2

سیکرٹری صاحب کے بکرے لینے ہیں، وارڈ 10 میں مبینہ غیر قانونی شٹرز، رشوت اور دباؤ کا تہلکہ خیز انکشاف


کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی میں مبینہ کرپشن کی نئی کہانی، نوٹس شدہ شٹرز دوبارہ کیسے لگ گئے؟ سیکرٹری راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انکوائری اور قانونی کارروائی کا عندیہ دے دیا

پہلے نوٹس، پھر کارروائی، اب دوبارہ تنصیب، شہریوں نے کنٹونمنٹ بورڈ کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیے۔ذرائع کے مطابق تقریباً نو شٹرز مختلف مقامات پر مبینہ طور پر سیاسی و مالی دباؤ کے تحت لگوائے گئے

تحقیقاتی ٹیم کے مطابق متعلقہ انسپکٹر نے “اوپر کے پریشر” میں کام کرنے کا اعتراف کیا۔شہری مطالبہ کر رہے ہیں کہ غیر قانونی تعمیرات اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی میڈیا کے سامنے لائی جائے

کوئی بھی ذمہ دار چاہے تو شواہد کے ساتھ اپنا موقف دے سکتا ہے جسکو غیر جانبدرانہ پالیسی کے مطابق شائع کیا جائیگا ، ادارہ



کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی کے وارڈ نمبر 10 میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور شٹرز کی تنصیب کا معاملہ انتہائی سنگین رخ اختیار کر گیا ہے، جہاں مبینہ طور پر سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال، غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ دینے، بھاری رقوم کی وصولی اور “اوپر سے دباؤ” کے تحت کام کروانے جیسے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق معاملہ صرف چند غیر قانونی شٹرز تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے مبینہ طور پر ایک منظم نیٹ ورک، سفارش، اثر و رسوخ اور مالی مفادات کارفرما دکھائی دیتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق وارڈ نمبر 10 کے مختلف علاقوں میں ایک، دو، تین جبکہ بعض مقامات پر چار چار شٹرز تک مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے نصب کروائے گئے۔ ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً نو شٹرز مختلف مقامات پر لگوائے گئے، جن میں سے کئی شٹرز ایسے تھے جن کے خلاف ماضی میں کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے باقاعدہ قانونی کارروائیاں کی جا چکی تھیں۔ ان پر نوٹسز جاری ہوئے تھے جبکہ بعض مقامات پر سابقہ بلڈنگ انسپکٹرز نے کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف کام رکوا دیا تھا بلکہ نصب شدہ شٹرز اتار کر تحویل میں بھی لے لیے تھے۔ ذرائع کے مطابق اُس وقت متعلقہ اہلکاروں نے واضح مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ تعمیرات قواعد و ضوابط کے خلاف ہیں اور انہیں کسی صورت مکمل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔کنٹونمنٹ بورڈ کے قواعد و ضوابط اور عمومی بلڈنگ بائی لاز کے مطابق اگر کسی تعمیر یا شٹر کو غیر قانونی قرار دے کر نوٹس جاری کیا جاتا ہے تو اس کے بعد باقاعدہ قانونی طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے، جس میں ریوائزڈ پلان جمع کروانا، نقشے کی منظوری، جرمانے کی ادائیگی، متعلقہ فیسز اور دیگر قانونی تقاضے پورے کرنا شامل ہوتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے میں نہ تو ایسا کوئی واضح قانونی عمل سامنے آیا اور نہ ہی یہ معلومات سامنے آئیں کہ متعلقہ مالکان نے تمام قانونی تقاضے مکمل کیے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ شہری حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ اگر ایک بلڈنگ انسپکٹر انہی شٹرز کو غیر قانونی قرار دے کر کارروائی کرتا ہے، کام رکواتا ہے اور شٹرز تک اترواتا ہے، تو پھر دوسرا بلڈنگ انسپکٹر اچانک کس بنیاد پر انہی شٹرز کی تنصیب مکمل کرواتا ہے؟ اگر پہلے کارروائی درست تھی تو موجودہ اقدام کیسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے، اور اگر موجودہ اقدام درست ہے تو پھر سابقہ کارروائی کیوں کی گئی تھی؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان متضاد اقدامات نے پورے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔شہریوں کے مطابق صورتحال نے اُس وقت مزید تشویشناک رخ اختیار کیا جب عیدالاضحیٰ سے چند ہفتے قبل اچانک وہی رکے ہوئے کام دوبارہ شروع ہو گئے اور جن شٹرز پر پہلے کارروائی ہو چکی تھی، انہیں تیزی سے مکمل کروایا جانے لگا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کئی مقامات پر رات گئے تک کام جاری رہا جبکہ بعض علاقوں میں مبینہ طور پر متعلقہ عملے نے خود نگرانی کر کے تنصیب مکمل کروائی۔ذرائع کے مطابق مختلف شٹرز کے مالکان سے مبینہ طور پر “سیکرٹری صاحب کے بکروں” اور “اوپر کی فرمائش” کے نام پر بھاری رقوم وصول کی گئیں۔ بعض مقامات پر یہ رقم مبینہ طور پر پچاس ہزار روپے جبکہ بعض جگہوں پر ڈیڑھ، ڈیڑھ لاکھ روپے تک وصول کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ صرف رشوت یا کرپشن کا معاملہ نہیں بلکہ سرکاری اختیارات کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی بدترین مثال ہے۔علاقہ مکینوں کے مطابق متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر مبینہ طور پر کھلے عام یہ کہتا پھر رہا تھا کہ “سیکرٹری صاحب کے بچوں کی فرمائش ہے کہ بکرے لینے ہیں، اسی لیے یہ کام کروائے جا رہے ہیں، جو کرنا ہے کر لیں، جس کو بتانا ہے بتا دیں۔” شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ایک سرکاری اہلکار اتنے اعتماد کے ساتھ اس قسم کی گفتگو کر رہا تھا تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یا تو اسے کسی طاقتور پشت پناہی کا یقین تھا یا پھر وہ واقعی کسی اعلیٰ شخصیت کے نام پر کام کر رہا تھا۔شہری حلقوں میں اس بات پر شدید غم و غصہ اور تشویش پائی جا رہی ہے کہ ایک مقدس عبادت، یعنی قربانی، کے نام پر اگر مبینہ طور پر قانون شکنی، غیر قانونی تعمیرات اور مالی لین دین کو جواز بنایا جا رہا ہے تو یہ نہ صرف قانون بلکہ مذہبی اقدار کی بھی سنگین توہین ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ قربانی اللہ کی رضا کے لیے دی جاتی ہے، نہ کہ ناجائز ذرائع، مبینہ رشوت اور اختیارات کے غلط استعمال سے حاصل کیے گئے پیسوں سے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی “بکروں” کی خواہش پوری کرنے کے لیے غیر قانونی کام کروائے گئے، تو یہ صرف محکمے یا عوام کے ساتھ دھوکا نہیں بلکہ اللہ کے احکامات اور مذہبی فریضے کے ساتھ بھی کھیلنے کے مترادف ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ اگر حرام اور مشکوک ذرائع سے رقم لے کر قربانی کے جانور خریدے جائیں تو پھر ایسی قربانی کی روح اور مقصد کہاں باقی رہ جاتا ہے۔روزنامہ “عوامی مشن” کی تحقیقاتی ٹیم نے جب اس معاملے کی چھان بین شروع کی تو مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی معلومات میں حیران کن مماثلت سامنے آئی۔ متعدد افراد نے الگ الگ مقامات پر تقریباً ایک جیسے الزامات عائد کیے کہ غیر قانونی شٹرز کی تنصیب کے لیے مخصوص رقوم کا مطالبہ کیا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ “اوپر تک حصہ جاتا ہے”۔ تحقیقاتی ٹیم کو ملنے والی معلومات کے مطابق بعض متاثرین نے دعویٰ کیا کہ اگر رقم نہ دی جاتی تو ان کا کام مکمل نہیں ہونے دیا جاتا۔تحقیقات کے دوران جب متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر سے براہِ راست مؤقف لیا گیا تو اس نے مبینہ طور پر خود یہ تسلیم کیا کہ “اس سے غلطی ہوئی ہے” اور وہ “پریشر” میں آ کر یہ کام کرتا رہا۔ ذرائع کے مطابق انسپکٹر نے یہ بھی تاثر دیا کہ اس پر “اوپر” سے شدید دباؤ موجود تھا، جس کے باعث وہ ان غیر قانونی تنصیبات کو رکوانے کے بجائے مکمل کرواتا رہا۔ذرائع کے مطابق معاملہ اُس وقت مزید سنگین ہو گیا جب تحقیقاتی عمل کے دوران مبینہ طور پر متعلقہ انسپکٹر نے خبر کو دبانے اور معاملے کو منظرِ عام پر آنے سے روکنے کے لیے تحقیقاتی ٹیم کو “مینج” کرنے کی کوشش کی۔ اطلاعات ہیں کہ ٹیم کو مختلف انداز میں راضی کرنے اور معاملے کو زیادہ نمایاں نہ کرنے کے لیے مالی فائدے کی پیشکش بھی کی گئی، تاہم تحقیقاتی ٹیم نے کسی بھی قسم کی مبینہ پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے تحقیقات جاری رکھیں۔ذرائع کے مطابق اس پورے معاملے میں ایک اور اہم اور تشویشناک پہلو بھی سامنے آ رہا ہے، جس نے شہری حلقوں کے شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ محکمانہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر کو بلڈنگ کنٹرول سیل میں آئے ابھی صرف چند ماہ ہی ہوئے ہیں، تاہم مختصر عرصے میں ہی اس کے نام سے متعدد متنازعہ اور مبینہ غیر قانونی معاملات سامنے آ چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ کے اندر یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ مذکورہ انسپکٹر کو مخصوص مقاصد اور بعض “خصوصی کام” نکالنے کے لیے ٹیکس برانچ سے بلڈنگ کنٹرول سیل میں لایا گیا تاکہ بعض افسران اپنی ذاتی خواہشات اور مالی مفادات آسانی سے پورے کر سکیں۔محکمانہ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مبینہ طور پر اس پورے انتظام کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ اگر کبھی کوئی معاملہ بہت زیادہ ہائی لائٹ ہو جائے، عوامی دباؤ بڑھ جائے یا میڈیا میں شور مچ جائے تو فوری طور پر اس انسپکٹر کو یہ کہہ کر ٹرانسفر کر دیا جائے کہ “اسے بلڈنگ کے کام کی سمجھ نہیں تھی” یا “اس سے غلطیاں ہو گئی تھیں”، تاکہ اصل ذمہ دار پس منظر میں محفوظ رہ سکیں۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ اب تک جتنی بھی شکایات متعلقہ سیکرٹری تک پہنچیں، ان پر نہ تو کوئی واضح محکمانہ کارروائی سامنے آئی، نہ کسی غیر قانونی تعمیر پر جرمانہ عائد کیا گیا، نہ نقصان کا تخمینہ لگا کر ریکوری کی گئی اور نہ ہی ان تعمیرات کے خلاف وہ کارروائیاں کی گئیں جو عام طور پر قانون کے مطابق کی جاتی ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ عام طور پر اگر کوئی غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا شہری معمولی خلاف ورزی بھی کر دے تو کنٹونمنٹ بورڈ کا عملہ فوری کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف نوٹسز جاری کرتا ہے بلکہ بعض اوقات پورے پورے حصے مسمار کر دیے جاتے ہیں، بھاری جرمانے عائد ہوتے ہیں اور مالکان کو مسلسل دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ مگر حیران کن طور پر اس پورے معاملے میں، جہاں مبینہ طور پر متعدد غیر قانونی شٹرز لگوائے گئے، ابھی تک کسی ایک مقام پر بھی نہ کوئی مسماری کی کارروائی سامنے آئی، نہ جرمانہ عائد ہوا اور نہ ہی کسی ذمہ دار کے خلاف کوئی نمایاں ایکشن لیا گیا۔اس تمام معاملے میں “بکروں” سے متعلق گفتگو اس لیے بھی شہریوں کے لیے زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ محکمانہ ذرائع کے مطابق اس سے قبل بھی مذکورہ انسپکٹر کے حوالے سے ایک سے زائد شکایات متعلقہ سیکرٹری تک پہنچ چکی تھیں۔ تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان شکایات پر سخت کارروائی کرنے یا متعلقہ اہلکار کو سزا دینے کے بجائے معاملہ ٹھنڈا کر دیا گیا۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ماضی میں بھی ایسے معاملات میں نرمی برتی گئی اور اب دوبارہ اسی نوعیت کے الزامات سامنے آ رہے ہیں تو اس سے شکوک و شبہات مزید مضبوط ہوتے ہیں۔اس حوالے سے جب روزنامہ “عوامی مشن” کی جانب سے سیکرٹری راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اپنا واضح مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ وارڈ کے بلڈنگ انسپکٹر کے خلاف مبینہ بےضابطگیوں اور مختلف شکایات کے حوالے سے پہلے ہی محکمانہ سطح پر معاملات زیرِ غور ہیں اور بعض معاملات کی باقاعدہ انکوائری بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انکوائری میں متعلقہ انسپکٹر یا اس کے ساتھ شامل کوئی بھی شخص قصوروار پایا گیا تو اس کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔جب سیکرٹری راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ سے یہ سوال کیا گیا کہ متعلقہ انسپکٹر مبینہ طور پر ان کے نام پر یہ تاثر دے رہا ہے کہ یہ تمام کام ان کے کہنے پر کیے جا رہے ہیں اور اسے مخصوص طور پر رکے ہوئے یا متنازعہ کام نمٹانے کے لیے تعینات کیا گیا ہے، تو انہوں نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ “ایسی کوئی بات نہیں، نہ ہم کسی سیاسی دباؤ میں آتے ہیں اور نہ ہی کسی غیر قانونی کام کی اجازت دیتے ہیں۔ جو کام غلط ہے وہ غلط ہے اور اس کے خلاف کنٹونمنٹ رولز اینڈ ریگولیشنز کے مطابق کارروائی بھی کی جائے گی۔”انہوں نے مزید کہا کہ “اگر کوئی بلڈنگ انسپکٹر یا اہلکار اپنے ذاتی مفاد کے لیے ہمارا نام استعمال کرتا ہے تو اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ ماضی میں بھی بعض اہلکار ذاتی فائدے کے لیے افسران کے نام استعمال کرتے رہے ہیں۔ اگر انکوائری میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کسی نے ہمارے نام کا ناجائز استعمال کیا یا غیر قانونی کام کیے تو اس کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔”سیکرٹری راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ نے یہ بات بھی واضح کی کہ “اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی غیر قانونی کام یا بےضابطگی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شروع ہوتی ہے تو وہ اپنے دفاع کے لیے افسران پر الزامات لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس میرے خلاف، میرے کسی سینیئر افسر یا کسی بھی متعلقہ اہلکار کے خلاف کوئی ثبوت موجود ہے کہ اس نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے تو وہ ثبوت سامنے لائے۔ کنٹونمنٹ بائی لاز اور سی ای او کنٹونمنٹ کے احکامات کے مطابق ہر معاملے کی باقاعدہ انکوائری کی جائے گی اور جو بھی قصوروار پایا گیا اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔”اب سب سے بڑا سوال یہی بنتا ہے کہ ایک طرف سیکرٹری راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ تمام معاملات کی انکوائری کی جائے گی اور اگر کوئی اہلکار یا افسر قصوروار پایا گیا تو اس کے خلاف کنٹونمنٹ رولز اینڈ ریگولیشنز کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی، لیکن دوسری طرف اب تک نہ تو متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر کے خلاف کوئی واضح عملی کارروائی سامنے آئی ہے اور نہ ہی ان مبینہ غیر قانونی شٹرز یا تعمیرات کے خلاف کوئی ایسا نمایاں آپریشن دیکھنے میں آیا ہے جس سے یہ تاثر مضبوط ہو کہ محکمہ واقعی اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اب یہ دیکھنا ضروری ہو گا کہ آیا سیکرٹری صاحب اپنے دیے گئے مؤقف پر قائم رہتے ہیں یا پھر ماضی کی طرح یہ معاملہ بھی صرف “انکوائری جاری ہے” تک محدود رہ جائے گا۔شہری حلقوں کے مطابق راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں ماضی میں بھی متعدد ایسی غیر قانونی عمارتیں، شٹرز اور تعمیرات سامنے آ چکی ہیں جن کے خلاف ابتدا میں نوٹسز اور کارروائیوں کا شور تو بہت مچا، مگر بعد ازاں وہ کیسز یا تو فائلوں کے نیچے دب گئے، یا وقتی معطلی اور رسمی کارروائی کے بعد خاموشی اختیار کر لی گئی۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کئی مقامات پر آج بھی ایسی تعمیرات موجود ہیں جن کے خلاف کارروائی کا آغاز تو ہوا لیکن وہ کارروائی کبھی منطقی انجام تک نہ پہنچ سکی۔شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اب صرف ایک بلڈنگ انسپکٹر یا چند شٹرز تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی کے نظام، شفافیت اور قانون پر عملدرآمد کا امتحان بن چکا ہے۔ خاص طور پر سی ای او کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی اور ڈی جی ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس کے لیے بھی یہ ایک بڑا امتحان ہے کہ آیا وہ اس معاملے میں حقیقی اور غیر جانبدارانہ کارروائی کرتے ہیں یا یہ معاملہ بھی ماضی کی طرح وقتی خبروں اور فائلوں تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی فوری، شفاف اور مکمل غیر جانبدارانہ انکوائری کروائی جائے اور سب سے پہلے عوام کو قانونی اور واضح انداز میں بتایا جائے کہ جن شٹرز اور غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے الزامات سامنے آ رہے ہیں، آیا وہ الزامات درست ہیں یا نہیں۔ اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہو جائے کہ متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر نے “اوپر کے دباؤ”، اثر و رسوخ یا “عیدالاضحیٰ کے بکرے” جیسے جواز کے تحت غیر قانونی کام کروائے تو پھر صرف ایک ماتحت اہلکار کے خلاف کارروائی کافی نہیں ہونی چاہیے بلکہ جس کسی نے بھی اپنے عہدے، اختیار یا اثر و رسوخ کا ناجائز استعمال کیا، اس کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔شہری حلقوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اس معاملے میں ہونے والی ہر قانونی پیش رفت، انکوائری، کارروائی، جرمانے، مسماری یا معطلی کو میڈیا اور عوامی سطح پر مکمل شفافیت کے ساتھ منظرِ عام پر لایا جائے تاکہ عوام کو یہ معلوم ہو سکے کہ کن غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کیا کارروائی ہوئی، کون کون ذمہ دار ٹھہرا اور کس کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس پورے معاملے کو شفاف انداز میں منطقی انجام تک پہنچایا گیا تو یہ نہ صرف ادارے کی ساکھ بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو گا بلکہ آئندہ ایسے عناصر کے لیے بھی ایک واضح مثال بنے گا جو ذاتی مفادات کے لیے قانون اور اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہیں۔اس حوالے سے کوئی بھی ذمہ دار چاہے گا تو اپنی غیر جانبدرانہ پالیسی کے مطابق مناسب جگہ فراہم کی جائیگی۔سیکرٹری صاحب کے بکرے لینے ہیں، وارڈ 10 میں مبینہ غیر قانونی شٹرز، رشوت اور دباؤ کا تہلکہ خیز انکشاف

کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی میں مبینہ کرپشن کی نئی کہانی، نوٹس شدہ شٹرز دوبارہ کیسے لگ گئے؟ سیکرٹری راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انکوائری اور قانونی کارروائی کا عندیہ دے دیا

پہلے نوٹس، پھر کارروائی، اب دوبارہ تنصیب، شہریوں نے کنٹونمنٹ بورڈ کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیے۔ذرائع کے مطابق تقریباً نو شٹرز مختلف مقامات پر مبینہ طور پر سیاسی و مالی دباؤ کے تحت لگوائے گئے

تحقیقاتی ٹیم کے مطابق متعلقہ انسپکٹر نے “اوپر کے پریشر” میں کام کرنے کا اعتراف کیا۔شہری مطالبہ کر رہے ہیں کہ غیر قانونی تعمیرات اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی میڈیا کے سامنے لائی جائے

کوئی بھی ذمہ دار چاہے تو شواہد کے ساتھ اپنا موقف دے سکتا ہے جسکو غیر جانبدرانہ پالیسی کے مطابق شائع کیا جائیگا ، ادارہ



کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی کے وارڈ نمبر 10 میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور شٹرز کی تنصیب کا معاملہ انتہائی سنگین رخ اختیار کر گیا ہے، جہاں مبینہ طور پر سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال، غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ دینے، بھاری رقوم کی وصولی اور “اوپر سے دباؤ” کے تحت کام کروانے جیسے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق معاملہ صرف چند غیر قانونی شٹرز تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے مبینہ طور پر ایک منظم نیٹ ورک، سفارش، اثر و رسوخ اور مالی مفادات کارفرما دکھائی دیتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق وارڈ نمبر 10 کے مختلف علاقوں میں ایک، دو، تین جبکہ بعض مقامات پر چار چار شٹرز تک مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے نصب کروائے گئے۔ ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً نو شٹرز مختلف مقامات پر لگوائے گئے، جن میں سے کئی شٹرز ایسے تھے جن کے خلاف ماضی میں کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے باقاعدہ قانونی کارروائیاں کی جا چکی تھیں۔ ان پر نوٹسز جاری ہوئے تھے جبکہ بعض مقامات پر سابقہ بلڈنگ انسپکٹرز نے کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف کام رکوا دیا تھا بلکہ نصب شدہ شٹرز اتار کر تحویل میں بھی لے لیے تھے۔ ذرائع کے مطابق اُس وقت متعلقہ اہلکاروں نے واضح مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ تعمیرات قواعد و ضوابط کے خلاف ہیں اور انہیں کسی صورت مکمل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔کنٹونمنٹ بورڈ کے قواعد و ضوابط اور عمومی بلڈنگ بائی لاز کے مطابق اگر کسی تعمیر یا شٹر کو غیر قانونی قرار دے کر نوٹس جاری کیا جاتا ہے تو اس کے بعد باقاعدہ قانونی طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے، جس میں ریوائزڈ پلان جمع کروانا، نقشے کی منظوری، جرمانے کی ادائیگی، متعلقہ فیسز اور دیگر قانونی تقاضے پورے کرنا شامل ہوتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے میں نہ تو ایسا کوئی واضح قانونی عمل سامنے آیا اور نہ ہی یہ معلومات سامنے آئیں کہ متعلقہ مالکان نے تمام قانونی تقاضے مکمل کیے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ شہری حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ اگر ایک بلڈنگ انسپکٹر انہی شٹرز کو غیر قانونی قرار دے کر کارروائی کرتا ہے، کام رکواتا ہے اور شٹرز تک اترواتا ہے، تو پھر دوسرا بلڈنگ انسپکٹر اچانک کس بنیاد پر انہی شٹرز کی تنصیب مکمل کرواتا ہے؟ اگر پہلے کارروائی درست تھی تو موجودہ اقدام کیسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے، اور اگر موجودہ اقدام درست ہے تو پھر سابقہ کارروائی کیوں کی گئی تھی؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان متضاد اقدامات نے پورے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔شہریوں کے مطابق صورتحال نے اُس وقت مزید تشویشناک رخ اختیار کیا جب عیدالاضحیٰ سے چند ہفتے قبل اچانک وہی رکے ہوئے کام دوبارہ شروع ہو گئے اور جن شٹرز پر پہلے کارروائی ہو چکی تھی، انہیں تیزی سے مکمل کروایا جانے لگا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کئی مقامات پر رات گئے تک کام جاری رہا جبکہ بعض علاقوں میں مبینہ طور پر متعلقہ عملے نے خود نگرانی کر کے تنصیب مکمل کروائی۔ذرائع کے مطابق مختلف شٹرز کے مالکان سے مبینہ طور پر “سیکرٹری صاحب کے بکروں” اور “اوپر کی فرمائش” کے نام پر بھاری رقوم وصول کی گئیں۔ بعض مقامات پر یہ رقم مبینہ طور پر پچاس ہزار روپے جبکہ بعض جگہوں پر ڈیڑھ، ڈیڑھ لاکھ روپے تک وصول کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ صرف رشوت یا کرپشن کا معاملہ نہیں بلکہ سرکاری اختیارات کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی بدترین مثال ہے۔علاقہ مکینوں کے مطابق متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر مبینہ طور پر کھلے عام یہ کہتا پھر رہا تھا کہ “سیکرٹری صاحب کے بچوں کی فرمائش ہے کہ بکرے لینے ہیں، اسی لیے یہ کام کروائے جا رہے ہیں، جو کرنا ہے کر لیں، جس کو بتانا ہے بتا دیں۔” شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ایک سرکاری اہلکار اتنے اعتماد کے ساتھ اس قسم کی گفتگو کر رہا تھا تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یا تو اسے کسی طاقتور پشت پناہی کا یقین تھا یا پھر وہ واقعی کسی اعلیٰ شخصیت کے نام پر کام کر رہا تھا۔شہری حلقوں میں اس بات پر شدید غم و غصہ اور تشویش پائی جا رہی ہے کہ ایک مقدس عبادت، یعنی قربانی، کے نام پر اگر مبینہ طور پر قانون شکنی، غیر قانونی تعمیرات اور مالی لین دین کو جواز بنایا جا رہا ہے تو یہ نہ صرف قانون بلکہ مذہبی اقدار کی بھی سنگین توہین ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ قربانی اللہ کی رضا کے لیے دی جاتی ہے، نہ کہ ناجائز ذرائع، مبینہ رشوت اور اختیارات کے غلط استعمال سے حاصل کیے گئے پیسوں سے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی “بکروں” کی خواہش پوری کرنے کے لیے غیر قانونی کام کروائے گئے، تو یہ صرف محکمے یا عوام کے ساتھ دھوکا نہیں بلکہ اللہ کے احکامات اور مذہبی فریضے کے ساتھ بھی کھیلنے کے مترادف ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ اگر حرام اور مشکوک ذرائع سے رقم لے کر قربانی کے جانور خریدے جائیں تو پھر ایسی قربانی کی روح اور مقصد کہاں باقی رہ جاتا ہے۔روزنامہ “عوامی مشن” کی تحقیقاتی ٹیم نے جب اس معاملے کی چھان بین شروع کی تو مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی معلومات میں حیران کن مماثلت سامنے آئی۔ متعدد افراد نے الگ الگ مقامات پر تقریباً ایک جیسے الزامات عائد کیے کہ غیر قانونی شٹرز کی تنصیب کے لیے مخصوص رقوم کا مطالبہ کیا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ “اوپر تک حصہ جاتا ہے”۔ تحقیقاتی ٹیم کو ملنے والی معلومات کے مطابق بعض متاثرین نے دعویٰ کیا کہ اگر رقم نہ دی جاتی تو ان کا کام مکمل نہیں ہونے دیا جاتا۔تحقیقات کے دوران جب متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر سے براہِ راست مؤقف لیا گیا تو اس نے مبینہ طور پر خود یہ تسلیم کیا کہ “اس سے غلطی ہوئی ہے” اور وہ “پریشر” میں آ کر یہ کام کرتا رہا۔ ذرائع کے مطابق انسپکٹر نے یہ بھی تاثر دیا کہ اس پر “اوپر” سے شدید دباؤ موجود تھا، جس کے باعث وہ ان غیر قانونی تنصیبات کو رکوانے کے بجائے مکمل کرواتا رہا۔ذرائع کے مطابق معاملہ اُس وقت مزید سنگین ہو گیا جب تحقیقاتی عمل کے دوران مبینہ طور پر متعلقہ انسپکٹر نے خبر کو دبانے اور معاملے کو منظرِ عام پر آنے سے روکنے کے لیے تحقیقاتی ٹیم کو “مینج” کرنے کی کوشش کی۔ اطلاعات ہیں کہ ٹیم کو مختلف انداز میں راضی کرنے اور معاملے کو زیادہ نمایاں نہ کرنے کے لیے مالی فائدے کی پیشکش بھی کی گئی، تاہم تحقیقاتی ٹیم نے کسی بھی قسم کی مبینہ پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے تحقیقات جاری رکھیں۔ذرائع کے مطابق اس پورے معاملے میں ایک اور اہم اور تشویشناک پہلو بھی سامنے آ رہا ہے، جس نے شہری حلقوں کے شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ محکمانہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر کو بلڈنگ کنٹرول سیل میں آئے ابھی صرف چند ماہ ہی ہوئے ہیں، تاہم مختصر عرصے میں ہی اس کے نام سے متعدد متنازعہ اور مبینہ غیر قانونی معاملات سامنے آ چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ کے اندر یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ مذکورہ انسپکٹر کو مخصوص مقاصد اور بعض “خصوصی کام” نکالنے کے لیے ٹیکس برانچ سے بلڈنگ کنٹرول سیل میں لایا گیا تاکہ بعض افسران اپنی ذاتی خواہشات اور مالی مفادات آسانی سے پورے کر سکیں۔محکمانہ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مبینہ طور پر اس پورے انتظام کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ اگر کبھی کوئی معاملہ بہت زیادہ ہائی لائٹ ہو جائے، عوامی دباؤ بڑھ جائے یا میڈیا میں شور مچ جائے تو فوری طور پر اس انسپکٹر کو یہ کہہ کر ٹرانسفر کر دیا جائے کہ “اسے بلڈنگ کے کام کی سمجھ نہیں تھی” یا “اس سے غلطیاں ہو گئی تھیں”، تاکہ اصل ذمہ دار پس منظر میں محفوظ رہ سکیں۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ اب تک جتنی بھی شکایات متعلقہ سیکرٹری تک پہنچیں، ان پر نہ تو کوئی واضح محکمانہ کارروائی سامنے آئی، نہ کسی غیر قانونی تعمیر پر جرمانہ عائد کیا گیا، نہ نقصان کا تخمینہ لگا کر ریکوری کی گئی اور نہ ہی ان تعمیرات کے خلاف وہ کارروائیاں کی گئیں جو عام طور پر قانون کے مطابق کی جاتی ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ عام طور پر اگر کوئی غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا شہری معمولی خلاف ورزی بھی کر دے تو کنٹونمنٹ بورڈ کا عملہ فوری کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف نوٹسز جاری کرتا ہے بلکہ بعض اوقات پورے پورے حصے مسمار کر دیے جاتے ہیں، بھاری جرمانے عائد ہوتے ہیں اور مالکان کو مسلسل دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ مگر حیران کن طور پر اس پورے معاملے میں، جہاں مبینہ طور پر متعدد غیر قانونی شٹرز لگوائے گئے، ابھی تک کسی ایک مقام پر بھی نہ کوئی مسماری کی کارروائی سامنے آئی، نہ جرمانہ عائد ہوا اور نہ ہی کسی ذمہ دار کے خلاف کوئی نمایاں ایکشن لیا گیا۔اس تمام معاملے میں “بکروں” سے متعلق گفتگو اس لیے بھی شہریوں کے لیے زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ محکمانہ ذرائع کے مطابق اس سے قبل بھی مذکورہ انسپکٹر کے حوالے سے ایک سے زائد شکایات متعلقہ سیکرٹری تک پہنچ چکی تھیں۔ تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان شکایات پر سخت کارروائی کرنے یا متعلقہ اہلکار کو سزا دینے کے بجائے معاملہ ٹھنڈا کر دیا گیا۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ماضی میں بھی ایسے معاملات میں نرمی برتی گئی اور اب دوبارہ اسی نوعیت کے الزامات سامنے آ رہے ہیں تو اس سے شکوک و شبہات مزید مضبوط ہوتے ہیں۔اس حوالے سے جب روزنامہ “عوامی مشن” کی جانب سے سیکرٹری راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اپنا واضح مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ وارڈ کے بلڈنگ انسپکٹر کے خلاف مبینہ بےضابطگیوں اور مختلف شکایات کے حوالے سے پہلے ہی محکمانہ سطح پر معاملات زیرِ غور ہیں اور بعض معاملات کی باقاعدہ انکوائری بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انکوائری میں متعلقہ انسپکٹر یا اس کے ساتھ شامل کوئی بھی شخص قصوروار پایا گیا تو اس کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔جب سیکرٹری راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ سے یہ سوال کیا گیا کہ متعلقہ انسپکٹر مبینہ طور پر ان کے نام پر یہ تاثر دے رہا ہے کہ یہ تمام کام ان کے کہنے پر کیے جا رہے ہیں اور اسے مخصوص طور پر رکے ہوئے یا متنازعہ کام نمٹانے کے لیے تعینات کیا گیا ہے، تو انہوں نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ “ایسی کوئی بات نہیں، نہ ہم کسی سیاسی دباؤ میں آتے ہیں اور نہ ہی کسی غیر قانونی کام کی اجازت دیتے ہیں۔ جو کام غلط ہے وہ غلط ہے اور اس کے خلاف کنٹونمنٹ رولز اینڈ ریگولیشنز کے مطابق کارروائی بھی کی جائے گی۔”انہوں نے مزید کہا کہ “اگر کوئی بلڈنگ انسپکٹر یا اہلکار اپنے ذاتی مفاد کے لیے ہمارا نام استعمال کرتا ہے تو اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ ماضی میں بھی بعض اہلکار ذاتی فائدے کے لیے افسران کے نام استعمال کرتے رہے ہیں۔ اگر انکوائری میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کسی نے ہمارے نام کا ناجائز استعمال کیا یا غیر قانونی کام کیے تو اس کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔”سیکرٹری راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ نے یہ بات بھی واضح کی کہ “اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی غیر قانونی کام یا بےضابطگی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شروع ہوتی ہے تو وہ اپنے دفاع کے لیے افسران پر الزامات لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس میرے خلاف، میرے کسی سینیئر افسر یا کسی بھی متعلقہ اہلکار کے خلاف کوئی ثبوت موجود ہے کہ اس نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے تو وہ ثبوت سامنے لائے۔ کنٹونمنٹ بائی لاز اور سی ای او کنٹونمنٹ کے احکامات کے مطابق ہر معاملے کی باقاعدہ انکوائری کی جائے گی اور جو بھی قصوروار پایا گیا اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔”اب سب سے بڑا سوال یہی بنتا ہے کہ ایک طرف سیکرٹری راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ تمام معاملات کی انکوائری کی جائے گی اور اگر کوئی اہلکار یا افسر قصوروار پایا گیا تو اس کے خلاف کنٹونمنٹ رولز اینڈ ریگولیشنز کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی، لیکن دوسری طرف اب تک نہ تو متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر کے خلاف کوئی واضح عملی کارروائی سامنے آئی ہے اور نہ ہی ان مبینہ غیر قانونی شٹرز یا تعمیرات کے خلاف کوئی ایسا نمایاں آپریشن دیکھنے میں آیا ہے جس سے یہ تاثر مضبوط ہو کہ محکمہ واقعی اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اب یہ دیکھنا ضروری ہو گا کہ آیا سیکرٹری صاحب اپنے دیے گئے مؤقف پر قائم رہتے ہیں یا پھر ماضی کی طرح یہ معاملہ بھی صرف “انکوائری جاری ہے” تک محدود رہ جائے گا۔شہری حلقوں کے مطابق راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں ماضی میں بھی متعدد ایسی غیر قانونی عمارتیں، شٹرز اور تعمیرات سامنے آ چکی ہیں جن کے خلاف ابتدا میں نوٹسز اور کارروائیوں کا شور تو بہت مچا، مگر بعد ازاں وہ کیسز یا تو فائلوں کے نیچے دب گئے، یا وقتی معطلی اور رسمی کارروائی کے بعد خاموشی اختیار کر لی گئی۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کئی مقامات پر آج بھی ایسی تعمیرات موجود ہیں جن کے خلاف کارروائی کا آغاز تو ہوا لیکن وہ کارروائی کبھی منطقی انجام تک نہ پہنچ سکی۔شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اب صرف ایک بلڈنگ انسپکٹر یا چند شٹرز تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی کے نظام، شفافیت اور قانون پر عملدرآمد کا امتحان بن چکا ہے۔ خاص طور پر سی ای او کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی اور ڈی جی ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس کے لیے بھی یہ ایک بڑا امتحان ہے کہ آیا وہ اس معاملے میں حقیقی اور غیر جانبدارانہ کارروائی کرتے ہیں یا یہ معاملہ بھی ماضی کی طرح وقتی خبروں اور فائلوں تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی فوری، شفاف اور مکمل غیر جانبدارانہ انکوائری کروائی جائے اور سب سے پہلے عوام کو قانونی اور واضح انداز میں بتایا جائے کہ جن شٹرز اور غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے الزامات سامنے آ رہے ہیں، آیا وہ الزامات درست ہیں یا نہیں۔ اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہو جائے کہ متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر نے “اوپر کے دباؤ”، اثر و رسوخ یا “عیدالاضحیٰ کے بکرے” جیسے جواز کے تحت غیر قانونی کام کروائے تو پھر صرف ایک ماتحت اہلکار کے خلاف کارروائی کافی نہیں ہونی چاہیے بلکہ جس کسی نے بھی اپنے عہدے، اختیار یا اثر و رسوخ کا ناجائز استعمال کیا، اس کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔شہری حلقوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اس معاملے میں ہونے والی ہر قانونی پیش رفت، انکوائری، کارروائی، جرمانے، مسماری یا معطلی کو میڈیا اور عوامی سطح پر مکمل شفافیت کے ساتھ منظرِ عام پر لایا جائے تاکہ عوام کو یہ معلوم ہو سکے کہ کن غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کیا کارروائی ہوئی، کون کون ذمہ دار ٹھہرا اور کس کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس پورے معاملے کو شفاف انداز میں منطقی انجام تک پہنچایا گیا تو یہ نہ صرف ادارے کی ساکھ بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو گا بلکہ آئندہ ایسے عناصر کے لیے بھی ایک واضح مثال بنے گا جو ذاتی مفادات کے لیے قانون اور اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہیں۔اس حوالے سے کوئی بھی ذمہ دار چاہے گا تو اپنی غیر جانبدرانہ پالیسی کے مطابق مناسب جگہ فراہم کی جائیگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں