15

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف درخواستیں مسترد، جسٹس محمد علی مظہر کا اضافی نوٹ

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف درخواستیں مسترد، جسٹس محمد علی مظہر کا اضافی نوٹ

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستیں مسترد ہونے کے معاملے میں جسٹس محمد علی مظہر نے 31 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ جاری کر دیا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے اپنے اضافی نوٹ میں تحریر کیا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کےخلاف درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں، آرٹیکل 184/3 کے مقدمات میں اپیل کےحق کا اطلاق ماضی سے کرنا خلاف آئین ہے، فل کورٹ تشکیل دے کر ان درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر مقرر کرنا درست تھا۔

اضافی نوٹ میں کہا گیا کہ کسی بھی معاملے میں فل کورٹ کے فیصلے کے بعد اپیل کی زیادہ اہمیت نہیں رہتی، ایکٹ کے نفاذ اور عدالتی فیصلے کے دوران فیصلوں کو حکم امتناع کی وجہ سے تحفظ حاصل ہے، ایکٹ کے سیکشن چھ کے تحت نظر ثانی میں مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت دی گئی۔

جسٹس محمد علی مظہر نے اپنے اضافی نوٹ میں تحریر کیا کہ نظر ثانی میں نیا وکیل کا مطلب مقدمے کی دوبارہ سماعت نہیں ہوگی، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت 184 تین کی درخواست کا کمیٹی جائزہ لے گی، 184 تین کی درخواست کمیٹی کی جانب سے مسترد کیے جانے پر درخواست بینچ میں مقرر ہونی چاہیے، ایسی صورت میں تین رکنی بینچ میں کمیٹی ممبران شامل نہیں ہونے چاہئیں، کمیٹی کی جانب سے عوامی مفاد کے مقدمے کو مسترد کرنے کے بعد اپیل کا کوئی فورم نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں