تحریر: فاروق راجپوت

عالمی سیاست ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ایک جانب سپر پاور امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کسی بھی وقت ایک بڑی جنگ میں بدل سکتی ہے، دوسری جانب مشرق وسطیٰ گزشتہ دو برس سے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی آگ میں جل رہا ہے۔ روس یوکرین جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی کہ دنیا ایک اور عالمی تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کا دو روزہ دورہ برطانیہ اور اس کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے امریکہ روانگی انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
وزیر اعظم لندن میں قیام کے دوران برطانوی قیادت، کامن ویلتھ رہنماؤں اور اوورسیز پاکستانیوں سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ لیکن اصل نظریں نیویارک پر لگی ہیں جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کریں گے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ سال جنرل اسمبلی میں جو خطاب کیا تھا، وہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک دبنگ باب تھا۔ جب بڑے بڑے عالمی رہنما مصلحتوں کا شکار تھے، تب شہباز شریف نے جنرل اسمبلی کے اسٹیج سے پوری جرات کے ساتھ تین بڑے مقدمے لڑے۔
پہلا، فلسطین کا مقدمہ۔ انہوں نے دنیا کو یاد دلایا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ جنگ نہیں نسل کشی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ کیا۔
دوسرا، کشمیر کا مقدمہ۔ انہوں نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر دنیا کی مجرمانہ خاموشی پر سوال اٹھایا۔
تیسرا، اسلامو فوبیا اور موسمیاتی تبدیلی کا مقدمہ۔ انہوں نے مغرب کو بتایا کہ پاکستان موسمیاتی تباہی کا سب سے بڑا شکار ہے حالانکہ اس کا اس تباہی میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔
وہ تقریر ایک کمزور ملک کے وزیر اعظم کی تقریر نہیں تھی، بلکہ ایک خوددار قوم کے لیڈر کی للکار تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی وہ خطاب عالمی میڈیا میں حوالے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
آج کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ امریکہ ایران جنگ اور مشرق وسطیٰ کے بحران کو کون روکے گا؟ اقوام متحدہ بے بس نظر آتی ہے، سلامتی کونسل تقسیم کا شکار ہے۔
ایسے میں عالمی طاقتوں کی نظریں صرف ایک ملک پر ہیں اور وہ ہے پاکستان۔ اس کی وجہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی وہ جوڑی ہے جس نے پاکستان کو عالمی امن کا ضامن بنا دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کے امریکہ میں بھی سنے جانے والے تعلقات ہیں، ایران اور سعودی عرب دونوں کو اس پر اعتماد ہے، چین اس کا آہنی بھائی ہے اور مشرق وسطیٰ کے تمام فریقین اس کی بات کو اہمیت دیتے ہیں۔ یہ توازن دنیا کے کسی اور ملک کے پاس نہیں۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران جس طرح آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکہ، سعودی عرب اور ایران کے ساتھ عسکری و سفارتی رابطوں کو فعال رکھا اور وزیر اعظم نے سیاسی محاذ پر مفاہمت کی راہ ہموار کی، اس نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر کوئی ثالثی کر سکتا ہے تو وہ پاکستان ہی ہے۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسی کردار کا ذکر عالمی حلقوں میں ہو رہا ہے کہ پاکستان کو امن کے لیے کردار دینا چاہیے۔
وزیر اعظم پاکستان کا یہ دورہ پاکستان کی معاشی بحالی کے بیانیے کو تقویت دے گا۔ لندن میں سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کریں گی۔
یہ دورہ بھارت کے اس بیانیے کو دفن کر دے گا کہ پاکستان تنہا ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم کا عالمی رہنماؤں کے ساتھ کھڑا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔
یہ دورہ مظلوموں کی آواز بنے گا۔ توقع ہے کہ وزیر اعظم ایک بار پھر فلسطین اور کشمیر کے لیے وہی دبنگ انداز اپنائیں گے جس کے لیے وہ جانے جاتے ہیں۔
لندن سے نیویارک تک کا یہ سفر صرف ایک سفارتی دورہ نہیں، یہ اس بات کا اعلان ہے کہ پاکستان اب صرف امداد لینے والا ملک نہیں، بلکہ امن دینے والا ملک بن چکا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان آج عالمی امن کی آخری امید بن کر ابھرا ہے۔