
لاہور (ہیلتھ رپورٹر): دمہ کے عالمی دن 2026 کے موقع پر صدر پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشنز ڈاکٹر طارق محمود میاں نے کہا ہے کہ دمہ ایک الرجی سے جڑی سانس کی بیماری ہے، جس میں سانس کی نالیاں تنگ ہو کر سانس لینے میں دشواری پیدا کرتی ہیں۔
مدثر قدیر کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ دھول، پولن، سگریٹ کا دھواں، آلودگی اور فاسٹ فوڈ دمہ کے اہم محرکات ہیں، جبکہ بچپن میں ماں کا دودھ نہ ملنا بھی الرجی کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ انہیلر دمہ کا سب سے مؤثر اور ابتدائی علاج ہے، جس کے ذریعے دوا براہ راست پھیپھڑوں تک پہنچتی ہے اور فوری افاقہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر طارق محمود میاں کے مطابق ماسک کا استعمال، گھریلو صفائی، فلو ویکسین اور متوازن غذا اپنانے سے دمہ کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکتا ہے، جبکہ بروقت تشخیص اس بیماری سے بچاؤ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔