گلی محلوں میں آوارہ کتوں کی بھرمار شہریوں خصوصاً بچوں کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے ۔
حکومت کے اربوں کے چالانوں کے ہدف کو پورا کرنے کیلئے شہریوں کو بھاری جرمانے قابل مذمت ہیں ۔
آوارہ کتوں کے خاتمے کے لیے شہر بھر میں فوری کاروائی کا آغاز کیا جائے ورنہ بڑے پیمانے پر احتجاج کی کال دیں گے ۔
امیرجماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ کی شہری مسائل پر سید مودودی اسلامک سنٹر میں پریس کانفرنس

لاہور: امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی نااہلی، ناقص منصوبہ بندی اور مسلسل عدم توجہی کے باعث لاہور تیزی سے “مسائلستان” میں تبدیل ہو رہا ہے، جہاں شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ شہر کے گلی محلوں میں آوارہ کتوں کی خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں خصوصاً بچوں کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے، جس کی حالیہ مثال عیدالفطر کے روز ایک معصوم بچی کی کتے کے کاٹنے سے ہلاکت ہے، جو حکومتی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سید مودودی اسلامک سنٹر شہری مسائل پر پریس کانفرنس کرتےہوئے کیا۔ پریس کانفرنس میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لاہوراظہر بلال ،صدر پبلک ایڈ کمیٹی قیصر شریف، سیکرٹری شاہد نوید ملک اور ڈپٹی سیکرٹریز عامر نثار خان بھی موجود تھے۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے ٹریفک پولیس کے بلاجواز چالانوں اور بھاری جرمانوں کو عوام کے لیے وبالِ جان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے کے ریونیو ہدف کے حصول کے لیے شہریوں پر ناجائز بوجھ ڈالا جا رہا ہےجو ناقابل قبول ہے ۔انہوں نے کہا کہ شہر میں کھلے مین ہولز بھی شہریوں کے لیے جان لیوا خطرہ بن چکے ہیں اور حالیہ واقعے میں ایک بچی کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گئی، جو انتظامیہ کی ناقص کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔ صفائی کی ابتر صورتحال، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر اور بوسیدہ سیوریج نظام شہری زندگی کو مزید مشکلات سے دوچار کر رہے ہیں، جبکہ حالیہ بارشوں کے بعد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونا معمول بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند مخصوص شاہراہوں اور علاقوں تک ترقی کو محدود رکھ کر پورے لاہور کو خوبصورت ظاہر کرنا عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے اور “دو لاہور” کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آوارہ کتوں کے خاتمے، کھلے مین ہولز کی فوری بندش، صفائی اور سیوریج نظام کی بہتری، بجلی کی خطرناک تاروں کی درستگی اور ٹریفک پولیس کو عوام دوست بنانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر جماعت اسلامی عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور احتجاج کا اعلان کرے گی۔