ملک بھر میں چھ کروڑ سے زائدمزدوروں میں سے صرف85لاکھ کو سماجی تحفظ حاصل ہے
مہنگائی سے تنگ مزدور خود کشی پر مجبور ہے: جنرل سیکرٹری آفتاب سنز رائٹنگ ورکرز یونین
لاہو( نمائندہ خصوصی) آل پاکستان لیبر فیڈریشن سے منسلک آفتاب سنز رائٹنگ ورکرز یونین کے جنرل سیکرٹری چوہدری عبیداللہ گجرنے کہا ہے کہ حکومت کی مزدور دشمن پالیسیوں اور اقدامات نے مزدوروں کو زندہ درگور کردیاہے ، دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی سے محنت کش طبقہ خود کشی کرنے پر مجبور ہو گیاہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے صوبائی رہنما چوہدری عبیداللہ گجرنے کہا کہ پاکستان میں رسمی وغیررسمی شعبے کے مزدوروں کی تعداد چھ کروڑ سے زائد ہے جن میں سے85لاکھ کو سماجی تحفظ حاصل ہے اور لیبرقوانین کا اطلاق بھی رسمی شعبے تک محدودہے جبکہ غیررسمی شعبے جس میں ڈومیسٹک ورکرز،ہوم بیسڈ ورکرز،زراعت سے وابستہ ورکرز، تعمیراتی مزدور کی ایک بڑی تعدادشامل ہے ان کیلئے آج تک کوئی قانون سازی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے ان مزدوروں کوسماجی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ آفتاب سنز رائٹنگ ورکرز یونین کے جنرل سیکرٹری چوہدری عبیداللہ گجرنے کہا کہ دین اسلام نے 1447سال قبل آجر و اجیر کے حقوق کا تعین کر دیا تھا، مزدور اللہ کا دوست ہے مزدوروں کا استحصال کرنے والے ظالم اور تعمیر و ترقی کے دشمن ہیں،مزدوروں کو ان کی پوری اجرت دلوانا کسی بھی اسلامی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے،دین اسلام ایسے سماجی اور اقتصادی نظام مسترد کرتا ہے جس میں انسان کے ہاتھوں انسان کا استحصال ہو رہا ہو،تاجر،صنعتکار،مزدوروں کا فرض ہے کہ وہ اپنے ذمے حقوق و فرائض کو اخلاص کے ساتھ پورا کریںجبکہ مالکان کا فرض ہے کہ وہ مزدوروں کو ان کی محنت کا پورا معاوضہ ادا کریں اور معاہدے کے مطابق ان کی بہبود کریں اسی طرح مزدورں پر بھی واجب ہے کہ وہ مالک کا استحصال نہ کریں اور انہوں نے اپنے ذمہ جو محنت لی ہے اسے پوری دیانت کے ساتھ انجام دیں،آجر و اجیر کے درمیان خیر پر مبنی تعلق سے ترقی و خوشحالی کے دروازے کھلیں گے، مزدوروں کو صحت، تعلیم اور روزگار کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، مزدوروں کو روزگار کےساتھ ساتھ روزگار کا تحفظ بھی ملنا چاہیے۔
