے باوجود اپنی انہی سیٹوں پر ہی موجود رہ کر احتسابی اداروں کو منہ چڑھانے لگا میگا کرپشن کی نشاندہی کے باوجود ایکسینز (مرکزی ملزمان) کا کھلم کھلا دندناتے پھرنا حکومتی مشینری سے ٹکر لے گیا۔!!
سنگین جرم کرنے والوں نے شرمناک اقدامات سے محکمہ کی ساکھ کو بری طرح سے پامال کیا، بظاہر محکمہ انہار کا ڈویلپمنٹ زون قومی خزانے پر بھاری بوجھ بن گیا آئے روز کرپشن اسیکنڈلز سامنے آ رہے ہیں مگر اعلی افسران ان کو چھپاتے ہی نظر رہے ہیں مغلپورہ ایریگیشن ورکشاپ (MIW) میں میگا کرپشن اسکینڈل پر محکمانہ پراسرار خاموشی ممکنہ بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، شائد ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کسی بڑے سانحہ کے منتظر ہیں۔؟ !! حلقہ احباب میں چہ مگویاں ہو رہی ہیں کہ مغلپورہ ایریگیشن ورکشاپ (MIW) میں میگا کرپشن اسکینڈل پر محکمہ کی پراسرار خاموشی جرائم جاری رکھنے کے اشاروں کے مترادف ہے۔!! جس کے بعد ہرسوں یہ بات تیزی کے ساتھ پھیلنی شروع ہو گئی ہے کہ محکمہ کا چیک اینڈ بیلنس والا فرسودہ نظام مزید زمین بوس ہو گیا ، افسران بالا کی کارکردگی کا بھیانک چہرہ عوام اور حکمران کے سامنے کھل کر عیاں ہو گیا کیونکہ افسران بالا نے بھی میگا کرپشن اسکینڈل اور خطیر رقم کی ریکوری کا ڈھول اپنے گلے سے اُتار کر دوسرے ادارے کے گلے ڈال کر اپنی ذمہ داری سے راہ فرار اختیار کر لی ہے
محکمہ کا چیک اینڈ بیلنس کا نظام تشویش ناک اور ناکامی سے دوچار، ڈویلپمنٹ زون کے افسران کا بھیانک چہرہ عوام اور حکمران کے سامنے کھل کر عیاں ہو گیا عوامی حلقوں میں بھی یہ گونج ہر سوں گونج رہی ہے کہ قومی خزانے سے مبینہ چوری شدہ 2375 ملین روپے ریکوری والا اُونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔؟ قوم کی نظریں اب حکمران پر جم گئی ہیں مفادات کی منظر کشی دیکھتا عجب دوراہے پر کھڑا اُونٹ آفیسر قبیلے سے بچ کر قومی خزانے کا رُخ کرے گا یا اِس قبیلے کے ہاتھوں ذبح ہو کر بندر بانٹ ہو گا۔؟ (اس میگا اسکینڈل کا بقیہ حصہ ہمارے اگلے شمارے میں خصوصی اشاعت میں ملا حضہ فرمائیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں