2

ویسٹریج بازار میں گرینڈ آپریشن کے باوجود اولڈ گرانٹ پلازہ نظرانداز کیوں ہوا؟

متنازع تعمیر کی بروقت نشاندہی نہ ہونے پر کنٹونمنٹ انتظامیہ کے نگرانی کے نظام پر سوالات؛ غفلت، لاعلمی یا کسی دباؤ کا امکان؟

کمرشل نقشے کی منظوری سے قبل اولڈ گرانٹ حیثیت کی دوبارہ تصدیق ہوئی یا نہیں؟ زمین کے ریکارڈ، نقشے اور موقع کی تعمیر کی جانچ پر سوال


سیکرٹری کنٹونمنٹ بورڈ عمران حبیب کی تصدیق: سسپنشن آرڈر تاحال دستخط شدہ نہیں؛ انکوائری ایڈیشنل CEO طیبہ کے سپرد

سرکاری ملازم کی مبینہ نجی نقشہ سازی اور بھاری فیسوں کا معاملہ؛ وارڈ 1 تا 5 کے نقشہ ریکارڈ کی جامع جانچ کا مطالبہ

نقشہ سازی، منظوری اور تعمیراتی جانچ میں ممکنہ مفادات کا ٹکراؤ؛ اپنی تیار کردہ دستاویز کی غیر جانب دارانہ جانچ کیسے ممکن؟


راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے ویسٹریج بازار میں اولڈ گرانٹ زمین سے متعلق پلازہ کیس پر ہماری سابقہ خصوصی رپورٹ کے بعد معاملہ مزید اہم ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ صرف مبینہ طور پر اولڈ گرانٹ زمین کا کمرشل تعمیر میں شامل ہونا نہیں بلکہ یہ بنیادی سوال بھی ہے کہ اتنی بڑی تعمیر متعلقہ انتظامی نگرانی سے آخر کس وجہ سے اوجھل رہی۔چند عرصہ قبل اسی ویسٹریج بازار میں کنٹونمنٹ انتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ گرینڈ آپریشن کیا گیا۔ مختلف مقامات کی فہرستیں تیار کی گئیں، تعمیرات کی جانچ ہوئی اور متعدد مقامات کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ایسے میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اسی بازار میں موجود ایک بڑی کمرشل تعمیر، جس کی زمین کی قانونی حیثیت پر اب سوالات اٹھ رہے ہیں، اس کارروائی اور نگرانی کے عمل میں کیوں سامنے نہ آسکی؟کیا متعلقہ شعبوں کو واقعی اس تعمیر کا علم نہیں تھا؟ کیا یہ انتظامی غفلت تھی؟ یا کسی بااثر دباؤ کے باعث معاملہ نظرانداز ہوا؟ ان سوالات کا جواب متعلقہ فائلوں، سروے رپورٹس، نقشہ ریکارڈ اور افسران کے تحریری مؤقف سے ہی سامنے آسکتا ہے۔ذرائع کے مطابق ویسٹریج بازار کی پراپرٹی نمبر 101 اور 102 پر قائم پلازے کی زمین کا ایک حصہ پہلے سے لیز شدہ تھا جبکہ پچھلی جانب موجود اولڈ گرانٹ زمین بھی مبینہ طور پر تعمیر میں شامل کردی گئی۔پلازے کا کمرشل نقشہ منظور شدہ بتایا جاتا ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ نقشہ منظور کرتے وقت کیا دوبارہ یہ تصدیق کی گئی تھی کہ جس رقبے پر کمرشل تعمیر کی اجازت دی جارہی ہے، وہ مکمل طور پر قانونی طور پر اسی ملکیتی یا لیز شدہ حدود میں آتا ہے یا اس میں اولڈ گرانٹ زمین بھی شامل ہے؟اگر یہ تصدیق ہوئی تھی تو اس کا ریکارڈ کہاں ہے؟ اور اگر نہیں ہوئی تو کمرشل نقشہ منظور کرتے وقت زمین کی بنیادی قانونی حیثیت کی جانچ کیوں نہیں کی گئی؟یہ معاملہ اس وقت مزید حساس ہوجاتا ہے جب نقشہ سازی کے عمل سے متعلق بھی اہم معلومات سامنے آتی ہیں۔کنٹونمنٹ بورڈ کے ڈرافٹ مین حمزہ اور ان کے انچارج سروے رانا احتشام کے حوالے سے ایسی چیزیں سامنے آئی ہیں جن میں نجی طور پر نقشے تیار کرنے اور لوگوں سے بھاری رقوم وصول کرنے کا معاملہ شامل ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق لوگوں سے فی نقشہ لاکھوں روپے تک وصول کیے جاتے ہیں، جبکہ انہیں صرف نقشہ تیار کرکے نہیں دیا جاتا بلکہ نقشہ منظور بھی کروا کر دیا جاتا ہے۔رقوم کی وصولی کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ متعلقہ افراد کو بتایا جاتا ہے کہ رقم میں مختلف مراحل پر نقشے کے دستخط اور منظوری کے لیے اوپر تک مبینہ حصہ دینا پڑتا ہے۔ اس معاملے سے متعلق دستیاب شواہد اور ریکارڈ کی بنیاد پر باقاعدہ محکمانہ تحقیقات ضروری معلوم ہوتی ہیں۔یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک سرکاری ملازم نجی طور پر اسی نوعیت کے نقشے تیار کرے، انہیں منظور بھی کروائے اور بعد میں اسی نظام میں ان نقشوں یا تعمیرات کی جانچ کا کردار بھی ادا کرے تو اپنی ہی تیار کردہ دستاویز میں ممکنہ غلطی یا خلاف ورزی کی آزادانہ نشاندہی کیسے ممکن ہوگی؟ذرائع کے مطابق وارڈ نمبر ایک سے پانچ تک منظور شدہ نقشوں کے ریکارڈ کی جامع جانچ سے یہ واضح کیا جاسکتا ہے کہ ان میں سے کتنے نقشے ڈرافٹ مین حمزہ اور ان کے انچارج سروے رانا احتشام نے تیار کیے اور منظوری کے مراحل سے گزرے۔ اس حوالے سے متعدد ایسے نقشے بھی موجود ہیں جو حمزہ اور رانا احتشام کی جانب سے تیار کیے جانے کی دستاویزی شہادت فراہم کرتے ہیں، جبکہ ان نقشوں اور موقع پر موجود تعمیرات کے تقابلی جائزے سے بعض مقامات پر منظور شدہ نقشے اور تعمیر شدہ عمارت کے درمیان واضح فرق بھی سامنے آتا ہے۔ یعنی نقشے میں جس تعمیر کی منظوری لی گئی، موقع پر بعض جگہ اس سے مختلف تعمیر کیے جانے کے شواہد موجود ہیں۔اسی طرح اگر منظور شدہ نقشوں اور موقع پر موجود تعمیرات کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ بھی واضح ہوسکتا ہے کہ تعمیرات واقعی منظور شدہ نقشوں کے مطابق ہیں یا نہیں۔دوسری جانب پلازہ کیس میں ڈرافٹ مین حمزہ کی جانب سے مبینہ طور پر ایک کروڑ دس لاکھ روپے طلب کیے جانے اور مبینہ مطالبہ پورا نہ ہونے کے بعد پلازہ سیل کیے جانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ اگر پلازہ خلافِ ضابطہ تھا تو اس کے خلاف کارروائی کی قانونی بنیاد کیا تھی؟ اور اگر سیلنگ کی گئی تو اس کا مجاز تحریری حکم کہاں ہے؟اس حوالے سے کنٹونمنٹ بورڈ کے سیکرٹری عمران حبیب سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر رشید کی جانب سے متعلقہ اہلکار کو فوری طور پر معطل کرنے کے لیے کہا گیا ہے، تاہم ان کے علم کے مطابق تاحال سسپنشن آرڈر پر دستخط نہیں ہوئے۔عمران حبیب نے بتایا کہ وہ پیر یا منگل کو اس حوالے سے مزید تصدیق کریں گے کہ متعلقہ اہلکار کو معطل کیا جارہا ہے یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ معاملے کی انکوائری ایڈیشنل چیف ایگزیکٹو آفیسر محترمہ طیبہ کو مارک کی جاچکی ہے اور وہ اس معاملے کی انکوائری کررہی ہیں۔اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ انکوائری صرف مبینہ مالی مطالبے تک محدود رہتی ہے یا پلازے کی زمین، اولڈ گرانٹ حیثیت، نقشہ منظوری، تعمیر اور متعلقہ اہلکار کے کردار کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔اس کیس میں ایک اور اہم پیش رفت نے کنٹونمنٹ بورڈ کے نگرانی کے نظام پر مزید سوال اٹھا دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک دوسری اولڈ گرانٹ پراپرٹی پر بھی اس وقت تعمیراتی کام جاری ہے اور وہاں ایک بڑی عمارت تعمیر کی جارہی ہے۔اگر مذکورہ زمین واقعی اولڈ گرانٹ  ہے اور تعمیر کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں، انتظامیہ کے متعلقہ شعبوں کی موجودگی اور معمول کی نگرانی کے دوران جاری ہے تو پھر یہ سوال مزید اہم ہوجاتا ہے کہ کیا کنٹونمنٹ انتظامیہ کو اپنی ہی حدود میں موجود اولڈ گرانٹ اراضی پر ہونے والی تعمیرات کا بروقت علم ہوتا بھی ہے یا نہیں؟ایک طرف پہلے سے مکمل کمرشل پلازے کی زمین کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھ رہے ہیں اور دوسری طرف ایک اور اولڈ گرانٹ پراپرٹی پر تعمیر جاری ہونے کی اطلاع سامنے آرہی ہے۔ اگر دونوں معاملات کی سرکاری ریکارڈ سے تصدیق ہوتی ہے تو پھر یہ کسی ایک اہلکار یا ایک پلازے کا معاملہ نہیں رہے گا بلکہ اولڈ گرانٹ جائیدادوں کی نگرانی، سروے اور تعمیراتی کنٹرول کے پورے نظام کی کارکردگی کا سوال بن جائے گا۔اسی لیے ضروری ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ صرف موجودہ پلازہ کیس کی فائل نہ دیکھے بلکہ اولڈ گرانٹ جائیدادوں پر جاری اور حالیہ تعمیرات کا ریکارڈ بھی چیک کرے۔ خاص طور پر GLR، لیز ریکارڈ، منظور شدہ نقشے اور موقع پر تعمیر شدہ حدود کا تقابلی جائزہ لیا جائے۔اگر کسی جگہ نقشہ منظور شدہ ہے لیکن زمین کی قانونی حیثیت یا تعمیر شدہ حدود مختلف نکلتی ہیں تو ذمہ داری صرف تعمیر کرنے والے تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ نقشہ کس نے تیار کیا، کس نے جانچا، کس نے منظور کیا اور تعمیر کے دوران نگرانی کس نے کی۔ویسٹریج بازار کے اس کیس میں اب اصل امتحان کنٹونمنٹ انتظامیہ کی انکوائری کا ہے۔ اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو اصل ریکارڈ انہیں رد کرسکتا ہے۔ اگر بے ضابطگی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار اہلکار کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، اور اگر تحقیقات میں نگرانی یا منظوری کے کسی دوسرے مرحلے پر بھی کوتاہی سامنے آتی ہے تو اس کی ذمہ داری بھی طے ہونی چاہیے۔ویسٹریج بازار میں گرینڈ آپریشن کے بعد اب بنیادی سوال یہی ہے کہ ایک طرف انتظامیہ نے فہرستیں بنا کر تعمیرات کے خلاف کارروائیاں کیں، تو دوسری طرف اولڈ گرانٹ زمین سے متعلق یہ پلازہ آخر کس وجہ سے نظرانداز رہا؟کیا متعلقہ حکام واقعی لاعلم تھے، کیا نگرانی کا نظام ناکام رہا، یا کسی سطح پر ایسا دباؤ موجود تھا جس کے باعث معاملہ سامنے نہ آسکا؟ان سوالات کا جواب اب محض بیانات سے نہیں بلکہ GLR، منظور شدہ نقشے، سروے ریکارڈ، فائل نوٹنگ، سیلنگ آرڈر، انکوائری رپورٹ اور متعلقہ افسران کے تحریری مؤقف سے سامنے آنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں