5

پیرا فورس بہاولنگر عوام کی محافظ یا قاتل؟

​بہاولنگر میں منچن آباد روڈ پر اتوار کی رات خادم آباد کالونی کے قریب پیش آنے والا سانحہ محض ایک اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ ہمارے پورے انتظامی ڈھانچے کی بے حسی اور ٹوٹ پھوٹ کا نوحہ ہے جہاں قانون کے رکھوالوں کی بے لگام گاڑی نے بے دردی سے پانچ بے گناہ شہریوں کے خوابوں اور زندگیوں کو کچلا، وہاں انصاف اور بالادستی کے تمام سرکاری دعوے ریت کی دیوار ثابت ہو کر دم توڑتے نظر آئے، سچ تو یہ ہے کہ جب محافظ ہی مقتل سجانے لگیں تو ایک عام شہری تحفظ کی فریاد لے کر کس کے در پر دستک دے؟ موقع پر موجود عینی شاہدین کے وہ سنگین الزامات ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں، جن کے مطابق گاڑی میں سوار اہلکار بظاہر نشے میں دھت تھے اور یہی مجرمانہ بے ہوشی تھی کہ بے قابو رفتار کی زد میں آ کر یہ سرکاری گاڑی ان معصوم انسانوں کے لیے زندگی قہر بن گئی، عوامی حلقوں کا یہ پرزور مطالبہ ہے کہ ان اہلکاروں کا فوری طور پر بلڈ الکحل ٹیسٹ کروایا جائے تاکہ حقائق منظرِ عام پر آ سکیں کیونکہ وردی کے رعب میں جب ہوش و حواس کھو کر گاڑی کو عوامی خون سے نہلایا جائے تو وہ رکھوالا نہیں بلکہ موت کا سوداگر بن جاتا ہے، یہ المیہ اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام کے خون پسینے کی کمائی اور ٹیکسوں سے خریدی گئی مہنگی گاڑیاں جب نااہل اور غیر تربیت یافتہ ہاتھوں میں ہوں تو شہر کی شاہراہیں کسی بھی وقت مقتل گاہ میں تبدیل ہو سکتی ہیں، یہاں یہ سوال تاریخ کے ماتھے پر رقم ہے کہ کیا پیرا فورس کا قیام عوامی راحت اور امن و امان کے لیے تھا یا نہتے شہریوں کی تذلیل اور انہیں کچلنے کے لیے؟ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اس فورس کا خوف صرف شاہراہوں تک محدود نہیں بلکہ شہر کی گلیوں اور بازاروں میں بھی سمارٹ لاک ڈاؤن کی آڑ میں اندھیر نگری اور چوپٹ راج کا ایک ہولناک سلسلہ جنم لے چکا ہے، جہاں قانون کی گرفت بااثر مگرمچھوں کے سامنے موم ہو جاتی ہے، وہاں کسی غریب کی ریڑھی اور چھوٹے دکاندار پر یہی قانون عقابی نظر بن کر ٹوٹتا ہے، کیا ریاست کا ڈنڈا صرف ان تہی دستوں کے لیے ہے جن کے پاس کسی سیاسی اثر و رسوخ کی چھتری موجود نہیں؟ مقتدر طبقے کے لیے تو رعایتوں کے تمام در کھلے ہیں مگر وہ سفید پوش محنت کش جو کرائے کی دکان میں اپنے بچوں کا رزق تلاش کر رہا ہے، اس کے لیے یہ فورس ایک عذاب کی صورت اختیار کر چکی ہے، لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ اس سنگین صورتحال کا ذاتی طور پر نوٹس لیں اور اس سانحے میں ملوث پیرا فورس کے تمام اہلکاروں کے خلاف ایسی کڑی محکمانہ اور قانونی کارروائی کا حکم دیں جو دوسروں کے لیے نشانِ عبرت بن جائے، اگر ٹیسٹ میں نشے کی تصدیق ہوتی ہے تو ان کے خلاف ذرہ برابر بھی رعایت نہیں برتنی چاہیے بلکہ انہیں فوری طور پر ملازمت سے ڈس مس کیا جانا چاہیے کیونکہ ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ان پانچ شدید زخمی نوجوانوں کا لہو تب تک حکومت کے دامن پر قرض رہے گا جب تک انصاف کے تمام تقاضے بلا امتیاز پورے نہیں کیے جاتے، وہ زخمی جو اس وقت ہسپتال کے بستروں پر اپنی زندگی کی آخری سانسوں کی جنگ لڑ رہے ہیں، ان کا بہتا خون اور ہر زخم ایوانوں سے سخت جواب طلبی کر رہا ہے، کیا ضلعی انتظامیہ اس کڑے احتساب کی جرات کرے گی یا روایتی مصلحت پسندی کے سیاہ پردوں میں اس واقعے کو بھی ماضی کے سانحوں کی طرح دفن کر دیا جائے گا؟ وقت کی پکار ہے کہ بہاولنگر میں جاری اس ناانصافی اور طاقت کے ناجائز استعمال کا فوری سدِباب کیا جائے تاکہ قانون کا وقار بحال ہو سکے اور عام آدمی کا ریاست پر اعتماد قائم رہے، دعا ہے کہ ربِ ذوالجلال تمام زخمیوں کو شفائے کاملہ عطا فرمائے اور اس شہر کو ظالموں کے شر سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں