7 ستمبر 1974ء کو قومی اسمبلی نے دوسری آئینی ترمیم کی منظوری دی، آرٹیکل 106 اور 260 میں تبدیلیاں کی گئیں، جبکہ آرٹیکل 260 میں مسلم اور غیر مسلم کی آئینی تعریف شامل کی گئی
تقریباً تین ماہ تک خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں معاملے پر غور، مختلف آرا اور تجاویز کا جائزہ، پھر قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر آئینی ترمیم کی منظوری
عوامی مشن کے خصوصی تاریخی و معلوماتی سلسلے کا تیسرا ایڈیشن
پاکستان کے آئینی سفر میں بعض ترامیم ایسی ہیں جن کا تعلق صرف کسی ایک انتظامی یا پارلیمانی معاملے سے نہیں بلکہ ریاست کی آئینی شناخت اور قانونی ڈھانچے سے جڑا ہوا ہے۔ 1974ء کی دوسری آئینی ترمیم بھی ایسی ہی ایک اہم ترمیم تھی جس کے ذریعے 1973ء کے آئین میں مذہبی شناخت سے متعلق ایک واضح آئینی اور قانونی تعریف شامل کی گئی۔ اس ترمیم کا بنیادی تعلق آئین کے آرٹیکل 106 اور آرٹیکل 260 سے تھا اور اس کے ذریعے صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم نمائندگی سے متعلق شق میں مخصوص الفاظ شامل کرنے کے ساتھ ساتھ آئین میں مسلم اور غیر مسلم کی تعریف بھی شامل کی گئی۔ اس ترمیم کو سمجھنے کے لیے 1974ء کے سیاسی اور پارلیمانی ماحول کو دیکھنا ضروری ہے۔ 1973ء کا آئین متفقہ طور پر منظور ہو کر 14 اگست 1973ء کو نافذ ہو چکا تھا اور ملک ایک نئے پارلیمانی آئینی نظام میں داخل ہو چکا تھا۔ تاہم مذہبی شناخت، ختمِ نبوت اور احمدی جماعت سے متعلق سوالات پہلے ہی ملک کی سیاسی اور مذہبی بحث میں موجود تھے۔ 1974ء میں یہ معاملہ قومی سطح پر ایک بڑے پارلیمانی مسئلے کے طور پر سامنے آیا اور بالآخر قومی اسمبلی نے اسے آئینی طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کی طرف پیش رفت کی۔قومی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق 30 جون 1974ء کو اس معاملے پر ایوان میں کارروائی شروع ہوئی اور قومی اسمبلی کو پوری ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی میں تبدیل کیا گیا۔ اس کمیٹی نے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا اور مختلف پہلوؤں پر غور کیا۔ سرکاری پارلیمانی کارروائی میں اس عرصے کے دوران کمیٹی کے اجلاسوں، تجاویز اور غوروفکر کا ریکارڈ موجود ہے۔ یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ دوسری آئینی ترمیم محض ایک مختصر پارلیمانی کارروائی کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ اس کے لیے خصوصی پارلیمانی طریقہ اختیار کیا گیا۔قومی اسمبلی کی کارروائی کے مطابق خصوصی کمیٹی نے تقریباً تین ماہ تک اس معاملے پر غور کیا، مختلف تجاویز کا جائزہ لیا اور اپنی سفارشات مرتب کیں۔ اس کے بعد معاملہ دوبارہ ایوان کے سامنے لایا گیا۔7 ستمبر 1974ء کو قومی اسمبلی کی کارروائی اس حوالے سے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئی۔ خصوصی کمیٹی کی سفارشات ایوان کے سامنے پیش کی گئیں اور اس کے بعد آئین میں ترمیم کے لیے باقاعدہ بل پیش کیا گیا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے آئینی ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا۔ کارروائی کے مختلف مراحل میں بل کی شقوں پر غور کیا گیا اور بالآخر اسے منظور کر لیا گیا۔ دوسری آئینی ترمیم کا اصل قانونی متن مختصر تھا لیکن اس کے اثرات آئینی اعتبار سے نمایاں تھے۔ترمیمی ایکٹ میں صرف دو آئینی دفعات میں براہ راست تبدیلی کی گئی۔ پہلی تبدیلی آرٹیکل 106 میں کی گئی جبکہ دوسری اور بنیادی تبدیلی آرٹیکل 260 میں کی گئی۔ آرٹیکل 106 پاکستان کی صوبائی اسمبلیوں کی تشکیل اور ان میں نشستوں سے متعلق ہے۔ دوسری ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 106 کی شق 3 میں موجود مختلف مذہبی برادریوں کے حوالے کے بعد قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ، جو خود کو احمدی کہتے ہیں کے الفاظ شامل کیے گئے۔ اس طرح صوبائی اسمبلیوں کی آئینی ساخت میں غیر مسلم نمائندگی سے متعلق متعلقہ شق میں ان گروہوں کا مخصوص حوالہ شامل ہو گیا۔ دوسری ترمیم کا زیادہ بنیادی اور نمایاں پہلو آرٹیکل 260 سے متعلق تھا۔ آرٹیکل 260 آئین کا وہ حصہ ہے جس میں مختلف آئینی اصطلاحات کی تعریفیں دی جاتی ہیں۔ دوسری ترمیم کے ذریعے اس آرٹیکل میں نئی شق 260(3) شامل کی گئی۔ اس شق میں آئین اور قانون کے مقاصد کے لیے مسلم اور غیر مسلم کی تعریف بیان کی گئی۔ نئی شق میں مسلم کی آئینی تعریف کو ختمِ نبوت کے عقیدے کے ساتھ منسلک کیا گیا۔ ترمیمی متن میں یہ اصول درج کیا گیا کہ جو شخص حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی تسلیم نہ کرے، یا آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کو کسی بھی معنی یا کسی بھی نوعیت میں نبی تسلیم کرے، یا ایسے دعویدار کو نبی یا مذہبی مصلح تسلیم کرے، وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے لیے مسلمان نہیں ہوگا۔ یہ تعریف عام قانون میں نہیں بلکہ آئین کے متن میں شامل کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری آئینی ترمیم کو پاکستان کے آئینی سفر میں ایک منفرد حیثیت حاصل ہوئی۔ اس کے ذریعے مذہبی شناخت سے متعلق ایک سوال کو پارلیمنٹ نے آئینی ترمیم کے ذریعے باقاعدہ قانونی متن کا حصہ بنایا۔ترمیم کے پارلیمانی عمل میں صرف آئینی تعریف پر ہی توجہ نہیں دی گئی بلکہ خصوصی کمیٹی کی کارروائی میں شہریوں کے بنیادی حقوق اور ریاستی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔ قومی اسمبلی کے مباحث کے سرکاری ریکارڈ میں مختلف طبقات کے حقوق، زندگی، آزادی، جائیداد اور عزت کے تحفظ سے متعلق نکات بھی زیر بحث آنے کا ذکر موجود ہے۔ یہ پہلو اس لیے بھی اہم ہے کہ آئینی ترمیم کے ایک حصے میں مذہبی شناخت کی قانونی تعریف وضع کی گئی، جبکہ پارلیمانی بحث میں ریاست کے تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا معاملہ بھی زیر غور رہا۔ اس طرح 1974ء کی پارلیمانی کارروائی کو سمجھنے کے لیے صرف ترمیم کے حتمی متن کو دیکھنا کافی نہیں، بلکہ اس کے پیچھے موجود پارلیمانی کارروائی اور بحث کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔قومی اسمبلی کی کارروائی میں اس وقت کے وزیر اعظم اور قائد ایوان ذوالفقار علی بھٹو کا خطاب بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس موقع پر پارلیمانی کارروائی اور خصوصی کمیٹی کے عمل کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔ سرکاری کارروائی میں یہ بھی درج ہے کہ خصوصی کمیٹی کی سفارشات ایوان کے سامنے آئیں اور پھر آئینی ترمیمی بل کو منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔ 7 ستمبر کی پارلیمانی منظوری کے بعد ترمیم کو قانونی حیثیت دینے کے لیے آئینی طریقہ کار کا اگلا مرحلہ صدرِ پاکستان کی منظوری تھا۔ سرکاری گزٹ کے مطابق صدر کی منظوری 17 ستمبر 1974ء کو حاصل ہوئی۔ اس کے بعد 21 ستمبر 1974ء کو گزٹ آف پاکستان، غیر معمولی، حصہ اول میں آئین (دوسری ترمیم) ایکٹ 1974ء شائع کیا گیا۔ اس ایکٹ کا باقاعدہ نام آئین (دوسری ترمیم) ایکٹ، 1974ء تھا اور اس میں واضح کیا گیا کہ ایکٹ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ سرکاری گزٹ کے اصل متن میں اسے ایکٹ نمبر XLIX of 1974 کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ یوں پارلیمانی کارروائی کے تقریباً تین ماہ کے مرحلے، خصوصی کمیٹی کی سفارشات، قومی اسمبلی کی منظوری، صدارتی منظوری اور گزٹ میں اشاعت کے بعد دوسری آئینی ترمیم پاکستان کے آئینی نظام کا مستقل حصہ بن گئی۔بعد کے آئینی ادوار میں پاکستان کے آئین میں متعدد مزید ترامیم ہوئیں اور آرٹیکل 260 سمیت مختلف دفعات کے متن میں بھی تبدیلیاں آتی رہیں۔ موجودہ آئینی متن میں بھی آرٹیکل 260 میں مسلم اور غیر مسلم کی تعریف سے متعلق شق موجود ہے، تاہم موجودہ متن کو 1974ء کے اصل متن کے ساتھ پڑھتے ہوئے بعد کی ترامیم کو الگ سے مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ قومی اسمبلی کے موجودہ آئینی متن میں پہلی اور بعد کی ترامیم کے حوالے بھی درج ہیں۔ دوسری آئینی ترمیم کی تاریخی اہمیت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہ اس دور کی پارلیمانی سیاست، مذہبی مطالبات اور آئینی قانون سازی کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے لیے بنیادی دستاویز فراہم کرتی ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے ایک مخصوص مذہبی و آئینی سوال کو پارلیمانی بحث، خصوصی کمیٹی کے غوروفکر اور آئینی قانون سازی کے عمل سے گزارا گیا۔1974ء کی اس ترمیم کے بعد بھی پاکستان کا آئینی سفر رکا نہیں۔ اگلے ہی برس آئین میں مزید ترامیم سامنے آئیں، جن میں تیسری آئینی ترمیم 1975ء بھی شامل تھی۔ تیسری ترمیم کا تعلق بنیادی طور پر گرفتاری اور حراست سے متعلق آئینی دفعات میں تبدیلی سے تھا، جس کے ذریعے ریاستی اختیار اور زیر حراست افراد سے متعلق آئینی طریقہ کار میں اہم تبدیلیاں کی گئیں۔اس طرح 1973ء سے شروع ہونے والے آئینی سفر میں پہلی ترمیم نے ریاستی و قانونی ڈھانچے کے متعدد پہلوؤں کو نئے حالات سے ہم آہنگ کیا، جبکہ دوسری ترمیم نے مذہبی شناخت سے متعلق ایک بنیادی سوال کو آئینی متن کا حصہ بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ترامیم پاکستان کی آئینی تاریخ کے ابتدائی اور اہم مراحل میں شمار ہوتی ہیں۔دوسری آئینی ترمیم 1974ء کا اصل متن اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس میں تبدیلیوں کی تعداد محدود ہونے کے باوجود ان کا تعلق آئین کے دو بنیادی حصوں سے تھا: ایک طرف صوبائی اسمبلیوں کی نمائندگی سے متعلق آرٹیکل 106 اور دوسری طرف آئینی اصطلاحات کی تعریف سے متعلق آرٹیکل 260۔ یہ ترمیم اس بات کی بھی مثال ہے کہ آئین میں کسی بنیادی معاملے کو شامل کرنے کے لیے پارلیمنٹ کس طرح خصوصی کمیٹی، بحث، سفارشات، منظوری اور صدر کی توثیق کے مراحل سے گزرتی ہے۔ 1974ء میں اختیار کیا گیا یہی پارلیمانی عمل اس ترمیم کو محض ایک قانونی تبدیلی کے بجائے پاکستان کی پارلیمانی اور آئینی تاریخ کا ایک اہم باب بناتا ہے۔


