تحریر: عاصم نواز طاہرخیلی (تربیلہ غازی،ہری پور)
قدیم دور کے ایک عظیم فلسفی کا قصہ ہے کہ جب وقت کے بادشاہ نے اسے تمام تر شاہی آسائشوں کے ساتھ اپنے محل میں رہنے کی دعوت دی، تو اس عالمِ باعمل نے ایک عجیب شرط رکھی۔ اس نے کہا: “بادشاہ سلامت! میں ضرور حاضر ہوں گا، مگر میری ‘روح’ میرے ساتھ رہے گی۔” بادشاہ حیران ہوا کہ روح بھلا جسم سے جدا کیسے ہو سکتی ہے؟ تب اس عالم نے اشارہ کیا اور کتابوں سے لدی سینکڑوں بیل گاڑیاں محل کے دروازے پر آ کھڑی ہوئیں۔ عالم نے مسکرا کر کہا: “بادشاہ سلامت! یہ کتابیں ہی میری روح ہیں، جس دن ان سے میرا رشتہ ٹوٹ گیا، میرا علم مر جائے گا اور میں ایک عام سا انسان بن جاؤں گا۔”
یقیناً کسی بھی تحریر کے لیے مطالعہ کی اہمیت ایک بہترین اور مخلص دوست جیسی ہے۔ ایک اچھا لکھاری بننے کے لیے یہ “دوست” وہی اہمیت رکھتا ہے جو انسانی جسم میں دل کی ہے؛ یعنی یہ تحریر کے تن میں جان اور دھڑکن کا کردار ادا کرتا ہے۔
آج کا دور ٹیکنالوجی اور “انفارمیشن دھماکے” کا دور ہے۔ ہم گوگل اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے زمانے میں جی رہے ہیں، جہاں ہر معلومات ایک کلک کی دوری پر ہے، لیکن یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انٹرنیٹ آپ کو “معلومات” تو دے سکتا ہے، لیکن “دانش” اور گہرائی صرف کتب کے عمیق مطالعے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ آج ہم سطحی معلومات کو علم سمجھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں، حالانکہ یہ ادھورا سچ ہمیں معلومات کے سیلاب اور علم کے قحط کی طرف لے جا رہا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ایک ایسی ‘کاپی پیسٹ’ نسل بن چکے ہیں جو فکر و تدبر کے بجائے محض دوسروں کے الفاظ کو دہرانے پر اکتفا کر رہی ہے؟
گوگل کے دور میں ‘اقراء’ کی بازگشت ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ علم کا سفر “پڑھنے” سے شروع ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں مطالعہ و مشاہدہ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں مومنوں کو بار بار کائنات میں غور و فکر کی تلقین کی ہے، بلکہ وحیِ الٰہی کا پہلا لفظ ہی “اقراء” یعنی “پڑھو” ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمانِ عالی شان علم کی فضیلت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے: “عالم کی فضیلت عابد پر ایسے ہی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ پر”۔ اسی ہدایت کو مشعلِ راہ بنا کر صحابہ کرامؓ اور اولیاء اللہ نے مطالعہ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ تاریخ ایسے سچے واقعات سے بھری پڑی ہے جو قاری کی عقل کو دنگ کر دیتے ہیں۔
اسلامی تاریخ کے عظیم محدث امام زہریؒ کے بارے میں مشہور ہے کہ جب وہ اپنے گھر میں مطالعہ کے لیے بیٹھتے تو ان کے اردگرد کتابوں کا ڈھیر لگ جاتا۔ وہ مطالعہ میں اس قدر غرق ہو جاتے کہ انہیں دنیا و مافیہا کی خبر نہ رہتی۔ ایک بار ان کی اہلیہ نے (جو ان کی کتب پسندی سے کچھ تنگ تھیں) برجستہ کہا: “خدا کی قسم! یہ کتابیں مجھ پر تین سوکنوں سے زیادہ بھاری ہیں”۔ یہ وہ جنون تھا جس نے ہمارے اسلاف کو دنیا کا امام بنایا۔
انسان کا مطالعہ جتنی وسعت اختیار کرتا ہے، اس کی عقل و شعور کا درجہ اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے۔ جس طرح عطر کی شیشی کھلنے سے ہر طرف خوشبو پھیلتی ہے، بالکل اسی طرح صاحبِ مطالعہ کا قلم چلتے ہی قرطاس پر دھنک رنگ بکھرتے اور تاثیر کی نہریں بہنے لگتی ہیں۔ مطالعہ وہ دوربین ہے جو ہمیں ماضی کے دریچوں سے حال سنوارنے اور بہترین مستقبل کی بنیاد رکھنے کا ہنر سکھاتی ہے۔ چاہے قرونِ اولیٰ کا زمانہ ہو یا دورِ حاضر، مطالعے و مشاہدے کے بغیر لکھنا ایسے ہی ہے کہ جیسے پھولوں کے رس اور بہار کی چاشنی کے بغیر گُڑ سے بنا ہوا شہد تیار کرنا۔ جس طرح کوئی گلستان مالی کی محنت اور ہریالی کے بغیر آنکھ کو نہیں بھا سکتا، بالکل اسی طرح بغیر مطالعہ و مشاہدہ کے کوئی شخص اچھا صحافی یا لکھاری نہیں کہلا سکتا۔
جو لوگ مطالعہ سے دوستی کر لیتے ہیں، وہ کبھی تنہا نہیں رہتے۔ ان کے قلم اور زبان سے نکلنے والے حروف معاشرے کو اچھی سوچ، اچھی راہوں اور مثبت فضاؤں سے آشنا کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو مطالعہ کی سچی دوستی عطا فرمائے تاکہ ہم اس علمی بنیاد پر معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا بہترین کردار ادا کر سکیں۔۔آمین ثم آمین۔
