26

طاقتور طوفان “باوی” تائیوان اور چین کی جانب بڑھنے لگا، تین ممالک میں ہائی الرٹ


حکام نے شہریوں کو خوراک، پانی اور ہنگامی سامان ذخیرہ کرنے کی ہدایت کر دی

(نیوز ڈیسک) بحرالکاہل میں بننے والا طاقتور طوفان “باوی” تیزی سے تائیوان اور مشرقی چین کی جانب بڑھ رہا ہے جس کے پیش نظر تائیوان، چین اور جاپان میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بحرالکاہل میں تشکیل پانے والا طوفان اس وقت تائیوان کے جنوب مشرق میں سمندر کے اوپر مسلسل پیش قدمی کر رہا ہے۔ اگرچہ اس کی رفتار میں معمولی کمی آئی ہے، تاہم اس کے ساتھ چلنے والی ہواؤں کی رفتار تقریباً 200 کلومیٹر فی گھنٹہ برقرار ہے۔ حکام نے شہریوں کو خوراک، پانی اور ہنگامی سامان ذخیرہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ 2024 کے بعد خطے کا طاقتور ترین طوفان ثابت ہو سکتا ہے۔ چینی محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان شمالی تائیوان کے قریب سے گزرنے کے بعد ہفتہ کی شام مشرقی چینی صوبے فوجیان کے ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ حجم کے اعتبار سے یہ 1987 کے بعد تائیوان سے ٹکرانے والا سب سے بڑا طوفان ہو سکتا ہے، جبکہ اگر اس کی شدت برقرار رہی تو یہ 2024 کے سپر ٹائفون کونگرے کے بعد ایشیا بحرالکاہل کا طاقتور ترین طوفان ہو گا۔ تائیوان کے صدر لائی چنگ دے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ خوراک، پینے کا پانی، ٹارچ، ادویات اور دیگر ضروری اشیا پر مشتمل ہنگامی بیگ تیار رکھیں، جو کم از کم تین روز تک ضروریات پوری کر سکے۔ ادھر جاپان کے محکمہ موسمیات نے اوکیناوا کے رہائشیوں کو تیز ہواؤں، لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب اور سمندری طغیانی کے خطرات کے پیش نظر جمعہ اور ہفتہ کے دوران انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔ برطانوی ادارے امپیریل کالج لندن سے وابستہ ماہر استوائی طوفان ژیانگ بو فینگ کے مطابق طوفان باوی نے بحرالکاہل کے گرم پانیوں سے طویل عرصے تک توانائی اور نمی حاصل کی ہے، جس کے باعث ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کی صورت میں بڑے پیمانے پر تباہی کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ طوفان کے راستے میں معمولی تبدیلی بھی متاثرہ علاقوں پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث چین، تائیوان اور جاپان حالیہ برسوں میں شدید موسمی واقعات کا زیادہ سامنا کر رہے ہیں۔ جبکہ رواں سال متوقع ایل نینو کے اثرات کے باعث زیادہ طاقتور اور بار بار آنے والے سمندری طوفانوں کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں