ہم غریب عوام کے وجود پر نا حق،ظالمانہ،غیر قانونی لاتعدادکوڑوں کی برسات قیامت خیز منظر ہے، ابھی تو صرف دنیا میں CEOکے فیصلے کے منتظر ہیں : متاثرہ عوامی رد عمل
عرصہ دراز سے مغلپورہ ڈویژن آپریشن ونگ ، ریونیو کے افسران نا اہلوں کا ٹولہ ثابت ہونے کے باعث ماہانہ تقریباً 1.5کروڑ یونٹس لائن لاسسز اسکینڈل سے باہر نہ آ سکی
ایکسین کی ناک کے نیچے تگڑہ مافیا دھرلے سے مبینہ بجلی چوری کرے اور سادہ لوح غریب عوام اس لائن لوسسز کو جبری پوری کرنے کی ظالمانہ پالیسی کا شکار بن کر رہ گئی
میٹر ریڈر کی عجلت میں پھرتیاں اور عجب منطق سے سائٹ پر میٹر کی عدم موجودگی کے باوجود 990یونٹس چارج کرنا بھی افسروں کے غلیظ لنگوٹ کا بھیانک پول کھول گیا۔!!
مہنگائی،پیٹرول بم،چالان،بے روزگاری، آمدن سے زائد اخراجات جیسے مسائل سے تنگ عوام کو مزید پریشانیوں میں دھکیلنا لیسکو افسران کے برُے اعمالوں کی نشاندہی عیاں





لاہور (نیوز انویسٹی گیشن سیل،عمر حیات چوہدری) محکمہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (LESCO ) نے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ مظلوم ترین عوام کو مزید پریشانیوں میں مبتلا کرنے کے اقدامات کو کھلم کھلا کرنے اور اس غیر قانونی اقدامات پر ڈٹ جانے جیسے واقعات سے اپنی کارکردگی سمیت اپنے لنگوٹ کو بھی عوام اور حکمرانوں کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے تفصیلات کے مطابق محکمہ لیسکو کی مغلپورہ ڈویژن عرصہ دراز سے ماہانہ تقریباً 1.5کروڑ یونٹس لائن لاسسز کی مد میں حکومتی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہی ہے جبکہ بجلی چور مافیا کھلم کھلا گھومنے سمیت دھرلے سے اور جبری مزید بجلی چوری کرنے میں بھی مصروف نظر آتی ہے اور اس کی ریکوری محکمہ کے اہلکاروں سمیت افسران بالا بھی کرنے سے کنی کتراتے ہیں ہاں مگر اپنا لائن لاسسز والا کھاتہ صاف کرنے کی غرض سے اس کانقصان غریب،مظلوم،سادہ لوح عوام کے کنکشنز پر ڈالنا ان کا وطیرہ بن چکا ہے جو غیر قانونی، غیر شرعی،اور اپنے اعمالوں میں برائیوں کا لا تعداد اضافہ کرنے کے سواء حقیقی طور پر اور کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ اگر اہلکار اور افسران اپنی ایمانداری کے ساتھ ڈیوٹیاں اور اس مافیا کے خلاف سرکاری رٹ قائم کرتے ہوئے کام کریں تو اصل بجلی چور اور لائن لاسسز کے ذمہ داروں کا تعین کرنا اور صرف ان ہی ذمہ داروں پر ہی نقصان کی مد میں بل چارج کرنے کے بعد اس کی ریکوری کروانا واجب ہے مگر بد قسمتی سے اس طرح قانون کے عین مطابق اور حق کے ساتھ کام نہیں ہو پا رہا ہے جس کے باعث یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ سسٹم واقعی ناکام ہو چکا ہے لیسکو کے ایس ڈی او عامر ٹائون اور ریونیو آفیسر مغلپورہ نے فی گھر 400یونٹس زیادہ اوور بلنگ کر ڈالی ہے ایکسین کی ناک کے نیچے تگڑہ مافیا دھرلے سے مبینہ بجلی چوری کرے اور سادہ لوح غریب عوام اس لائن لوسسز کو جبری پوری کرنے کی ظالمانہ پالیسی کا شکار بن کر رہ گئی ہے میٹر ریڈر کی عجلت میں پھرتیاں اور عجب منطق سے سائٹ پر میٹر کی عدم موجودگی کے باوجود 990یونٹس چارج کرنا بھی افسروں کے غلیظ لنگوٹ کا بھیانک پول کھول گیا ہے۔!! مہنگائی،پیٹرول بم،چالان،بے روزگاری، آمدن سے زائد اخراجات جیسے مسائل سے تنگ عوام کو مزید پریشانیوں میں دھکیلنا لیسکو افسران کے برُے اعمالوں کی نشاندہی عیاںکر گئی ہے اس موقع پر متاثرہ عوام کا بھی رد عمل سامنے آیا ہے جن کا کہنا تھا کہ ہم غریب عوام کے وجود پر نا حق،ظالمانہ،غیر قانونی لاتعدادکوڑوں کی برسات قیامت خیز منظر ہے، ابھی تو صرف دنیا میں ہی لیسکو کے CEOکے فیصلے کے منتظر ہیں باقی اللہ کی بارگاہ میں تو یقینا انصاف ملنا ہی ہے