5

کائنات کا بجٹ اور شبِ برات کی حقیقت

کالم نگار:محمد شہزاد بھٹی

​پاکستانی سیاست اور معیشت میں جون کا مہینہ ہمیشہ سے ہی ہیجان خیز ہوتا ہے۔ ٹی وی اسکرینوں پر اعداد و شمار کی گردش، وفاقی وزراء کے بیانات اور عوام کے دھڑکتے دل سب اس ایک دستاویز سے جڑے ہوتے ہیں جسے بجٹ کہا جاتا ہے۔ اس بجٹ میں طے ہوتا ہے کہ اگلے بارہ مہینوں میں کس کو کیا ملے گا، ترقیاتی منصوبوں کے لیے کتنا سرمایہ مختص ہو گا اور معیشت کا پہیہ کس سمت چلے گا لیکن کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ اس دنیاوی ملكی نظام کے متوازی ایک کائناتی نظام بھی چل رہا ہے؟ ایک ایسا نظام ہے جس کا بجٹ کسی انسانی یا دنیاوی پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ عرشِ معلیٰ پر تیار ہوتا ہے۔ یاد رہے، اسلامی کیلنڈر میں تقسیمِ امور کی رات شعبان المعظم کی پندرہویں رات ہے جسے ہم “شبِ برات” کہتے ہیں، اپنی فضیلت اور اہمیت کے لحاظ سے غیر معمولی ہے۔ جس طرح دنیاوی حکومتیں مالی سال کے آغاز سے قبل پرانے کھاتوں کا جائزہ لیتی ہیں اور پھر نئے اہداف مقرر کرتی ہیں، روایات کے مطابق اللہ کریم اس رات مخلوقات کے لیے آنے والے سال کے فیصلے صادر فرماتا ہے۔ اس کائناتی بجٹ میں طے کیا جاتا ہے کہ کس انسان کو کتنا رزق، کتنا مال اور کتنے وسائل ملیں گے۔ اس سال کن روحوں کو زمین پر بھیجا جائے گا اور کن کو واپس بلا لیا جائے گا۔کس کے مقدر میں بلندی لکھی جائے گی اور کون آزمائش سے دوچار ہو گا۔ دنیاوی بجٹ، جیسے پاکستان کا وفاقی بجٹ اکثر خسارے کا شکار ہوتا ہے۔ اس میں “ایڈہاک” فیصلے ہوتے ہیں، بیرونی قرضوں کا سہارا لیا جاتا ہے اور غریب طبقے پر بوجھ ڈالا جاتا ہے مگر کائنات کا بجٹ عدل و احسان پر مبنی ہے۔ وہاں وسائل کی کمی نہیں بلکہ تقسیم کا معیار انسان کی طلب، اس کی تڑپ اور اللہ کریم کی مشیت پر ہوتا ہے۔ دنیاوی بجٹ میں اگر عوام احتجاج کریں تو شاید کچھ رعایت مل جائے لیکن شبِ برات کا بجٹ وہ ہے جہاں احتجاج نہیں بلکہ استغفار کام آتا ہے۔ یہ رات توبہ کی رات ہے اگر پچھلے سال کے اعمال کے کھاتے میں خسارہ یعنی گناہ زیادہ ہیں تو اس رات سچی توبہ کے ذریعے اس خسارے کو منافع یعنی نیکیوں میں بدلا جا سکتا ہے۔ ​جس طرح حکومتیں کبھی کبھی “ایمنسٹی اسکیم” (Amnesty Scheme) کا اعلان کرتی ہیں تاکہ لوگ اپنے کالے دھن کو سفید کر سکیں، اسی طرح شبِ برات اللہ کریم کی طرف سے کائناتی ایمنسٹی کی رات ہے۔ احادیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اس رات اللہ کریم پہلے آسمانِ پر تجلی فرماتا ہے اور پکارتا ہے: ہے کوئی مغفرت مانگنے والا کہ میں اسے بخش دوں؟ ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اسے رزق عطا کروں؟ یہ پکار فجر تک جاری رہتی ہے۔ یہ ایک سنہری موقع ہوتا ہے کہ ہم اپنے مستقبل کے بجٹ کو اپنی دعاؤں سے بہتر بنائیں۔ آج ہم نے شبِ برات کو پٹاخوں، آتش بازی اور محض حلوہ پوری تک محدود کر دیا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ملک پاکستان کے بجٹ پیش ہونے کے دن ہم سنجیدہ بحث کرنے کے بجائے سڑکوں پر ناچنا شروع کر دیں تو یقینا ہماری یہ حرکت احمقانہ تصور ہو گی۔ بلکل، اس طرح یہ رات پٹاخوں کے دھوئیں میں اڑانے اور دیگر فضول کاموں میں گزارنے کی نہیں بلکہ گناہوں کی سیاہی دھونے کی رات ہے۔ یاد رکھئیے، دنیاوی بجٹ تو صرف ہماری معیشت بدل سکتا ہے مگر شبِ برات کا یہ کائناتی بجٹ ہماری تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔ آئیے، آج ہم یہ عہد کریں کہ اس مقدس رات کو محض آنکھیں کھول کر نہیں بلکہ دل بیدار کر کے توبہ و استغفار اور عبادات کرتے ہوئے گزاریں گے۔ اللہ کریم ہمیں صحیح معنوں میں اس مقدس رات کی رحمتیں،برکتیں لوٹنے اور اس کا احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں