
پاکستان کا سالانہ وفاقی بجٹ اعداد و شمار کا کوئی عام پلندہ نہیں بلکہ یہ اُس استحصالی نظام کا ایک سفاک دستاویزی ثبوت ہے جو غریب کی زندگی کو مزید تاریک کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ حکمرانوں کے دعوے اور ایوان کی گونج، دراصل عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ پیپلز پارٹی کا رویہ بھی کچھ ایسا ہے کہ وہ پہلے تو روٹھی ہوئی تو نظر آتی ہے مگر بعد میں ایک سُگھڑ بیگم کی مانند آخر کار مالیاتی گوشواروں میں مکمل تعاون کرتی پائی گئی ہے۔ 18,771 ارب روپے کے کل اخراجات میں سے 8,054 ارب روپے تو صرف قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 185 کھرب کے تخمینے میں 70 کھرب کا خوفناک پیشگی خسارہ رکھا گیا ہے جسے پورا کرنے کی خاطر 15.25 کھرب کی ٹیکس کولیکشن کا ہدف دیا گیا ہے؛ یہ کمی کیسے پوری ہوگی، یہ وہی پرانا روایتی استفسار ہے جسے دہائیوں سے اگلے سال میں دھکیلا جا رہا ہے۔ بجٹ کی تقسیمِ کار کا المیہ یہ ہے کہ ایک طرف 838 ارب روپے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے مختص ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہی خطیر رقم قوم کو محض امداد کے عوض بھکاری بنانے کی بجائے، بیوہ عورتوں کو گھروں میں چھوٹے پیمانے پر کاروبار شروع کروانے، غریب مردوں کو خود کفیل بنانے اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو بلاسود قرضے فراہم کر کے انہیں روزگار کے مواقع دینے پر خرچ کی جاتی تو اس سے نہ صرف ملکی معاشی سمت درست ہوتی بلکہ عوام کو عزتِ نفس کے ساتھ جینے کا موقع ملتا اور اس کا اثر بہاولنگر جیسے دور دراز خطوں میں بھی دکھائی دیتا جہاں سڑکوں کی تعمیر اور پینے کے صاف پانی جیسی سہولیات اب بھی ایک خواب ہیں۔ آخر یہ کیسا معاشی ماڈل ہے جہاں غریب کو اپنے ہی خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس دے کر، اسی مالی معاونت کے عوض خیرات لینے کے لیے قطار میں کھڑا کر دیا جاتا ہے؟ پاکستان میں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے؛ جن لوگوں کو ریلیف دینے کی اشد ضرورت ہے ان پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا گیا ہے، جبکہ جن کی آمدن لاکھوں، کروڑوں اور اربوں میں ہے، انہیں ہر طرح کا ریلیف اور مراعات حاصل ہیں۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ کیا یہ غربت مٹانے کا فارمولا ہے یا غریب کو ہی ختم کرنے کی منظم کوشش؟ اس کے ساتھ ساتھ مہنگائی کا ایک ایسا لامتناہی طوفان ہے جس نے تنہا غریب طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے کیونکہ آسمان کو چھوتے بجلی کے بل، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور زندگی بچانے والی ادویات کا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ اربابِ اختیار کو عوامی تکالیف کا کوئی ادراک نہیں ہے۔ یہ بجٹ عوام دوست نہیں بلکہ خالصتاً اشرافیہ دوست ہے، جس میں ایک طرف مراعات یافتہ طبقے کی سہولیات میں 200 فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا، تو دوسری جانب سرکاری ملازمین و پنشنرز کے لیے محض 7 فیصد اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ ایک پرائیویٹ اسکول ٹیچر 15 سے 20 ہزار میں گزارا کرنے پر مجبور ہے، جبکہ کم از کم تنخواہ 40,700 روپے مقرر کر کے ایک ایسا معاشی تضاد پیدا کیا گیا ہے جس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں اور سرکاری موقف یہ ہے کہ جو شخص ماہانہ ساڑھے 8 ہزار کماتا ہے وہ مستحق نہیں ہے۔ آخر کیا حکمران طبقے کے نزدیک غریبی کا پیمانہ کوئی سیارہ مریخ سے تو نہیں لایا گیا جہاں بجلی کے نرخوں اور آٹے کی قیمتوں کا کوئی وجود ہی نہیں؟ بجٹ سازی کا یہ عمل بالکل اس عجیب وغریب اعلان کی طرح ہے جس میں پہلے تو یہ کہا گیا کہ جو کھانا نہیں کھائے گا اسے انعام دیا جائے گا، سب نے خوشی خوشی وہ انعام لے لیا مگر پھر رات کو شرط رکھ دی گئی کہ کھانا اسی کو ملے گا جو انعام میں ملنے والے پیسے واپس کرے گا؛ یہ بجٹ بھی اسی طرح کا ایک معاشی جوڑ توڑ ہے جس میں پہلے عوام کو معمولی مراعات کا لالچ دے کر خوش کیا جاتا ہے اور پھر بالواسطہ ٹیکسوں اور گرانی کے ذریعے وہ سب اور اس سے کہیں زیادہ واپس لے لیا جاتا ہے۔ حکومت کی غیر مستقل مزاجی کا عالم یہ ہے کہ وفاقی ملازمین کے احتجاج کے سامنے جھکنے کے بعد اب صوبائی ملازمین بھی اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہیں۔ جب تک ترجیحات تبدیل کر کے تعلیم، صحت، سائنس اور ٹیکنالوجی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا، تب تک قرضوں کے یہ پہاڑ قوم کو پسماندگی کی طرف دھکیلتے رہیں گے۔ آخر کب تک ہم اس ‘اندھیر نگری، چوپٹ راج’ میں ہندسوں کے ان کھلونوں سے کھیلتے ہوئے اپنی نسلوں کا مستقبل داؤ پر لگاتے رہیں گے؟ کیا یہ بجٹ واقعی پاکستان کو ڈیجیٹل دور میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، یا یہ ہمیں ماضی کی فرسودہ غلامی کی زنجیروں میں مزید جکڑنے کی کوشش ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جب تک مالیاتی ترازو میں اشرافیہ کی مراعات کا پلڑا بھاری رہے گا، تب تک عام آدمی کے نصیب میں صرف محرومیاں ہی رہیں گی۔ اعداد و شمار کے ان گورکھ دھندوں سے نکل کر، ترجیحات کو عوامی فلاح سے ہم آہنگ کرنا ہی واحد راستہ ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ذمہ داران ایوانوں کی عیاشیوں کو ترک کر کے عوام کی دہلیز پر انصاف اور خوشحالی کے چراغ جلائیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو حقیقی معاشی خود مختاری اور عوام کو پسماندگی کی ان زنجیروں سے نجات عطا فرمائے۔ آمین