4

ریلوے پریم یونین ملک بھر میں ریفرنڈم کے انعقاد کیلئے مکمل طور پر تیار ہے


ریلوے پریم یونین (اوپن لائن) کی پاکستان ریلوے کی موجودہ صورتحال پر اہم پریس کانفرنس

مرکزی چیئرمین پریم یونین ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ ،شیخ محمد انور مرکزی صدرپریم یونین،خیر محمد ٹونیومرکزی جنرل سیکرٹری پریم یونین و دیگر عہدیداران کی ریلوے ہیڈکواٹر میں پریس کانفرنس

لاہور(عمرحیات چوہدری)ریلوے پریم یونین اوپن لائن کے زیرِ اہتمام پاکستان ریلوے کی موجودہ صورتحال، ریفرنڈم اور درپیش چیلنجز کے حوالے سے ایک اہم اور جامع پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ پریس کانفرنس سے مرکزی چیئرمین پریم یونین ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے خطاب کیا،شیخ محمد انور مرکزی صدرپریم یونین،خیر محمد ٹونیومرکزی جنرل سیکرٹری پریم یونین جبکہ سنٹرل ایگزیکٹو کے اراکین چوہدری خالد محمود، ڈاکٹر اشتقاق، رانا سلیم اور معین الدین سمیت ملک بھر سے یونین کے عہدیداران کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔ اس موقع پر دو روزہ سنٹرل کمیٹی اجلاس کے اہم فیصلوں سے بھی میڈیا کو آگاہ کیا گیا۔مرکزی چیئرمین ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے اعلان کیا کہ ریلوے پریم یونین ملک بھر میں ریفرنڈم کے انعقاد کیلئے مکمل طور پر تیار ہے، اور اس ضمن میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ریلوے انتظامیہ کو انتخابات کروانے کے احکامات بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ گزشتہ 45 برسوں سے ریلوے میں ریفرنڈم کا انعقاد نہیں ہو سکا، جبکہ دیگر یونینز کی جانب سے بھی اس حوالے سے خاطر خواہ دلچسپی نہیں دکھائی گئی۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ شفاف اور بروقت ریفرنڈم کے انعقاد میں اپنا مؤثر اور کلیدی کردار ادا کرے۔انہوں نے حالیہ ٹرین حادثات کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 15 روز کے دوران 7 ٹرینیں حادثات کا شکار ہو چکی ہیں، جو ریلوے کے نظام میں موجود سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے وزارت ریلوے پر زور دیا کہ فوری طور پر ٹریکس کی بہتری، خصوصاً ملتان تا سکھر سیکشن کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کو یقینی بنایا جائے، جہاں ٹریک کی خستہ حالی کے باعث حادثات کی شرح زیادہ ہے۔ مزید برآں، انہوں نے ٹرینوں اور بوگیوں کی حالت بہتر بنانے، جدید حفاظتی اقدامات اپنانے اور مجموعی آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔چیئرمین پریم یونین نے کہا کہ ریلوے جیسے اہم قومی ادارے کو نمائشی اقدامات یا سوشل میڈیا مہمات کے بجائے عملی کارکردگی، مؤثر پالیسی سازی اور میرٹ پر مبنی انتظامی فیصلوں کے ذریعے چلایا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریلوے سے وابستہ ایک لاکھ سے زائد ملازمین کے حقوق کا تحفظ، بروقت تنخواہوں کی ادائیگی اور ان کے مسائل کا حل حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ پاکستان ریلوے رواں سال ریکارڈ منافع حاصل کر رہی ہے، جسے ادارے کی بہتری، انفراسٹرکچر کی بحالی اور مسافروں کو محفوظ، معیاری اور بااعتماد سفری سہولیات کی فراہمی پر خرچ کیا جانا چاہیے۔ریلوے پریم یونین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریلوے کے نظام میں بہتری کیلئے فوری، سنجیدہ اور نتیجہ خیز اقدامات کیے جائیں، تاکہ حادثات کا سدباب ہو، ادارے کی کارکردگی میں اضافہ ہو اور عوام کو محفوظ اور بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں