10

خواتین ،بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز میں اضافہ لمحہ فکریہ ہے۔


خواتین کے تحفظ، پولیس اصلاحات اور شہریوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔


پولیس اسٹیشن شہریوں کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کا مرکز ہونا چاہیے جو خوف کی علامت بن چکے ہیں ۔


خواتین کے تحفظ اور پولیس اصلاحات کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔


سید مودودی اسلامک سنٹر میں نگران پبلک ایڈ کمیٹی وقاص احمد بٹ اور صدر قیصر شریف کی پریس کانفرنس


لاہور: جماعت اسلامی لاہور کے نگران پبلک ایڈ کمیٹی وقاص احمد بٹ اور صدر پبلک ایڈ کمیٹی قیصر شریف نے لاہور میں خواتین سے متعلق سامنے آنے والے مبینہ تشدد، زیادتی اور زیرِ حراست ہلاکتوں کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام واقعات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ہنگامی پریس کانفرنس میں سیکرٹری پبلک ایڈ کمیٹی شاہد نوید ملک نے بھی شرکت کی۔وقاص احمد بٹ نے کہا کہ غازی آباد میں معذور بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، جبکہ ٹاون شپ تھانے میں دو خواتین کی مبینہ ہلاکت کا معاملہ بھی گہری تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اسٹیشن شہریوں کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کا مرکز ہونا چاہیے، خوف کی علامت نہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ رواں سال چھ ماہ کے اند خواتین پر تشدد اور ریپ کے 414 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ 54 گینگ ریپ کیسز بھی سامنے آئے ہیں 386 کیسز بچوں سے زیادتی کے حوالے سے رپورٹ ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے تحفظ کے لیے محض اعلانات کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات اور مؤثر نگرانی ضروری ہے۔وقاص احمد بٹ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ریڈ لائن کو پنجاب پولیس روند رہی ہے، پولیس کلچر میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ خواتین سے مبینہ زیادتی اور ہلاکتوں کے واقعات میں ملوث افراد کو، اگر تحقیقات میں قصوروار ثابت ہوں، قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے جعلی پولیس مقابلوں کی مبینہ شکایات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکنے اور سیاسی کارکنوں سمیت تمام شہریوں کے قانونی حقوق یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔قیصر شریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پولیس کو عوام سے عزت و احترام سے پیش آنے اور پولیس اصلاحات کے لیے اقدامات کا اعلان کیا تھا، تاہم ان کے مطابق تین ماہ میں مطلوبہ تبدیلی نظر نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ 15 مئی تک پولیس میں تبدیلی لانے کی بات کی گئی تھی مگر پنجاب پولیس سے متعلق تشدد، مبینہ زیادتی اور غنڈہ گردی کی شکایات اب پہلے سے بھی زیادہ سامنے آ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور کے شہری پہلے ہی تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ خواتین کے ساتھ تشدد، مبینہ ریپ اور ہلاکتوں کے واقعات پر وزیراعلیٰ پنجاب کو مؤثر نوٹس لینا چاہیے اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جانا چاہیے۔قیصر شریف نے کہا کہ جن اداروں نے شہریوں کی عزت اور جان کی حفاظت کرنی ہے، ان پر عوام کا اعتماد بحال کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تھانوں کا کلچر تبدیل کیے بغیر پولیس اصلاحات کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ نظام میں بنیادی اصلاحات کے بغیر ملک میں انصاف کا نظام بھی بہتر نہیں ہو سکتا۔جماعت اسلامی لاہور کے رہنماؤں نے کہا کہ پبلک ایڈ کمیٹی شہری مسائل اجاگر کرنے، خواتین کے حقوق کے تحفظ اور مظلوم شہریوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں