ڈیڑھ ہوشیاری سے ضلع وہاڑی میں موجود فرم کا نام استعمال کر کے کروڑوں روپے کے درجنوں ٹھیکے لئے اور نان رجسٹرڈ بنک اکائونٹ میں رقم وصول کیں
اپنی فرم”S.S. Brothers” (ڈبل ڈاٹ) کو چھپا کر وہاڑی کی فرم “S.S Brothers” (سنگل ڈاٹ) کے نام کو دانستہ استعمال کیا “ایک نقطے نے محرم سے مجرم بنا دیا”
قانون PPRA کی خلاف ورزیوں پر PPC قانون کی FIR کٹوانے کے دہانے پرآ گئے فرم بھی بلیک لسٹ ہونے اورمیجر پلنٹی کا داغ لگوانے لگی۔!!
سرکاری ٹیکسوں ، منی ٹریل وغیرہ سے بچنے کے لئے شہزاد خرم نے دانستہ طور پر ٹینڈر پراسس میں کسی اور کی فرم کے نام والے دستاویزات دے کر اسی فرضی بنک اکائونٹ کے لئے افسران سے اپروول کروائیں
چیک اینڈ بیلنس والی نظر کو شائد بُری نظر لگ گئی ، ٹھیکیدار نے افسران کی آنکھوں کو مبینہ چکا چوند روشنی سے اندھا کر دیا ، یا پھر افسروں کی ذاتی مالی مفاد کی دلچسپی نے اس جرم کو تقویت دی
ایکسین حضرات کی غفلت ایک طرف جبکہ ڈائریکٹر فنانس بھی خوابِ خرگوش کے مزے دھن ہو کر یا پھر لالچ و ہوس میں آ کر ادائیگیاں کروانے کے جرم میں فخر کے ساتھ شاملِ جرم ہو گئے
چھپے ہوئے سنگین ترین جرم کو عوامی مشن کے پلیٹ فارم سے بے نقاب کرنے پر احتسابی اداروں سمیت پاکستان انجینئرنگ کونسل بھی متحرک ہو گئی، فرم حقیقی احتساب میں پھنس گئی
لاہور ( نیوز انویسٹی گیشن سیل ، عمر حیات چوہدری) محکمہ واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی لاہور میں اندھیر نگری چوپٹ راج کا قیام تشویشناک حد تک چلا گیا فرم مالکان کے لئے غیر قانونی راستوں کے دروازے کھل گئے تفصیلات اور انویسٹی گیشن سیل کے مطابق محکمہ واسا لاہور کی مختلف ڈویژنوں کے افسران نے شہزاد خرم ٹھیکیدار کو مبینہ طور پر کسی اور کی فرم کے نام پر کروڑوں روپے کے درجنوں ٹھیکے / ٹینڈرز دے کر قانون کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ مار کر اور احتساب ، چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو پائوں تلے روند دیا ڈیڑھ ہوشیاری سے ضلع وہاڑی C5/20900 میں موجود “S.S Brothers” (سنگل ڈاٹ) والی فرم کا نام استعمال کر کے ( کسی اور کی فرم کا نام استعمال کر کے ) کروڑوں روپے کے درجنوں ٹھیکے لئے اور انہی حروف کے عین مطابق غیر قانونی / فرضی بنک اکائونٹ میں خطیر رقم بھی وصول کیں حالانکہ ان کی ذاتی فرم “S.S. Brothers” (ڈبل ڈاٹ) C2/ 4833 لائسنس کے ساتھ موجود ہے مگر اس کو جان بوجھ کر اور سرکاری ٹیکسوں سمیت دیگر سرکاری نظروں سے اوجھل ہونے کی غرض سے اپنے لائسنس کے عین مطابق فرم پر چند ٹینڈر لئے اور اس اپنے لائسنس کے عین مطابق BOP کی برانچ نمبر 002 میں موجود بنک اکائونٹ نمبر 002-6010003905500018 ٹائٹل نام “S.S. Brothers” (ڈبل ڈاٹ کے ساتھ) والے اکائونٹ میں ٹھیکوں والی چندٹرانزیکشن کیں باقی درجنوں کروڑوں روپے کے ٹھیکے اپنے لائسنس سے مختلف نام پر (جو کسی اور کے نام کی فرم ہے) پر ٹینڈرز لئے اور کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشن فرضی / غیر قانونی بنک اکائونٹ بنوا کر اس میں وصول کیں، ایک لمحے کے لئے اگر مان بھی لیا جائے کہ موصوف نے اپنے BOP برانچ نمبر002 میں موجود “S.S. Brothers” والے اکائونٹ میں ٹھیکوں کی رقم وصول کیں ہیں تب بھی بنک حروف میں تبدیلی والے ٹائٹل نام پر کوئی بھی خطیر رقم کا چیک وغیرہ اس کے اکائونٹ میں جمع ہی نہیں کر سکتا ہے اور نہ ہی کوئی دوسرے نام کے چیک کو اس کے اکائونٹ سے کیش کر کے رقم دے سکتا ہے مزید کسی بھی صورت سرکاری افسران ٹینڈر پراسس میں بڈنگ ڈاکیومنٹس میں درج حروف سے لے کر ایولیوایشن رپورٹ ،پھر ورک آرڈر اور پھر ادائیگیوں کے لئے بلز /چیک پر حروف میں کوئی بھی تبدیلی نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے غیر قانونی پریکٹس اور PPRA قانون سمیت محکمانہ پالیسی کی بھی خلاف وزری ثابت ہو جاتی ہے موصوف نے مبینہ غیر قانونی پریکٹس کرواتے ہوئے ضلع وہاڑی کی فرم “S.S Brothers” (سنگل ڈاٹ کے ساتھ ) جس کا لائسنس C5/20900 ہے مالک کا نام سجاد احمد ہے مگر شہزاد خرم نے اس فرم کے نام کو دانستہ استعمال کیا “ایک نقطے نے محرم سے مجرم بنا دیا” قانون PPRA کی خلاف ورزیوں پر PPC قانون کی FIR کٹوانے کے دہانے پرآ گئے ہیں دوسری جانب PEC سے بھی فرم بلیک لسٹ ہونے اورمیجر پلنٹی کا داغ لگوانے لگی ہے۔!! دلچسپ امر یہ ہے کہ چیک اینڈ بیلنس والی نظر کو شائد بُری نظر لگ گئی ، ٹھیکیدار نے افسران کی آنکھوں کو مبینہ چکا چوند روشنی کی سے اندھا کر دیا ہے ، یا پھر افسروں کی ذاتی مالی مفاد کی دلچسپی نے بھی اس جرم کو تقویت دی مزید دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ شہزاد خرم کی ذاتی فرم میں ایک بھی انجینئر PEC میں رجسٹرڈ نہیں ہے ، ایکسین، ایس ڈی او، سب ا نجینئرز کی بھی سائٹ پر کو ئی وزٹ نہیں ہے “ترقیاتی کام گئے بھاڑ میں، ٹھیکیدار و افسران رہیں بہار میں” کی پالیسی کو خوب اپنایا جا رہا ہے ایکسین حضرات کی غفلت ایک طرف جبکہ ڈائریکٹر فنانس واسا لاہور بھی خوابِ خرگوش کے مزے دھن ہو کر یا پھر لالچ و ہوس میں آ کر ادائیگیاں کروانے کے جرم میں فخر کے ساتھ شاملِ جرم ہو گئے ہیں مگر اس چھپے ہوئے سنگین ترین جرم کو عوامی مشن کے پلیٹ فارم سے بے نقاب کرنے پر احتسابی اداروں سمیت پاکستان انجینئرنگ کونسل بھی متحرک ہو گئی ہے اور یہ فرم حقیقی احتساب کے چنگل میں پھنس گئی ہے اور قانون کے عین مطابق فرم بلیک لسٹ کے دہانے پر آگئی ہے