بجلی کی لوڈشیڈنگ فوری بند کی جائے، حکومتیں دعاؤں سے نہیں بلکہ مؤثر حکمتِ عملی سے چلتی ہیں، حکومت ہوش کے ناخن لے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز 12 ارب روپے کے جہاز پر فخر کرنے کے بجائے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی پر توجہ دیں۔
امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ کا سید مودودی اسلامک سنٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب
لاہور (عمرحیات چوہدری) امیر جماعت اسلامی لاہورضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بدترین لوڈشیڈنگ، مون سون کی ناقص تیاریوں اور شہری مسائل کے حوالے سے حکومت کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے۔ شدید گرمی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں، تاجروں اور کاروباری طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جبکہ پری مون سون بارشوں کے پیش نظر نشیبی علاقوں میں نالوں کی صفائی کا کوئی مؤثر انتظام موجود نہیں۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار سید مودودی اسلامک سنٹر میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی لاہور خالد احمد بٹ، چوہدری محمد شوکت، صدر پبلک ایڈ کمیٹی قیصر شریف، سیکرٹری شاہد نوید ملک اور عامر نور خان بھی موجود تھے۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے سانحۂ اکیڈمی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے 346 مخدوش عمارتوں کے حوالے سے باضابطہ الرٹ جاری کیا جا چکا ہے، جن میں 135 تعلیمی اداروں کی عمارتیں بھی شامل ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کے خلاف تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ نتیجتاً ہر بڑے سانحے کے بعد حکومتی نمائندے محض افسوس اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بروقت اقدامات نہ ہونے کے باعث قیمتی انسانی جانیں خطرے سے دوچار رہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں آؤٹ سورس اور نجی شعبے کے سپرد کیے گئے تعلیمی اداروں کی حالت انتہائی ابتر ہو چکی ہے، جس کی فوری اصلاح ناگزیر ہے۔ تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے بجائے حکومت کی پالیسیوں نے اسے مزید تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، جو نہایت تشویشناک اور قابلِ مذمت ہے۔ ان اداروں میں اساتذہ کو مناسب معاوضہ بھی میسر نہیں، جبکہ پرانے سرکاری اسکولوں کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیں اور ان کی دیکھ بھال بھی نہیں کی جا رہی۔ حکومت فوری طور پر ان عمارتوں کی مرمت اور تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کرے۔انہوں نے کہا کہ پری مون سون بارشوں کے پیش نظر نشیبی علاقوں میں نالوں کی صفائی کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ گزشتہ سال دریائے راوی کے کنارے آباد متعدد آبادیوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا تھا، لہٰذا اس بار ممکنہ سیلابی صورتحال سے قبل حفاظتی بند مضبوط کیے جائیں اور راوی کنارے آباد شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔امیر جماعت اسلامی لاہور نے وزیراعلیٰ پنجاب اور حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ وہ 12 ارب روپے کے جہاز پر فخر کرنے کے بجائے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی پر توجہ دیں۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ فوری بند کی جائے کیونکہ حکومتیں دعاؤں سے نہیں بلکہ مؤثر حکمتِ عملی، منصوبہ بندی اور عملی اقدامات سے چلتی ہیں۔ حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن لاہور نے مون سون سیزن کے پیش نظر “مون سون ریسکیو سیل” قائم کر دیا ہے، جبکہ جماعت اسلامی کے کارکنان شہر بھر میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور خدمتِ خلق کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جماعت اسلامی عوامی مسائل پر ہر سطح پر مؤثر آواز اٹھاتی رہے گی۔
