52

اعلیٰ عہدہ بڑا بلنڈر۔۔۔چھپے غیر قانونی نوٹیفکیشن۔۔!!


کنٹریکٹ کی پیدا وارکوبلند رُتبے کا خمار، مگر حقیقت ریت کی دیوار۔۔

اعلیٰ عہدے دار کا ماضی داغ دار، مگر حالیہ ادوار شاندار، احتسابی شکنجہ بھی تیار۔۔

ڈیزائنر ملزم نے بغیر ریکوری کروائے پھر سے ڈیزائن کیا اگلا راستہ ہموار۔۔

ہیڈ اور چیف ہیڈ نے خوب دھکیلا آگے، درحقیقت وہ میرٹ پر تھا وار۔۔

بیرون ملک سے کب پاکستان کس مقصد کے لئے آئے۔۔؟
غیر سرکاری مگر اعلیٰ افسر کی ذاتی کمپنی نے سمیٹے اربوں روپے کے ٹھیکے۔۔

کس ٹھیکے پر ہوئی FIR ، کس تھانے میں بنے سرکاری مہمان۔۔؟

بڑے ملزم کا کون قد آور بنا مدعی، کون تھی پنجاب کی اعلیٰ ترین شخصیت ۔۔؟

ایک سال سرکاری کنٹریکٹ، 3سال پرائیویٹ کنٹریکٹ پر پلنے والابنا طاقتور۔۔

بین الاقوامی فنڈز والے محکمے میں کنٹریکٹ سے غیر قانونی چھلانگ سے بنے سیدھا ہیڈ۔۔

غیر متعلقہ ڈگری کے باوجود عجب گیدڑ سنگھی سے کیا پورے سسٹم پر راج۔۔

ذاتی کمپنی،اربوں کے گھپلے،FIR، پھر بھی ہو گئے اعلی عہدے پر تعینات۔۔!!

سٹینڈر ڈچارٹرڈ بنک کی کون سی برانچ جرم کا ہے ٹھوس ثبوت ۔۔؟

کن کرتوت پر تھانے کے بعد اب NAB کے ریڈار پر آئے حضور۔۔

کنٹریکٹ بیس سے اعلیٰ ترین عہدے تک کی دلفریب اسٹوری صرف روزنامہ عوامی مشن کے شماروں میں ملاحضہ فرمائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں