24

سرکاری ملازم عرفان کا بیوی پر قاتلانہ حملہ، SHO شالیمار کی بروقت کاروائی مقدمہ درج

سر پھیرے اکھڑ مزاج ملزم نے 02 شیشے کی بوتلیں سر میں مار ڈالیں، ڈنڈے مکے ٹانگوں کے بے دریخ استعمال سے جسم کے کئی حصے بری طرح متاثر

متاثرہ لڑکی کا کوٹ خواجہ سعید ہسپتال سے موقع پر MLC ، دماغ میں گہری چوٹیں، ناک کی ہڈی میں خطرناک دڑاڑ ، جبڑے اور دانت جھولنے لگے

آنکھوں کے نیچے زخم وسوجن، پسلیوں کی ہڈیوں میں شدید درد، درجنوں بار مارنے والے ظالم نے قتل کی نیت سے دھاوا بولا ، لڑکی معجزانہ طور پر بچ گئی

خود کفیل 03 بچوں کی ماں ہوں کپڑے سلائی کر کے گھر چلاتی ہوں شوہر کی ذاتی مالی خواہشات کو پوری نہ کرنے پر متعدد بار تشدد کا نشانہ بننے پر خاموش رہی

تشویشناک حالت میں خون میں لت پت بیٹی کو ہم خود ہسپتال لائے، سرٹیفائیڈ ظالم کو بارہا برداشت کیا مگر اب قانونی کاروائی کریں گے : متاثرہ کے لواحقین

لاہور (کرائم رپورٹر) پنجاب میں ظلم کی داستانوں میں ایک اور دردناک داستان کا اضافہ ہو گیا عورت کی عزت وآبرو پر وزیر اعلیٰ کی ریڈ لائن کو بھی سرکاری ملازم کی جانب سے ہی دھرلے سے کراس کر دیا گیا تفصیلات کے مطابق تھانہ شالیمار کی حدود میں واقع رسولپورہ باغبانپورہ لاہور میں سرکاری ملازم عرفان گجر ولد شاہ محمدنے مورخہ 05 ستمبر دن ساڑھے 10بجے اپنی ہی شریف بیوی اور خود کفیل 03بچوں کی ماں کو ذاتی مالی خواہشات کو پورا نہ کرنے پر جلال میں آ کر لڑکی کے سر میں 02عدد شیشے کی بوتلیں مار کر قاتلانہ حملہ کر ڈالا پھر ڈنڈوں اور پاور فل مکوں اور ٹانگوں سے وار کرتے ہوئے جسم کے مختلف حصوں پر گہری ضربیں لگائیں جس کے بعد لڑکی معجزانہ طور پر تو بچ گئی مگر خون میں لت پت شدید زخمی اور تشویشناک حالت میں گورنمنٹ کوٹ خواجہ سعید ٹیچنگ ہسپتال لاہور میں اپنے بہن بھائیوں و دیگر لواحقین نے پہنچایا ہسپتال میں موجود پولیس نے فوری طور پر ابتدائی کاروائی شروع کر دی پھر متعلقہ تھانہ شالیمار کے ایس ایچ او نے بھی اس پر ابتدائی طور پر ظالم شخص عرفان ولد شاہ محمد پر متاثرہ لڑکی کی ہی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے لڑکے کو گرفتار کیا اور متاثرہ لڑکی کو (MLC) کی رپورٹ آنے کے بعد دیگر مزید دفعات بھی لگانے کی یقین دہانی کروائی سر پھیرے اکھڑ مزاج ملزم نے 02 عدد شیشے کی بوتلیں سر میں مار ی، ڈنڈے مکے ٹانگوں کے بے دریخ استعمال سے جسم کے کئی حصے بری طرح متاثر ہوئے ہیں دماغ میں گہری چوٹیں جبکہ ناک کی ہڈی میں خطرناک دڑاڑ آئی ہے جبڑے اور دانت جھولنے لگ گئے ہیں آنکھوں کے نیچے زخم وسوجن ہے پسلیوں کی ہڈیوں میں شدید درد کئی دنوں سے آج بھی موجود ہے لڑکی نے بیان دیا ہے کہ درجنوں بار مارنے والے ظالم شوہرنے اس بار قتل کی نیت سے دھاوا بولا ہے میں تو اللہ کے کرم اور دعائوں سے معجزانہ طور پر بچ گئی ہوں میں خود کفیل 03بچوں کی ماں ہوں گھر میں خود کپڑے سلائی کر کے اپنے گھر کا نظام چلاتی ہوں شوہر 05ہزار سے 10ہزار روپے دے کر تمام تر گھر کے تقریباً 50 ہزار کے اخراجات چلانے کا حکم دیتا ہے اُلٹا مجھ سے اپنے غیر ضروری کھانے پینے کی چیزوں سمیت تمباکو نوشی وغیرہ کے بھی اخراجات کروانا اس کا وطیرہ ہے بعض اوقات شوہر کی ذاتی مالی خواہشات کو پوری نہ کرنے پر متعدد بار تشدد کا نشانہ بننے پر خاموش رہی تا کہ 03بچوں کے ساتھ ازدواجی زندگی قائم رہ سکے مگر میرے ظالم شوہر نے اپنی اکھڑ مزاج طبیعت اور بگڑی عادتوں کی وجہ سے کبھی بھی اس کا ادراک نہ کیا اور اب کی بار اس نے پھر اپنی مالی خواہشات کو پورا نہ ہونے پر جلال میں آکر مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا ہے دوران تشدد بار بار مجھے اور میرے معصوم اور چھوٹے بچوں کو ختم کرنے کا چیخ چیخ کر کہتا رہا سفاک شوہر سے جان چھڑا کر میں زخمی حالت میں اپنی مدد آپ کے تحت گھر سے باہر نکلی تو ساتھ ہی موجود اپنے والدین کے گھر پہنچی ہوں متاثرہ لڑکی کے والدین کا کہنا تھا کہ تشویشناک حالت میں خون میں لت پت بیٹی کو ہم خود ہسپتال لائے ہیں اپنے داماد بلکہ سرٹیفائیڈ ظالم کو بارہا برداشت کیا ہے مگر اب قاتلانہ حملے پر چپ نہیں بیٹھے گے اس کے خلاف ہم قانونی کاروائی کریں گے ہم مظلوموں کی واحد اُمید اب پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز صاحبہ سے دردمندانہ اپیل ہے کہ بطور سرکاری ملازم اور اس ظالم شخص کے ظلم کا فوری نوٹس لیکر ہماری قانون کے مطابق داد رسی کی جائے اور اس کو کیفرکردار پر پہنچایاجائے اور ساتھ ساتھ ہماری بیٹی اور اس کے 03معصوم اور چھوٹے بچوں کی حفاظت کرنے کے بھی انتظامات کئے جائیں اور گورنمنٹ کوٹ خواجہ سعید ٹیچنگ ہسپتال لاہور سے آنے والی MLC رپورٹ کے عین مطابق ہمارے ملزم پر مزید قانونی دفعات کے ساتھ کاروائی کر کے داد رسی کی جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں