اِدھر ہم ۔۔ اُدھر تم۔۔ ایم ایس بمقابلہ سرکار
کرپشن مورال اَپ حکومتی رِٹ ٹھپ
اسپیشل سیکرٹری (D&R) نے بھی MS کونا اہل قرار دیتے ہوئے شوکاز نوٹس دیا ، شارک مائنڈ نے اس کو بھی دبوا دیا ، اسپیشل سیکرٹری سے موقف مانگا تو لا علم بن گئے
گورنمنٹ رولز اور محکمہ کی پالیسی کو دھرلے سے توڑنے کے باوجود ایم ایس اہم ترین سیٹ سے چپک گئے، ماننا پڑے گا MS کی پاور نے سب کو پچھاڑ کر رکھ دیا
اسپیشل سیکرٹری کا قانون کی وائلیشن کرنے کی تصدیق، ایم ایس کا قانونی طریقہ اپنانے کا دعویٰ۔!! ٹیکنیکل اور قانونی جنگ چھڑنے سے عوام کشمکش میں مبتلا
غیر قانونی ٹھیکہ کب اور کس طرح دینا ہے سب کچھ سیکھ کر اہم سیٹ پر تعینات، من پسند ٹھیکیدار اِن باقی سب آئوٹ، خود ساختہ پالیسی کی گونج پنجاب بھر میں پھیل گئی
خود ساختہ فرم اور بلیک لسٹ فرم کے مالک کے ساتھ سانجھے داریاں عیاں ، ایم ایس اور ٹھیکیدار مل کر سرکاری خزانے پر کاری ضرب لگانے کے لئے یک زباں
لاہور (نیوز انویسٹی گیشن سیل، عمر حیات چوہدری) محکمہ ہیلتھ میں سرکار کی حکومتی رٹ کو ٹکر دینے والا سامنے آ گیا سرکار ،افسران ایک جانب اور ایم ایس و معمولی ٹھیکیدار دوسری جانب آمنے سامنے ہو گئے جس سے تاثر پھیل گیا ہے کہ سرکار بمقابلہ ایم ایس کا دنگل سج گیا ہے تفصیلات کے مطابق سروسز ہسپتال لاہور میں ایم ایس کی جانب سے گزشتہ دنوں میں ہونے والی بے ضابطگیاں عوامی مشن کے پلیٹ فارم پر حکمرانوں اور عوام کے سامنے آئیں تھیںان میں مزید غیر قانونی سرگرمیوں کی نشاندہی سامنے آ گئی ہے جس میں ایم ایس نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال اور غیر قانونی پریکٹس کرتے ہوئے سالانہ پرکیورمنٹ کیلنڈر (APC ) سال 26-2025 میڈیسن اینڈ ڈسپوزیبل کی لوکل پرچیز (LP ) 46%کر دی تھی جو گورنمنٹ رولز اور ڈیپارٹمنٹ کی پالیسی کے صریحاً خلاف ہے اس دانستہ کئے گئے غیر قانونی اقدام پر اسپیشل سیکرٹری (D&R ) نے اپریل 2026 کو باقاعدہ ایم ایس کی نا قص کارکردگی سمیت غیر قانونی 46% میڈیسن وغیرہ کی خریداری کے خلاف شو کاز بھی دیا اور 05روز کا ٹائم مقرر کیا گیا مگر شارک مائنڈ نے اسے بھی دبوا دیا دلچسپ بات یہاں ہے کہ ایم ایس اس غیر قانونی پریکٹس کے باوجودجم کر اپنی سیٹ پر قائم و دائم ہیں نہ تو اس کیس کا کچھ بنا اور نہ ہی کوئی اب اس کیس کو چلا رہا ہے بس بے شمار فائلوں کی زد میں آ کر کہیں دب گئی ہے اس بارے ہمارے ادارے نے اسپیشل سیکرٹری سے فون کال کے ذریعے موقف مانگا تو اسپیشل سیکرٹری نے لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کرنے کو کہہ کر ٹال دیا ایک جانب تو اسپیشل سیکرٹری کا قانون کی وائلیشن کرنے کی تصدیق ہے جبکہ دوسری جانب ایم ایس کا قانونی طریقہ اپنانے کا دعویٰ ہے۔! جو سمجھ سے بالا تر ہے ٹیکنیکل اور قانونی جنگ چھڑنے سے عوام کشمکش میں مبتلا ہو چکی ہے مزید براں 04 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا کینٹین ٹھیکے کے بھی چرچے ہر سوں گونج رہے ہیں ایم ایس نے بھید پا لیا ہے کہ غیر قانونی ٹھیکہ کب اور کس طرح دینا ہے سب کچھ سیکھ کر اہم سیٹ پر تعینات ہیں ان کی گُڈ بک میں من پسند ٹھیکیدار اِن باقی سب آئوٹ ہو چکے ہیں ان کی خود ساختہ پالیسی کی گونج پنجاب بھر میں پھیل گئی ہے خود ساختہ فرم اور بلیک لسٹ فرم کے مالک کے ساتھ سانجھے داریاں بھی عیاں ہیں ایم ایس اور ٹھیکیدار مل کر سرکاری خزانے پر کاری ضرب لگانے کے لئے یک زباں بھی ہیں عوامی حلقوں میں میں بھی گونج سنائی دے رہی ہے کہ ” ایم ایس نے دانستہ طور پر سجایا خزانے پرکرپشن کاٹیکا، پھر بھی کوئی کر نہ سکا بال بیکا۔! ” گورنمنٹ رولز اور محکمہ کی پالیسی کو دھرلے سے توڑنے کے باوجود ایم ایس اہم ترین سیٹ سے چپک گئے ہیں ماننا پڑے گا ایم ایس کی پاور نے سب کو پچھاڑ کر رکھ دیا ہے جس کے باعث حلقہ احباب میں کھل کر چہ مگویاں ہو رہی ہیں کہ سروسز ہسپتال کے ایم ایس کا %46 میڈیسن کی خریداری اور 04 کروڑ مالیت کا غیر قانونی کینٹین ٹھیکہ کیسوں کے باوجود اپنی سیٹ پر ڈٹے رہنا ایم ایس بمقابلہ سرکار (ادھر ہم۔۔ادھر تم۔۔) جیسی صورتحال ہے اور محکمہ ہیلتھ کے سروسز ہسپتال میں کرپشن کا مورال اَپ ہے اور حکومتی رِٹ ٹھپ ہے




