2

“دھیرے دھیرے بول کوئی سن نہ لے”، عمران حبیب بکرا ڈیمانڈ باہر اور شیروز کا تبادلہ، ذرائع


وارڈ 10 میں شیروز نے 14 دنوں میں نو مکانات کو توڑ کر دکانیں بنوا دیں، آخر کس کی آشیرباد؟ اہلیانِ کینٹ کا سوال

بلڈنگ انسپکٹر شیروز کی معطلی یا تبدیلی کہیں تحفظ فراہم کرنا تو نہیں؟ کیا انکوائری ہوگی اور ہوگی تو شفاف ہوگی؟

راولپنڈی (مدثر الیاس کیانی سے) راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے وارڈ نمبر 10 میں مبینہ غیر قانونی شٹرز، رشوت، “بکروں” کے نام پر وصولیوں اور افسران کے مبینہ دباؤ کے گرد گھومنے والا سکینڈل اب ایک خطرناک موڑ اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے، مگر حیران کن طور پر تاحال کسی بڑی عملی کارروائی کا سامنے نہ آنا شہریوں میں شدید بے چینی پیدا کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق حال ہی میں معطل کیے گئے بلڈنگ انسپکٹر شیروز کو خاموشی سے منظر سے ہٹایا گیا، لیکن جن شٹرز، عمارتوں اور تعمیرات کے گرد پورا تنازع کھڑا ہوا، وہ بدستور اپنی جگہ موجود ہیں۔ محکمانہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بلڈنگ کنٹرول سیل میں شیروز کی تعیناتی محض اتفاق نہیں تھی بلکہ انہیں مخصوص “کام” نمٹانے کے لیے لایا گیا تھا۔ مختصر عرصے میں متعدد متنازعہ تعمیرات سامنے آنے کے باوجود ان کے خلاف کارروائی نہ ہونا اس تاثر کو مزید مضبوط کر رہا ہے کہ انہیں اندرونی سطح پر مکمل پشت پناہی حاصل رہی۔ ذرائع کے مطابق جب معاملہ میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدت اختیار کرنے لگا تو شور کم کرنے کے لیے پہلے خاموشی اختیار کی گئی اور پھر شیروز کو سائیڈ لائن کر دیا گیا۔ دوسری جانب سیکرٹری عمران حبیب کا کردار بھی شدید سوالات کی زد میں آ چکا ہے۔ ابتدائی بیانات میں شفاف انکوائری اور سخت کارروائی کے دعوے کیے گئے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی قانون سب کے لیے برابر ہے تو پھر اب تک کسی شٹر کو سیل کیوں نہیں کیا گیا؟ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف واضح آپریشن کیوں نہیں ہوا؟ اور مبینہ وصولیوں میں ملوث کردار اب تک بے نقاب کیوں نہیں کیے گئے؟ شہری حلقوں کا یہ بھی سوال ہے کہ اگر “بکروں” کے نام پر مبینہ طور پر ناجائز رقوم وصول کر کے اللہ کے نام پر ادا کیے جانے والے مقدس فریضے کو بھی ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا تو پھر ایسے عناصر کے خلاف کیا کارروائی ہوگی اور انہیں کیا سزا دی جائے گی؟ شہریوں نے ڈی جی ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس اور سی ای او راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کیس کو محض “انکوائری جاری ہے” کی فائل نہ بنایا جائے بلکہ تمام غیر قانونی شٹرز، منظور شدہ نقشے، جرمانوں اور مبینہ رشوت نیٹ ورک کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں، کیونکہ اب یہ معاملہ صرف چند شٹرز کا نہیں بلکہ پورے ادارے کی ساکھ، قانون کی عملداری اور عوامی اعتماد کا امتحان بن چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں