84

محکمہ PHA لاہور انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں   ” سرٹیفائیڈجرم ” ایکسپوز

جرم پر افسران بالا اور احتسابی محکمہ کی پر ُ اسرار خاموشی سے حصہ پتی منسوب کا اندیشہ۔۔!! ، ملزمان / مجرمان بناء سزا کے آزاد، سرکاری خزانے کو لوٹنا بن گیا پسندیدہ پیشہ۔!!

” شپ ریسٹورنٹ پِک نِک پوائنٹ ایٹ LBC ” پراجیکٹ میں بڑے پیمانے پر فراڈ اور 46لاکھ کا سرکاری سامان مبینہ چوری، کھلم کھلا جرم سوالات کھڑے کر گیا

ٹائلٹ بنائے بغیر 48لاکھ کی ادائیگیاں سیدھا تجوریوں میں ، عوام سے پہلے ہی PHA افسران و ٹھیکیداران نے اس پراجیکٹ میں خوب پِک نِک منا لیں

متعلقہ افسروں کی نگرانی میں نہر کے بیڈ کوگہرا کرنے کی بجائے غیر قانونی مزید زیادہ کھدائی کروا کر تقریباً30لاکھ کی بھل چوری کی اور خفیہ فروخت بھی کر ڈالی

بہترین 1713فٹ برکس لائننگ کو توڑ کر کنکریٹ لائننگ کروائی اور تقریباً 25 لاکھ مالیت کی اُکھاڑی گئیںڈھائی لاکھ اینٹیں چوری کے بعد فروخت کیں

افسران کی جرائم پر مظبوط پکڑ سے ثابت ہوا کہ MD اور DG کی CM کے اس اہم پراجیکٹ میں کمزور گِرپ ہے، دلچسپی صرف پیسہ کمانے میں ہے

لاہور( نیوز انویسٹی گیشن سیل ،عمر حیات چوہدری) محکمہ پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی لاہور میں وزیراعلی پنجاب کے اہم ترین پراجیکٹ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں اور جرم سامنے آ گئے انویسٹی گیشن اور تفصیلات کے مطابق محکمہ پی ایچ اے لاہور کی انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں موجودہ ڈائریکٹر و ماتحت افسران نے سی ایم پنجاب کے اہم ترین پراجیکٹ ” شپ ریسٹورنٹ پِک نِک پوائنٹ ایٹ LBC ” تخمینہ مالیت 48کروڑ روپے والے پراجیکٹ میں بڑے پیمانے پر فراڈ اور 46لاکھ کا سرکاری سامان مبینہ چوری کیا اور سرکاری PHAاسٹور میں جمع کروانے / حوالے کرنے کی بجائے پرائیویٹ طور پر خفیہ طریقے سے تقریباً 46لاکھ روپے کا فروخت کر ڈالا جس کی آپس میں بندر بانٹ کی گئی محکمہ میں اس سنگین ترین کھلم کھلا جرم کرنے پر سینکڑوں سینہ چھلنی کر دینے والے سوالات کھڑے ہو رہے ہیں مبینہ چوری اور بے ضابطگیاں کرنے کی غرض سے متعلقہ افسروں کی نگرانی میں نہر کے بیڈ کوگہرا کرنے کی بجائے غیر قانونی مزید زیادہ کھدائی کروا کر تقریباً30لاکھ کی بھل چوری کی اور سرکاری اسٹور میں دینے کی بجائے خفیہ فروخت بھی کر ڈالی بہترین 1713فٹ برکس لائننگ کو توڑ کر کنکریٹ لائننگ کروائی اور تقریباً 25 لاکھ مالیت کی اُکھاڑی گئیںڈھائی لاکھ اینٹیں بھی چوری کرنے کے بعد فروخت کیں پھر اسی پراجیکٹ میں مزید بے ضابگیاں کرتے ہوئے ٹائلٹ بنائے بغیر 48لاکھ کی ادائیگیاں سیدھا تجوریوں میں ڈالنے کا گمان بھی ہو رہا ہے ، عوام سے پہلے ہی PHA افسران و ٹھیکیداران نے اس پراجیکٹ میں خوب پِک نِک منا لیں حلقہ احباب میں چہ مگویاں ہو رہی ہیں کہ سنگین جرم پر افسران بالا اور احتسابی محکمہ کی پر ُ اسرار خاموشی سے حصہ پتی منسوب کا اندیشہ ہے۔!! اور ملزمان / مجرمان بناء سزا کے آزاد گھوم رہے ہیں ،ان افسران و ٹھیکیداران کے لئے سرکاری خزانے کو لوٹنا پسندیدہ پیشہ بن گیا ہے ۔!! اس ساری صورتحال سے یہ بھی گمان ہوتا ہے کہ محکمہ PHA لاہور انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں ” سرٹیفائیڈجرم ” ایکسپوز ہونے کے ساتھ ساتھ کرپٹ افسران بھی عوام اور حکمران کے سامنے کھل کر آ گئے ہیں جبکہ دوسری جانب ان کرپٹ افسران کی جرائم پر مظبوط پکڑ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ MD اور DG کی CM کے اس 48کروڑ مالیت والے اہم پراجیکٹ میں کمزور گِرپ ہے، ان افسران بالا کی دلچسپی صرف پیسہ کمانے میں ہے ایسی چہ مگویاں حلقہ احباب سمیت محکمہ کے اندر گونج رہی ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل کی جاتی ہے کہ اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے افسران کی انکوائری کروانے کے ساتھ ساتھ ان افسران / ملزمان کو سسپنڈ کیا جائے اور اس خطیر رقم کی بازیابی کروا کر خزانے میں جمع کروائی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں