13

اتحادِ امت ہی امتِ مسلمہ کے مسائل کا واحد حل ہے، پیر سید مخدوم عباس محمد شاہ ہمدانی

131واں سالانہ عرس مبارک

خانقاہیں ہمیشہ اصلاحِ معاشرہ، دینی شعور اور خدمتِ انسانیت کا سرچشمہ رہی ہیں، صاحبزادہ سید اسداللہ شاہ ہمدانی


بھنگالی شریف گوجرخان میں 131واں سالانہ عرس مبارک کی اختتامی تقریب، مذہبی ہم آہنگی، اخوت اور خدمتِ انسانیت کے فروغ پر زور، ملک بھر سے عقیدت مندوں کی بھرپور شرکت

گوجرخان کی معروف روحانی درسگاہ، دربار حسینی فیض رساں آستانہ عالیہ بھنگالی شریف میں 131واں سالانہ عرس مبارک تین روزہ مذہبی، روحانی اور اصلاحی تقریبات کے بعد عقیدت و احترام کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ اس موقع پر ملک کے مختلف شہروں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے ہزاروں زائرین نے دربار پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی، محافلِ ذکر و نعت میں شرکت کی اور بزرگانِ دین کی تعلیمات سے روحانی فیض حاصل کیا۔ پورے اجتماع کے دوران عقیدت، نظم و ضبط، باہمی احترام اور دینی وابستگی کا ایک منفرد منظر دیکھنے میں آیا۔عرس کی تقریبات کی صدارت سجادہ نشین آستانہ عالیہ الحاج پیر سید محمد جابر علی شاہ ہمدانی نے کی جبکہ سرپرستِ اعلیٰ الحاج پیر سید مخدوم عباس محمد شاہ ہمدانی کی نگرانی میں تمام انتظامات خوش اسلوبی سے مکمل کیے گئے۔ آنے والے مہمانوں کے لیے قیام و طعام، لنگر، وضو، سیکیورٹی، طبی امداد، پارکنگ اور رہنمائی سمیت تمام بنیادی سہولیات کا جامع انتظام کیا گیا، جس کے باعث دور دراز سے آنے والے زائرین نے اطمینان کے ساتھ تمام مذہبی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔تین روزہ اجتماع کے دوران قرآنِ مجید کی تلاوت، ذکرِ الٰہی، نعتِ رسولِ اکرم ﷺ، منقبت، درود و سلام اور اصلاحی بیانات کا سلسلہ جاری رہا۔ مقررین نے واضح کیا کہ صوفیائے کرام کی تعلیمات محبت، اعتدال، برداشت اور انسانیت کی خدمت پر مبنی ہیں، جنہوں نے برصغیر میں اسلام کے حقیقی پیغام کو عام کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خانقاہیں ہمیشہ نفرتوں کے خاتمے، اخلاقی تربیت اور معاشرتی اصلاح کا مؤثر ذریعہ رہی ہیں۔اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے پیر سید مخدوم عباس محمد شاہ ہمدانی نے کہا کہ امتِ مسلمہ کو درپیش مسائل کا حل اختلافات کو ہوا دینے میں نہیں بلکہ اتحاد، باہمی اعتماد اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں امت کو داخلی انتشار، اخلاقی زوال اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نکلنے کے لیے اجتماعی شعور اور دینی اقدار سے مضبوط وابستگی ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام امن، عدل، رواداری اور خدمتِ انسانیت کا دین ہے، اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے کردار سے دین کی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے پیش کرے۔ معاشرے میں برداشت، دیانت، سچائی اور انصاف کو فروغ دے کر ہی ایک مضبوط اور مستحکم قوم کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فرقہ وارانہ، لسانی اور دیگر فروعی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر قومی یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔پیر سید مخدوم عباس محمد شاہ ہمدانی نے کہا کہ اسلام دشمن عناصر مختلف اوقات میں ایسے اقدامات کرتے ہیں جن سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش ناکام بنائی جا سکے۔انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی توانائیاں مثبت سرگرمیوں، تعلیم، اخلاقی تربیت اور قومی خدمت کے لیے وقف کریں۔ ان کے بقول کسی بھی قوم کا مستقبل اس کی نوجوان نسل کے کردار سے وابستہ ہوتا ہے، اس لیے انہیں دین اور جدید تقاضوں کے درمیان متوازن سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا تاکہ پاکستان ترقی، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر مزید مضبوطی سے گامزن ہو سکے۔اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آستانہ عالیہ بھنگالی شریف آئندہ بھی دینی تعلیم، روحانی تربیت، سماجی خدمت اور عوام میں اخوت و محبت کے فروغ کے لیے اپنا کردار اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھے گا، کیونکہ یہی وہ پیغام ہے جسے اولیائے کرام نے اپنی عملی زندگی سے عام کیا اور جو آج بھی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔عرس مبارک کی علمی و فکری نشستوں میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے جید علماء، مشائخ اور دینی شخصیات نے شرکت کی اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عام کرنے میں اولیائے کرام کے کردار کو اجاگر کیامقررین نے کہا کہ برصغیر میں دینِ اسلام کی اشاعت صرف درس و تدریس تک محدود نہیں رہی بلکہ صوفیائے کرام نے اپنے کردار، اخلاق، محبت، رواداری اور خدمتِ خلق کے ذریعے لاکھوں انسانوں کے دل جیتے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی خانقاہیں روحانی تربیت، اصلاحِ معاشرہ اور دینی رہنمائی کے معتبر مراکز کی حیثیت رکھتی ہیں۔جمعیت علمائے اسلام (سمیع الحق گروپ) کے مرکزی قائد مولانا عبد الحق ثانی نے اپنے خطاب میں جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک اور آستانہ عالیہ بھنگالی شریف کے دیرینہ تعلقات کو امتِ مسلمہ کے اتحاد کی ایک خوبصورت مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اداروں نے ہمیشہ دینی اقدار کے فروغ، علمی روایت کے استحکام اور اعتدال پسند اسلامی فکر کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے مذہبی اداروں کو اختلافات سے بالاتر ہو کر نوجوان نسل کی دینی، اخلاقی اور فکری رہنمائی کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے تاکہ معاشرہ شدت پسندی، بے راہ روی اور فکری انتشار سے محفوظ رہ سکے۔صاحبزادہ سید اسداللہ شاہ ہمدانی نے آستانہ عالیہ بھنگالی شریف کی تاریخ اور خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ روحانی مرکز ایک صدی سے زائد عرصے سے نہ صرف دینی تعلیم اور روحانی تربیت کا فریضہ انجام دے رہا ہے بلکہ عوامی خدمت کو بھی اپنی روایت کا لازمی حصہ بنائے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں آنے والے ہر فرد کے لیے دروازے بلاامتیاز کھلے رہتے ہیں اور یہی وہ طرزِ عمل ہے جو بزرگانِ دین کی تعلیمات کا حقیقی عکس ہے۔انہوں نے کہا کہ آستانہ عالیہ کے زیرِ اہتمام مختلف اوقات میں دینی اجتماعات، اصلاحی نشستیں، محافلِ ذکر، قرآن و سنت کی تعلیم، نوجوانوں کی کردار سازی اور مستحق افراد کی معاونت جیسے متعدد فلاحی اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہتے ہیں۔ یہی خدمات اس ادارے کو صرف ایک روحانی مرکز نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح کے مؤثر ادارے کی حیثیت بھی عطا کرتی ہیں۔تقریبات کے دوران پیش کیے جانے والے خطابات میں اس امر پر زور دیا گیا کہ معاشرے کی تعمیر صرف معاشی ترقی سے ممکن نہیں بلکہ اخلاقی اقدار، دیانت داری، امانت، برداشت اور حقوق العباد کی پاسداری بھی ایک مضبوط قوم کی بنیادی ضرورت ہے۔ مقررین نے والدین کے احترام، نوجوانوں کی مثبت تربیت، خواتین کے عزت و وقار اور معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائیگی جیسے موضوعات پر بھی مدلل گفتگو کی، جسے حاضرین نے نہایت توجہ سے سنا۔تین روزہ اجتماع کے دوران آنے والے زائرین کے لیے وسیع پیمانے پر لنگر کا اہتمام کیا گیا، جہاں بلاامتیاز ہر فرد کی تواضع کی گئی۔ منتظمین کے مطابق یہ روایت مساوات، اخوت اور خدمتِ انسانیت کی عملی تصویر ہے، جو صوفیائے کرام کی تعلیمات کا اہم حصہ رہی ہے۔ اسی جذبے کے تحت رضاکار مسلسل خدمات انجام دیتے رہے اور دور دراز سے آنے والے مہمانوں کی ہر ممکن رہنمائی اور معاونت کو یقینی بنایا گیا۔تقریبات میں شریک مذہبی، سماجی اور عوامی حلقوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ آستانہ عالیہ بھنگالی شریف آج بھی اپنی قدیم روایات کو برقرار رکھتے ہوئے معاشرے میں محبت، رواداری، دینی شعور اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ مقررین نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ آنے والے برسوں میں یہ روحانی مرکز نئی نسل کو اسلامی تعلیمات، اعلیٰ اخلاق اور قومی ذمہ داریوں سے روشناس کرانے میں اسی جذبے کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔تین روزہ روحانی اجتماع کی نمایاں تقریب جامع مسجد مخدوم عباس شاہ بھنگالی شریف کی تعمیرِ نو کے منصوبے کا سنگِ بنیاد تھا، جسے حاضرین نے دینی اور سماجی حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ مسجد کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ انداز میں تعمیر کیا جائے گا تاکہ بڑھتی ہوئی تعداد میں نمازیوں، طلبہ اور زائرین کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ منصوبے میں وسیع نماز ہال، وضوخانے، دینی تدریسی سرگرمیوں کے لیے مناسب جگہ اور دیگر بنیادی سہولیات کو بھی شامل کیا جائے گا، تاکہ یہ مسجد مستقبل میں عبادت کے ساتھ ساتھ علمی، اصلاحی اور سماجی سرگرمیوں کا مؤثر مرکز بن سکے۔
تقریبات میں پیر سید سلطان علی شاہ ہمدانی، پیر سید اقرار حسین شاہ ہمدانی، سادات ہمدانیہ، مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء و مشائخ، مذہبی و سماجی شخصیات اور ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے عقیدت مندوں نے شرکت کی۔مختلف وفود نے آستانہ عالیہ بھنگالی شریف کی دینی، روحانی اور سماجی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے مراکز معاشرے میں محبت، رواداری، اخوت اور برداشت کے فروغ کے لیے ہمیشہ مثبت کردار ادا کرتے رہے ہیں اور آنے والی نسلوں کی اخلاقی تربیت میں بھی ان کی اہمیت مسلمہ ہے۔اختتامی نشست میں اس امر پر زور دیا گیا کہ موجودہ حالات میں مذہبی اداروں، تعلیمی مراکز اور سماجی تنظیموں کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کو مثبت سوچ، اعلیٰ اخلاق، قومی ذمہ داری اور دینی شعور کے ساتھ آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جب معاشرے میں علم، کردار اور خدمتِ خلق کو ترجیح دی جائے تو امن، استحکام اور ترقی کی راہیں خود بخود ہموار ہو جاتی ہیں۔اختتامی دعا پیر سید مخدوم عباس محمد شاہ ہمدانی نے کرائی، جس میں پاکستان کی سلامتی، استحکام، خوشحالی، معاشی ترقی، قومی یکجہتی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی، امن اور تحفظ، شہداء کے بلند درجات، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور دنیا بھر میں ظلم و جبر کا سامنا کرنے والے مسلمانوں کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کے حضور خصوصی دعائیں کی گئیں۔ اس موقع پر وطنِ عزیز میں امن و امان کے قیام، دہشت گردی کے خاتمے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور ملکی ترقی کے لیے بھی خصوصی مناجات پیش کی گئیں۔
یوں دربار حسینی فیض رساں آستانہ عالیہ بھنگالی شریف گوجرخان کا 131واں سالانہ عرس مبارک اپنی تمام مذہبی، روحانی اور اصلاحی سرگرمیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ یہ اجتماع نہ صرف عقیدت مندوں کے لیے روحانی سکون اور دینی رہنمائی کا ذریعہ ثابت ہوا بلکہ اتحادِ امت، اخلاقی اقدار، خدمتِ انسانیت اور قومی یکجہتی کا ایسا پیغام بھی دے گیا جو موجودہ حالات میں پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ تین روز تک جاری رہنے والی تقریبات نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کیا کہ اولیائے کرام کی خانقاہیں آج بھی معاشرے میں مثبت فکر، اعتدال، باہمی احترام اور اصلاحِ احوال کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں، اور یہی روایت اس روحانی مرکز کی سب سے بڑی پہچان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں