178

لاہور کاہنہ کا المناک سانحہ — ایک ماں کے تینوں بچے بھی چلے گئے، 14 ننھے پھول ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

لاہور کے علاقے کاہنہ میں پیش آنے والا دل دہلا دینے والا سانحہ پورے پاکستان کو سوگوار کر گیا۔ ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت اچانک گرنے سے ابتدائی اطلاعات کے مطابق 14 معصوم بچے جاں بحق جبکہ ٹیچر سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
یہ ننھے بچے ہر روز کی طرح اپنے روشن مستقبل کے خواب لیے تعلیم حاصل کرنے ٹیوشن سینٹر پہنچے تھے، مگر چند لمحوں بعد وہی جگہ ان کے لیے ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ تقریباً 35 بچے عمارت کے اندر موجود تھے کہ اچانک چھت زمین بوس ہو گئی۔ چیخ و پکار مچ گئی، والدین دیوانہ وار اپنے بچوں کو تلاش کرتے رہے، جبکہ اہلِ علاقہ نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا۔ بعد ازاں ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔
اس سانحے کی سب سے دردناک تصویر اس وقت سامنے آئی جب ایک ماں اسپتال میں آہ و بکا کرتے ہوئے کہہ رہی تھی:
“میرے صرف تین ہی بچے تھے… تینوں ٹیوشن گئے تھے… اور آج تینوں اللہ کو پیارے ہو گئے۔”
یہ الفاظ صرف ایک ماں کی فریاد نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کے لیے ایک سوال ہیں۔
جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کے نام:

  • عبداللہ (8 سال)
  • سلمان (8 سال)
  • اروج (9 سال)
  • مہنور (8 سال)
  • تشبیہ (7 سال)
  • فواد (8 سال)
  • ایمان فاطمہ (11 سال)
  • خدیجہ (12 سال)
  • اروج (6 سال)
  • ارتضیٰ (4 سال)
  • رمشا (6 سال)
  • علی (6 سال)
  • ارحم (8 سال)
  • دعا (7 سال)
  • عبداللہ (7 سال)
    اللہ تعالیٰ ان تمام معصوم بچوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے والدین اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور زخمیوں کو جلد از جلد مکمل صحت یاب کرے۔ آمین۔
    یہ سانحہ صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ ہمارے تعلیمی اداروں، نجی ٹیوشن سینٹرز اور عمارتوں کے حفاظتی معیار پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کتنے معصوم بچوں کی جانیں مزید ضائع ہوں گی؟ کب تک غیر محفوظ عمارتیں ہمارے مستقبل کو نگلتی رہیں گی؟
    متعلقہ اداروں سے مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے، اور ملک بھر کے اسکولوں، مدارس اور ٹیوشن سینٹرز کی عمارتوں کا فوری حفاظتی آڈٹ کرایا جائے تاکہ آئندہ کسی ماں کی گود اس طرح اجڑنے نہ پائے۔
    اگر آپ بھی سمجھتے ہیں کہ معصوم بچوں کی جانوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے تو اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ آواز متعلقہ حکام تک پہنچ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں