3

چکلالہ کنٹونمنٹ انفورسمنٹ انچارج نجی مصروفیات میں الجھے گئے ، اخلاق بات دبانے کے لیے کوشاں


اڈیالہ روڈ پر تجاوزات کا راج علاقہ انچارج ستی کی پانچوں انگلیاں تیل اور سر کڑاہی میں ، سی ای او خاموش کیوں؟
اہلیانِ کینٹ تجاوزات سے تنگ ، انفورسمنٹ کے آپریشن مبینہ فوٹو سیشن آپریشنز نے سوالات کھڑے کر دیے
اہلیانِ علاقہ کا احتساب کا مطالبہ، روزانہ لاکھوں کی مبینہ وصولیوں کی بازگشت ، حصہ اوپر تک تقسیم ہونے کا بھی الزام عائد ، ذرائع
راولپنڈی( مدثر الیاس کیانی سے) چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں اڈیالہ روڈ سے ملحقہ علاقوں میں تجاوزات کے بڑھتے ہوئے مسئلے نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ انفورسمنٹ ونگ کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ مقامی ذرائع اور بعض شہریوں کا دعویٰ ہے کہ تجاوزات کے خلاف مؤثر کارروائی کے بجائے صرف نمائشی اور فوٹو سیشن طرز کے آپریشنز کیے جا رہے ہیں جن کے بعد صورتحال دوبارہ جوں کی توں ہو جاتی ہے۔ شہری حلقوں میں یہ بھی چہ میگوئیاں گردش کر رہی ہیں کہ چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انفورسمنٹ انچارج اخلاق کافی عرصے سے منظرِ عام پر نہیں آئے، جبکہ ماتحت عملہ ان کی غیر موجودگی پر پردہ ڈالنے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب بعض مقامی افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ اڈیالہ روڈ اور ملحقہ علاقوں میں تجاوزات مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث غیر قانونی سرگرمیوں کو تقویت مل رہی ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ تجاوزات کی وجہ سے ٹریفک جام معمول بن چکا ہے، پیدل چلنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور کاروباری و رہائشی علاقوں میں بے ہنگم صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اعلیٰ حکام فوری نوٹس لیں اور انفورسمنٹ ونگ کی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ آڈٹ کرایا جائے۔ شہریوں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اگر سب کچھ درست ہے تو تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کے باوجود صورتحال میں بہتری کیوں نظر نہیں آ رہی؟ عوامی حلقوں نے شفاف تحقیقات، ذمہ داران کے تعین اور مستقل بنیادوں پر مؤثر آپریشن کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ کنٹونمنٹ کے باسیوں کو درپیش مسائل کا حقیقی حل ممکن بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں