بلڈنگ کنٹرول پر مسلسل سوالات، بااثر عناصر کے مبینہ اثرورسوخ اور 100 کمرشل فائلوں کی کہانی نے انتظامی نگرانی پر سوال اٹھا دیے
تجربہ کار ٹیم موجود، ماضی میں متعدد انکوائریوں کا سامنا کرنے والے اہلکار بھی ذمہ داریوں پر؛ مبینہ کمیٹی کا نوٹیفکیشن اور ارکان کا ریکارڈ کہاں ہے؟
راولپنڈی (مدثر الیاس کیانی):
عامر رشید جب چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے تو ان کے انتظامی طریقۂ کار، عوامی شکایات کے ازالے اور نظم و ضبط کے حوالے سے ان کی کارکردگی نمایاں رہی۔ سال 2025 میں، ایک ماہ کے اندر، ان کی ہدایت پر چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ نے تقریباً 300 غیر قانونی تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن بھی کیا تھا۔ اسی سابقہ ریکارڈ کے باعث راولپنڈی میں ان سے بہتر انتظامی کارکردگی کی توقع کی گئی۔مگر راولپنڈی میں بلڈنگ کنٹرول کے معاملات نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض بااثر عناصر نے ایسے حالات پیدا کر رکھے ہیں جن کے باعث چیف ایگزیکٹو آفیسر بعض اہم فیصلوں میں آزادانہ پیش رفت نہیں کر پا رہے۔ دوسری جانب بعض اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بلڈنگ سے متعلق معاملات کی مکمل معلومات/حصہ اوپر تک پہنچائی جاتی ہیں۔ تاہم عامر رشید کے سابقہ انتظامی ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے اس تاثر کو بلا تحقیق قبول کرنا آسان نہیں۔ اگر ان کے نام یا اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے کوئی خلافِ ضابطہ اقدام کیا گیا ہے تو اس کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔چیف ایگزیکٹو آفیسر کے پاس انجینئرنگ برانچ کے ماہر انجینئرز، بلڈنگ برانچ کا متعلقہ عملہ، سیکریٹری، ایڈیشنل چیف ایگزیکٹو آفیسر اور دیگر تجربہ کار افسران پر مشتمل انتظامی ٹیم موجود ہے۔ اس کے باوجود بلڈنگ کنٹرول کے معاملات میں مسلسل شکایات اور سوالات سامنے آنا انتظامی نگرانی کے حوالے سے اہم سوال بن چکا ہے۔ریکارڈ کے مطابق بلڈنگ کنٹرول سے وابستہ ایسے اہلکاروں کے خلاف مختلف کنٹونمنٹ بورڈز میں متعدد انکوائریاں ہوتی رہی ہیں، بلکہ خود راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں بھی ان کے خلاف متعدد انکوائریاں ہوتی رہی ہیں۔ اس کے باوجود ایسے اہلکاروں کو حساس نوعیت کی ذمہ داریاں ملنا انتظامی فیصلوں پر سوال اٹھاتا ہے۔دوسری جانب ذرائع، بلاگز اور بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعوے سامنے آ رہے ہیں کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر رشید نے 100 کمرشل فائلیں پکڑ لی ہیں، متعدد مبینہ غیر قانونی عمارتوں کے خلاف کارروائی بھی شروع کر دی ہے اور مختلف وارڈز میں کمرشل تعمیرات، نقشوں، سیٹ بیک اور پارکنگ کی جانچ کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان اطلاعات کو بعض ایسے ذرائع ابلاغ اور بلاگز کے ذریعے بھی نمایاں کیا گیا جن سے وابستہ افراد کے بچے اور قریبی رشتہ دار مبینہ طور پر راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں ملازمتیں کر رہے ہیں۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ادارے سے وابستہ افراد یا ان کے قریبی حلقے اپنے مفادات کے لیے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے نام سے مخصوص تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ۔مگر مبینہ کمیٹی کا معاملہ خود سوال بن گیا۔ جن افسران کے نام کمیٹی کے ارکان کے طور پر سامنے آئے، ان میں سے بعض سے رابطہ کیا گیا تو انہیں ایسی کسی کمیٹی کا علم ہی نہیں تھا۔ سیکریٹری کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی عمران حبیب سے بھی رابطہ کیا گیا تو ان کے علم میں ایسی کسی کمیٹی کی تشکیل نہیں تھی۔اگر واقعی 100 کمرشل فائلیں پکڑی گئی ہیں تو سوال ہے کہ وہ کون سی فائلیں ہیں، ان کے نمبر کیا ہیں، ان میں کیا بے ضابطگیاں سامنے آئیں اور کارروائی کہاں تک پہنچی؟ نہ کوئی واضح نوٹیفکیشن سامنے آیا، نہ مبینہ کمیٹی کا باقاعدہ ریکارڈ۔دوسری جانب کنٹونمنٹ کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے شکایات موجود ہیں، جبکہ اولڈ گرانٹ کی املاک پر بھی آئے روز نئے انداز میں قبضوں اور تعمیراتی تبدیلیوں کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ایسے میں سوال یہ بھی ہے کہ اگر 100 فائلوں پر واقعی کارروائی ہوئی ہے تو اس کا سرکاری ریکارڈ عوام کے سامنے کیوں نہیں لایا جا رہا؟ اور اگر خصوصی کمیٹی قائم ہی نہیں ہوئی تو چیف ایگزیکٹو آفیسر کے نام سے ایسی خبر پھیلانے کا مقصد کیا تھا؟۔عامر رشید کے سابقہ انتظامی ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے سوال انتہائی اہم ہے کہ چکلالہ میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائی کی ہدایت دینے والے افسر کو راولپنڈی میں بلڈنگ کنٹرول کے معاملات میں کن انتظامی رکاوٹوں کا سامنا ہے؟ اگر واقعی کوئی بااثر گروہ فیصلہ سازی پر اثرانداز ہو رہا ہے تو یہ بھی سامنے آنا چاہیے کہ اس بااثر گروہ کے ہاتھ عامر رشید کی ایسی کون سی کمزوری یا مجبوری لگ گئی ہے جس کے باعث اختیارات رکھنے کے باوجود عامر رشید مجبور دکھائی دیتے ہیں؟۔یہ معاملہ اب کسی ایک فائل یا ایک کمیٹی تک محدود نہیں رہا۔ اصل سوال شفافیت، ذمہ داری اور فیصلہ سازی کا ہے۔ اگر کارروائی ہوئی ہے تو اس کا ریکارڈ سامنے آنا چاہیے، اگر کمیٹی قائم ہوئی ہے تو اس کا نوٹیفکیشن اور ارکان بھی واضح ہونے چاہئیں، اور اگر یہ سب محض ایک تاثر پیدا کرنے کی کوشش ہے تو اس کی حقیقت بھی سامنے آنا ضروری ہے۔
