لاہور کے شہری صاف پانی خرید کر پینے پر مجبور، کچرا ٹیکس اور جرمانوں کے ذریعے عوام پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
حکومت کی پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور پیرا فورس ایل پی جی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔
مہنگائی، ایل پی جی بحران، کچرا ٹیکس، صاف پانی کی عدم فراہمی اور فضائی آلودگی جیسے بنیادی مسائل کو فوری حل کیا جائے ۔
امیرجماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ کی سید مودود اسلامک سنٹر میں پریس کانفرنس
لاہور: امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ شہر لاہور بیڈ گورننس کی وجہ سے مسائلستان بن چکا ہے۔ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ سردیوں میں گیس کی قلت کے باعث شہری پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ گیس کی فراہمی کا بحران گرمیوں سے جاری ہے۔ گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت تقریباً 7 ہزار 500 روپے تک پہنچ چکی ہے، حالانکہ اس کی سرکاری قیمت تقریباً 3 ہزار 500 روپے بنتی ہے۔ ایران سے بھی ایل پی جی درآمد کی جا رہی ہے، اس کے باوجود قیمتوں میں کمی کے بجائے اضافہ عوام کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ پنجاب حکومت کی پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور پیرا فورس ایل پی جی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔ حکومت فوری طور پر سرکاری نرخوں پر ایل پی جی کی فروخت یقینی بنائے اور ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سید مودودی اسلامک سنٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صدر پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی لاہور قیصر شریف اور سیکرٹری پبلک ایڈ کمیٹی نوید ملک بھی موجود تھے۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت نے عوام پر کچرا ٹیکس کا اضافی بوجھ ڈال دیا ہے اور اب اس ٹیکس کی عدم ادائیگی پر جرمانوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ صفائی کے نظام کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے باوجود لاہور کے مختلف علاقوں میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر نظر آ رہے ہیں۔ شہر کی چند مرکزی شاہراہوں کی صفائی کو پورے لاہور کی صفائی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حکومت ٹیکس اور جرمانے وصول کرنے کے بجائے شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے پر توجہ دے۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں پینے کا صاف پانی شہریوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں شہری صاف پانی خرید کر پینے پر مجبور ہیں۔ حکومت فوری طور پر پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائے، نئی واٹر سپلائی لائنیں بچھائی جائیں اور خراب و بوسیدہ پائپ لائنوں کی مرحلہ وار مرمت کی جائے۔ صاف پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اس حق کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔امیر جماعت اسلامی لاہور نے کہا کہ شہر میں فضائی آلودگی اور سموگ کی شدت میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے، لیکن حکومتی اقدامات کے باوجود صورتحال میں بہتری نظر نہیں آ رہی۔ گزشتہ سال سموگ کی روک تھام کے لیے بڑی گاڑیاں خریدی گئیں، مگر ان اقدامات کے باوجود فضائی آلودگی میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے میں آیا۔ محض مشینری کی خریداری اور نمائشی سرگرمیوں سے سموگ جیسے سنگین مسئلے پر قابو نہیں پایا جا سکتا، اس کے لیے مستقل اور مؤثر ماحولیاتی حکمت عملی درکار ہے۔انہوں نے کہا کہ چین نے صنعتی ترقی کے ساتھ شجرکاری اور ماحول کے تحفظ پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔ اسی طرح بھارت کی ریاست پنجاب میں گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال فصلوں کی باقیات جلانے کے واقعات میں نمایاں کمی کی اطلاعات ہیں، جبکہ ہمارے ہاں اس حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے۔ فصلوں کی باقیات جلانے کے مسئلے پر مؤثر اقدامات، جدید زرعی مشینری کی فراہمی اور کسانوں کی رہنمائی ناگزیر ہے۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی قرار دینا ایک اچھا اقدام ہے، تاہم اس نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ مفت جاری کیے جائیں اور شہر بھر میں فٹنس ٹیسٹنگ سینٹرز کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ شہریوں کو غیر ضروری مشکلات اور مالی بوجھ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھی مؤثر کارروائی کی جائے۔انہوں نے پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے حوالے سے کہا کہ عوام پہلے ہی پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی ادا کر رہے ہیں، ایسے میں کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے نام پر مزید پانچ روپے کا بوجھ ڈالنے کا جواز کیا ہے؟ وفاقی حکومت واضح کرے کہ ماحولیاتی تحفظ کے نام پر عوام سے وصول کی جانے والی رقم کہاں خرچ ہو رہی ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کے نام پر محض وصولیاں نہیں بلکہ عملی اقدامات اور شفافیت ضروری ہے۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کو مہنگائی، ایل پی جی بحران، کچرا ٹیکس، صاف پانی کی عدم فراہمی اور فضائی آلودگی جیسے بنیادی مسائل سے نجات دلانے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کریں۔ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جماعت اسلامی عوام کے حقوق، بنیادی ضروریات اور شہری مسائل کے حل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
