5

حکومت کی ٹریفک چالان پالیسی بدترین گورننس اور عوام دشمن اقدام ہے۔


ٹریفک پولیس نظم و ضبط بہتر بنانے کے بجائے “ریونیو جنریشن مشین” بن چکی ہے۔
3 ہزار اہلکار روزانہ 25 چالان کریں تو ماہانہ اڑھائی ارب روپے عوام سے وصول کیے جائیں گے۔

امیرجماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ کی پنجاب حکومت کی بیڈ گورننس اور ٹریفک پولیس چالان پالیسی پر کڑی تنقید

لاہور(عمرحیات چوہدری) امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے پنجاب حکومت کی ناقص کارکردگی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹریفک پولیس کے ایک فرد روزانہ کے 25 چالان کا ہدف دینا نہ صرف بدترین گورننس کی مثال ہے بلکہ یہ عوام دشمن پالیسی اور ادارہ جاتی نااہلی کا واضح ثبوت بھی ہے۔ حکومت کا یہ اقدام عام آدمی کا معاشی استحصا ل ہے ۔ٹریفک پولیس نظم و ضبط بہتر بنانے کے بجائے محض “ریونیو جنریشن مشین” میں تبدیل ہو چکی ہے۔ 3 سے 5 ہزار ٹریفک اہلکار روزانہ کی بنیاد پر صرف ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے سڑکوں پر تعینات ہیں جبکہ ٹریفک مینجمنٹ، شہری سہولت اور حادثات کی روک تھام جیسے بنیادی فرائض مکمل طور پر نظر انداز ہو رہے ہیں۔ شہر بھر میں جگہ جگہ بیریئرز لگا کر، غیر ضروری ناکہ بندی اور مصنوعی رکاوٹیں کھڑی کر کے ناجائز چالان کیے جارہے ہیں جس سے شہری ذہنی اذیت شکار ہورہے ہیں ۔ ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ اگر اوسطاً 3 ہزار اہلکار روزانہ 25 چالان کریں تو ماہانہ بنیاد پر اڑھائی ارب روپے عوام سے وصول کیا جائے گا، جو موجودہ معاشی بحران میں عوام پر ایک اور ناقابل برداشت بوجھ ہے۔ امیر لاہور نے کہا کہ مہنگی بجلی، گیس، بے تحاشا یوٹیلیٹی بلز، لوڈشیڈنگ، کوڑا اور سیوریج ٹیکس میں اضافہ اور مہنگائی کے طوفان نے پہلے ہی عوام کی کمر توڑ دی ہے، جبکہ ٹریفک چالان پالیسی نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس عوام دشمن پالیسی کو مسترد کرتی ہے اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر چالان ٹارگٹ پالیسی ختم نہ کی گئی اور ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے گئے تو جماعت اسلامی شہر بھر میں بھرپور احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ لاہور کے ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتےہوئے کیا۔ اجلاس میں حکومت کی ٹریفک پولیس کی چالان پالیسیوں کی شدید مذمت کی گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں