پہلی آئینی ترمیم 1974ء: آئینِ پاکستان میں پہلی بڑی تبدیلی کیوں ضروری ہوئی؟
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بدلتے قومی حالات، بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے اور آئینی ڈھانچے کو نئے حقائق سے ہم آہنگ کرنے کا فیصلہ
آرٹیکل 1 سمیت متعدد آئینی دفعات میں ترمیم، سیاسی جماعتوں، عدلیہ، ریاستی اداروں اور پارلیمانی نظام سے متعلق اہم تبدیلیاں پہلی ترمیم کا حصہ بنیں
عوامی مشن کے خصوصی سلسلے کا دوسرا ایڈیشن، پہلی ترمیم کا پس منظر، اہم تبدیلیاں اور پاکستان کے آئینی سفر پر اثرات
1973ء کا آئین پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ملک کے سیاسی بحرانوں، آئینی تعطل اور غیر جمہوری ادوار کے بعد ایک متفقہ آئین کی تشکیل نے پاکستان کو وفاقی پارلیمانی نظام فراہم کیا، لیکن اس آئین کے نفاذ کے چند ہی ماہ بعد ملکی حالات میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوئیں جن کے باعث آئین میں پہلی مرتبہ ترمیم کی ضرورت پیش آئی۔ چنانچہ 1974ء میں پاکستان کے آئینی سفر کا باقاعدہ ترمیمی دور شروع ہوا اور آئین (پہلی ترمیم) ایکٹ 1974ء وجود میں آیا، جس نے نہ صرف 1973ء کے آئین میں پہلی تبدیلی کی بلکہ آنے والے برسوں میں آئینی ترامیم کے ایک مسلسل سلسلے کی بنیاد بھی رکھ دی۔پہلی آئینی ترمیم کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے 1971ء کے سانحے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی و آئینی صورتحال کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستان کا جغرافیائی اور سیاسی نقشہ تبدیل ہوچکا تھا۔ 1973ء کا آئین بھی اسی تبدیل شدہ صورتحال میں تشکیل پایا۔ آئین کے ابتدائی متن میں پاکستان کے علاقوں اور وفاقی ڈھانچے سے متعلق ایسی شقیں موجود تھیں جنہیں بعد کے حالات میں نئے حقائق سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہوگیا۔ 1974ء میں پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کو تسلیم کیے جانے کے بعد آئین میں موجود سابقہ حوالوں کو برقرار رکھنا مزید ممکن نہیں رہا، چنانچہ پہلی ترمیم کے ذریعے آئین کے علاقائی اور دیگر متعلقہ معاملات کو نئے حالات کے مطابق ترتیب دیا گیا۔پہلی آئینی ترمیم 4 مئی 1974ء کو ایکٹ نمبر XXXIII of 1974 کے طور پر سامنے آئی اور اسے نافذ کیا گیا، جبکہ 8 مئی 1974ء کو اس کی گزٹ اشاعت ہوئی۔ یہ پاکستان کے آئینی نظام میں کسی بنیادی دستاویز کی تبدیلی نہیں بلکہ 1973ء کے متفقہ آئین کے اندر پارلیمانی طریقے سے کی جانے والی پہلی باضابطہ آئینی ترمیم تھی۔ اس کے ذریعے آئین کی متعدد دفعات اور فرسٹ شیڈول میں تبدیلیاں کی گئیں۔1974ء میں پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے بعد ایک نئی سیاسی و سفارتی حقیقت بھی سامنے آچکی تھی۔ اس پس منظر میں آئین کے آرٹیکل 1 میں بنیادی تبدیلی کی گئی۔ مشرقی پاکستان سے متعلق سابقہ آئینی حوالہ ختم کرتے ہوئے پاکستان کے علاقوں کی نئی آئینی تعریف مقرر کی گئی، جس میں بلوچستان، شمال مغربی سرحدی صوبہ، پنجاب اور سندھ، وفاقی دارالحکومت، قبائلی علاقوں اور ایسے ریاستوں و علاقوں کو شامل کیا گیا جو پاکستان میں شامل ہوسکتے تھے۔ پارلیمنٹ کو نئے علاقوں یا ریاستوں کو وفاق میں شامل کرنے کا اختیار بھی برقرار رکھا گیا۔پہلی ترمیم کا ایک اہم حصہ آرٹیکل 8 سے متعلق تھا، جس کا بنیادی تعلق بنیادی حقوق اور ایسے قوانین سے تھا جنہیں آئین کے آرٹیکل 8 کے عمومی اطلاق سے مخصوص استثنا حاصل تھا۔ پہلی ترمیم کے ذریعے فرسٹ شیڈول میں شامل قوانین کے حوالے سے آئینی استثنا کو مزید واضح کیا گیا اور ایسے بعض قوانین کو شیڈول کا حصہ بنایا گیا جن پر آرٹیکل 8 کی پابندیوں کا اطلاق نہیں ہونا تھا۔ اس تبدیلی کے ذریعے ریاستی قانون سازی کے بعض مخصوص شعبوں کو آئینی تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔آرٹیکل 17 میں تبدیلی سیاسی جماعتوں کے حوالے سے انتہائی اہم تھی۔شہریوں کو سیاسی جماعت بنانے یا اس کا رکن بننے کا حق برقرار رکھتے ہوئے یہ شرط عائد کی گئی کہ ریاست کی خودمختاری اور سالمیت کے مفاد میں قانون کے ذریعے معقول پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔ اگر وفاقی حکومت کسی سیاسی جماعت کو پاکستان کی خودمختاری یا سالمیت کے خلاف قرار دیتی تو معاملہ 15 دن کے اندر سپریم کورٹ کو بھیجنا لازم قرار دیا گیا۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے فنڈز کے ذرائع کا حساب رکھنے کا پابند بھی بنایا گیا۔ یوں پہلی ترمیم نے سیاسی جماعتوں اور ریاست کے تعلق کو ایک واضح آئینی دائرے میں لانے کی کوشش کی۔آرٹیکل 61 میں سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سے متعلق آئینی اطلاق میں تبدیلی کی گئی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس سے متعلق آرٹیکل 54 کی بعض شقوں کو سینیٹ پر لاگو کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے لیے مقررہ 130 دن کے بجائے سینیٹ کے حوالے سے 90 دن کی حد متعین کی گئی۔ اس تبدیلی کا مقصد سینیٹ کے اجلاسوں اور پارلیمانی کارروائی سے متعلق آئینی تقاضوں کو واضح کرنا تھا۔آرٹیکل 101 میں گورنر کے مالی معاملات سے متعلق وضاحت شامل کی گئی۔ گورنر کو ایسی تنخواہ، الاؤنسز اور مراعات کا حق دیا گیا جو صدر مقرر کرے۔ اس طرح صوبائی گورنر کے مالی استحقاقات کے تعین کے لیے آئینی بنیاد فراہم کی گئی اور اس معاملے کو واضح انداز میں ریاستی آئینی ڈھانچے کا حصہ بنایا گیا۔آرٹیکل 127 کے ذریعے صوبائی اسمبلیوں پر قومی اسمبلی سے متعلق بعض آئینی دفعات کے اطلاق میں تبدیلی کی گئی۔ قومی اسمبلی کے اجلاسوں سے متعلق آرٹیکل 54 کی مقررہ مدت کو صوبائی اسمبلیوں کے لیے الگ انداز میں لاگو کرتے ہوئے 70 دن کی حد رکھی گئی۔ اس سے صوبائی اسمبلیوں کی آئینی کارروائی اور اجلاسوں کے تقاضوں کو ان کے اپنے ریاستی و انتظامی کردار کے مطابق متعین کیا گیا۔آرٹیکل 193 میں ہائی کورٹ کے جج کی اہلیت سے متعلق اہم وضاحت شامل کی گئی۔ ہائی کورٹ کے جج کے طور پر تقرری کے لیے مطلوبہ قانونی تجربے اور وکالت سے متعلق شرائط کو مزید واضح کیا گیا، جبکہ کسی شخص کے بطور وکیل یا عدالتی عہدے پر رہنے کے عرصے کو اہلیت کے تعین کے حوالے سے آئینی طور پر واضح کیا گیا۔ اس تبدیلی کا تعلق اعلیٰ عدلیہ میں تقرری کے لیے مطلوبہ پیشہ ورانہ تجربے کے تعین سے تھا۔آرٹیکل 199 میں ہائی کورٹ کے آئینی دائرۂ اختیار سے متعلق اہم پابندی شامل کی گئی۔ مسلح افواج کے ارکان اور ان کی سروس سے متعلق معاملات میں ہائی کورٹ کے احکامات کے دائرے کو محدود کیا گیا۔بالخصوص ایسے معاملات جن کا تعلق مسلح افواج میں ملازمت کی شرائط، سروس سے پیدا ہونے والے معاملات یا فوجی قانون کے تحت کارروائی سے تھا، ان میں ہائی کورٹ کے اختیار کو مخصوص حدود میں رکھا گیا۔ اس تبدیلی نے فوجی سروس معاملات اور عام عدالتی دائرۂ اختیار کے درمیان ایک آئینی حد قائم کی۔آرٹیکل 200 میں ایک ہائی کورٹ کے جج کو عارضی طور پر دوسری ہائی کورٹ میں منتقل یا تعینات کرنے کی گنجائش پیدا کی گئی، تاکہ کسی ہائی کورٹ میں مقدمات کے بوجھ یا ججوں کی عارضی کمی کی صورت میں عدالتی کام متاثر نہ ہو۔ اس عمل کے لیے آئینی شرائط، متعلقہ جج کی رضامندی اور متعلقہ حکام سے مشاورت کا طریقہ بھی متعین کیا گیا۔ اس تبدیلی کا مقصد اعلیٰ عدالتوں کے عدالتی کام میں انتظامی ضرورت کے مطابق سہولت پیدا کرنا تھا۔آرٹیکل 209 میں سپریم جوڈیشل کونسل سے متعلق اصطلاحات کو واضح کیا گیا۔ خاص طور پر چیف جسٹس کے حوالے سے یہ وضاحت کی گئی کہ قائم مقام چیف جسٹس کو مستقل چیف جسٹس کے برابر تصور نہیں کیا جائے گا جہاں آئینی شق میں چیف جسٹس کا مخصوص حوالہ موجود ہو۔ اس سے اعلیٰ عدلیہ کے عہدوں اور سپریم جوڈیشل کونسل کے آئینی ڈھانچے میں اصطلاحی وضاحت پیدا ہوئی۔آرٹیکل 212 میں انتظامی عدالتوں اور ٹربیونلز سے متعلق آئینی دفعات میں تبدیلی کی گئی۔ اس کا تعلق ایسے معاملات سے تھا جنہیں قانون کے تحت مخصوص انتظامی عدالت یا ٹربیونل کے دائرۂ اختیار میں لایا جاسکتا تھا۔ پہلی ترمیم کے ذریعے ایسے معاملات کی عدالتی کارروائی اور مختلف عدالتوں کے دائرۂ اختیار کے درمیان تعلق کو مزید واضح کیا گیا، تاکہ انتظامی نوعیت کے مقدمات کے لیے مخصوص آئینی و قانونی راستہ موجود رہے۔آرٹیکل 250 میں اعلیٰ ریاستی عہدیداروں کی تنخواہوں، الاؤنسز اور مراعات سے متعلق دفعات میں تبدیلی کی گئی اور گورنر کو اس عمومی شق سے الگ کردیا گیا۔اس کے نتیجے میں گورنر کے مالی معاملات کے لیے آرٹیکل 101 کے تحت الگ آئینی طریقہ کار نمایاں ہوگیا، جبکہ دیگر اعلیٰ ریاستی عہدیداروں کے مالی استحقاقات کا نظام اپنی جگہ برقرار رہا۔آرٹیکل 259 میں ریاستی اعزازات سے متعلق اہم اضافہ کیا گیا۔ صدرِ پاکستان کی جانب سے دیے جانے والے اعزازات کے دائرے میں بہادری اور دیگر قابلِ قدر خدمات کے ساتھ مسلح افواج میں قابلِ قدر خدمات کو بھی نمایاں کیا گیا۔اس طرح ملکی دفاع اور مسلح افواج کے لیے غیر معمولی خدمات کے اعتراف کو آئینی اعزازات کے نظام میں واضح جگہ دی گئی۔آرٹیکل 260 میں آئین میں استعمال ہونے والی بعض اہم اصطلاحات کی تعریفوں کو مزید واضح کیا گیا۔ ’’چیف جسٹس‘‘ اور دیگر آئینی عہدوں سے متعلق اصطلاحی وضاحت کے ساتھ ’’سروس آف پاکستان‘‘ سے متعلق تعریف میں بھی بعض عہدوں کو شامل کیا گیا۔ اس تبدیلی کا مقصد آئین کی مختلف دفعات میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کے مفہوم کو زیادہ واضح اور یکساں بنانا تھا۔آرٹیکل 272 میں بھی پہلی آئینی ترمیم کے ذریعے تبدیلی کی گئی۔ یہ شق بنیادی طور پر سینیٹ کی پہلی تشکیل اور اس کے ابتدائی آئینی ڈھانچے سے متعلق تھی۔ پہلی ترمیم کے ذریعے اس کے عنوان اور متعلقہ آئینی متن کو سینیٹ کی تشکیل کے حوالے سے مزید واضح کیا گیا، تاکہ 1973ء کے نئے دو ایوانی پارلیمانی نظام میں سینیٹ کی ابتدائی آئینی حیثیت واضح رہے۔پہلی ترمیم کے ساتھ فرسٹ شیڈول میں بھی تبدیلی کی گئی، جس میں ان قوانین کی فہرست شامل تھی جنہیں آرٹیکل 8 کی مخصوص پابندیوں سے استثنا حاصل تھا۔اس شیڈول میں ایسے مختلف قوانین، صدارتی احکامات، ریگولیشنز اور آرڈیننسز شامل کیے گئے جنہیں آرٹیکل 8 کی بعض پابندیوں سے مخصوص آئینی تحفظ حاصل تھا۔ یوں پہلی ترمیم نے صرف آئین کے بنیادی آرٹیکلز میں تبدیلی نہیں کی بلکہ آئین کے شیڈول کا حصہ بھی تبدیل کیا، جس کے ذریعے اس دور کے متعدد معاشی، زرعی، صنعتی اور انتظامی قوانین کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا۔فرسٹ شیڈول میں شامل قوانین کی فہرست خاصی طویل تھی اور اس میں مختلف شعبوں سے متعلق درجنوں قوانین و احکامات شامل تھے۔ اس فہرست میں کون کون سے اہم قوانین شامل تھے اور انہیں آئینی تحفظ دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کی تفصیل آئندہ خصوصی ایڈیشن میں پیش کی جائے گی۔اس طرح پہلی ترمیم نے نہ صرف آئین کے بنیادی آرٹیکلز میں تبدیلی کی بلکہ آئین کے شیڈول کا حصہ بھی تبدیل کیا۔ اس پورے عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلی آئینی ترمیم کا دائرہ توقع سے کہیں زیادہ وسیع تھا اور اس میں ریاست کے علاقائی ڈھانچے، بنیادی حقوق، سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں، گورنروں، عدلیہ، مسلح افواج، انتظامی ٹربیونلز اور ریاستی اعزازات سمیت متعدد شعبوں کو شامل کیا گیا۔1974ء کی پہلی ترمیم اس پورے سفر کا نقطۂ آغاز تھی۔1973ء کے متفقہ آئین کے قیام کے فوراً بعد ہونے والی یہ ترمیم اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ پاکستان کا آئینی نظام اپنے آغاز ہی سے بدلتے ہوئے سیاسی اور ریاستی حالات کے ساتھ ایک مسلسل ارتقائی عمل سے گزرتا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ آئینی ساخت کو سمجھنے کے لیے پہلی ترمیم کو سمجھنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ بعد کی تقریباً تمام اہم آئینی تبدیلیوں کا مطالعہ اسی وسیع تر آئینی سفر کے تسلسل میں کیا جاتا ہے۔عوامی مشن کے اس خصوصی سلسلے میں پہلی آئینی ترمیم کا جائزہ دراصل پاکستان کے آئینی سفر کے پہلے باقاعدہ موڑ کا جائزہ ہے۔ آئین 1973ء میں متفقہ طور پر وجود میں آیا، مگر بدلتے ہوئے قومی حالات نے اسے بہت جلد ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا۔ پہلی ترمیم نے ان تبدیلیوں کو آئینی شکل دی اور اس کے بعد آنے والی ترامیم نے پاکستان کے سیاسی و ریاستی نظام کو مختلف ادوار میں نئی شکلیں دیں۔




