تحریر:حافظ محمد صالح
عالمی سود خور ادارے آئی ایم ایف کے غلام حکمرانوں نے غریب عوام کا خون نچوڑنے والا وفاقی بجٹ تیار کر لیا ہے ۔جو پانچ جون کو پیش کیا جائے گا۔حکومت نے ایک بار پھر آئی ایم ایف کے معاشی جبر اور ڈکٹیشن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں ۔
بجٹ آئی ایم ایف کی غلامی کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو گا۔ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں بجٹ سازی کا عمل عوامی فلاح اور قومی خود مختاری کے اصولوں پر استوار ہونے کے بجائے بیرونی قرضہ خواہوں، بالخصوص آئی ایم ایف کی ترجیحات کا اسیر ہو کر رہ گیا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہر نئے بجٹ سے قبل آئی ایم ایف کی ٹیمیں اسلام آباد میں ڈیرے ڈالتی ہیں اور ملکی معاشی پالیسیوں، ٹیکس ڈھانچے، بجلی و گیس کے نرخوں اور سبسڈیز کے خاتمے کا پورا اسکرپٹ خود لکھتی ہیں۔ اس کا نتیجہ ایک ایسا بجٹ نکلتا ہے جو غریب کو مزید غریب، مڈل کلاس کو خط ِ غربت سے نیچے دھکیلنے اور ملکی صنعت کو تباہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے ایک پروگرام سے نکل کر دوسرے پروگرام میں اس طرح جکڑا جا چکا ہے کہ ملکی بجٹ اب ایک آزاد ملک کا معاشی منصوبہ نہیں بلکہ آئی ایم ایف کے مطالبات کی ایک تعمیلی رپورٹ معلوم ہوتا ہے۔ حکومت کو یہ بات گانٹھ باندھ لینی چاہیے کہ کوئی بھی ملک صرف قرضوں کے سہارے اور اپنے شہریوں کا خون نچوڑ کر کبھی معاشی استحکام حاصل نہیں کر سکتا، آئی ایم ایف کی پالیسیاں پاکستان میں معاشی نمو کو فروغ دینے میں بری طرح ناکام رہی ہیں، کیونکہ ان کا واحد مقصد خسارے کو کم کرنے کے لیے اندھا دھند ٹیکس لگانا اور ترقیاتی بجٹ کو منجمد کرنا ہے۔ اب وقت اآگیا ہے کہ اس معاشی طوق کو اتار پھینکا جائے اور آئی ایم ایف کے دباﺅکو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایک خودمختار معاشی پالیسی اپنائی جائے، جو ادھار کی بیساکھیوں کے بجائے اندرونی وسائل کی حقیقی ترقی پر مبنی ہو، جب ہم حقیقی ریلیف کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں چند فی صد کا ایسا روایتی اضافہ کر دیا جائے جسے بجٹ لاگو ہوتے ہی مہنگائی کا جن چند دنوں میں نگل جائے۔ حقیقی ریلیف کا مطلب یہ ہے کہ عام آدمی کے استعمال کی بنیادی اشیائِ خورو نوش، ادویات، اور بچوں کی تعلیم پر عائد بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ ختم کیا جائے۔ پاکستان کا موجودہ ٹیکس نظام دنیا کے ظالمانہ ترین نظاموں میں سے ایک ہے، جہاں ایک پسماندہ دیہاڑی دار مزدور اور ارب پتی تاجر دونوں بازار سے گھی، چینی یا آٹا خریدتے وقت ایک ہی شرح سے 18 فی صد جنرل سیلز ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ یہ امیر دوست اور غریب دشمن نظام معاشی انصاف کے تمام اصولوں کے منافی ہے۔ بجٹ 27-2026 میں حکومت کو پٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس میں بڑی کٹوتی کرنی ہوگی تاکہ پٹرول، ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں نیچے آئیں، کیونکہ توانائی کی یہی قیمتیں ملک میں مہنگائی کا اصل انجن ہیں اگر حکومت واقعی مخلص ہے تو اسے ڈیوٹی فری درامدات اور لگڑری آئٹمز پر بھاری ٹیکس لگا کر غریبوں کے چولہے کو جلتا رکھنے کے لیے گندم، دالوں، گھی اور ادویات کو سیلز ٹیکس سے مکمل استثنیٰ دینا ہوگا۔ اس کے علاوہ، ملک کی متوسط اور تنخواہ دار کلاس، جو پہلے ہی ساڑھے 32 فی صد تک کے انکم ٹیکس کے بوجھ تلے سسک رہی ہے، اسے مزید ٹیکس نیٹ میں جکڑنے کے بجائے ٹیکس چھوٹ کی حد میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ ان کی قوتِ خرید برقرار رہ سکے۔ آئی ایم ایف سے نجات کا راستہ صرف ٹیکس اصلاحات کیساتھ حکومتی اخراجات میں بے پناہ کٹوتی میں بھی چھپا ہوا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کا غریب خودکشیوں پر مجبور ہے اور پیٹ کاٹنے کے باوجود اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی نہیں دے پا رہا، اشرافیہ کے شاہانہ اخراجات، مفت بجلی، مفت پٹرول اور پروٹوکولز کی بھرمار ایک مجرمانہ تماشا ہے۔ بجٹ میں جب تک اشرافیہ کی ان مراعات پر مکمل پابندی نہیں لگائی جاتی، عوام پر ٹیکس لگانے کا کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا۔ وزیر ِ خزانہ نے اپنے بیان میں فوڈ سیکورٹی یعنی غذائی تحفظ کے عالمی بحران کا ذکر کیا ہے، لیکن انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان جیسا زرعی ملک اگر آج گندم اور کپاس درآمد کرنے پر مجبور ہے تو یہ ہماری اپنی زرعی پالیسیوں کی ناکامی ہے ، آئی ایم ایف کے دباﺅپر کسانوں کے لیے کھاد، بیج اور ٹیوب ویل کی بجلی پر سبسڈیز ختم کر دی گئیں، جس کی وجہ سے زراعت کی لاگت اتنی بڑھ گئی کہ کسان کاشت کاری چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ بجٹ 27-2026 میں زراعت کے لیے ایک خطیر رقم مختص ہونی چاہیے، کسانوں کو سستی بجلی اور بلاسود قرضے فراہم کیے جانے چاہئیں تاکہ ملک نہ صرف غذائی طور پر خود کفیل ہو بلکہ ہم زرعی مصنوعات برآمد کر کے قیمتی زرِ مبادلہ بھی کما سکیں۔ اگر ہمارا زرعی شعبہ بحال ہو جائے تو ملک میں مہنگائی کا گراف خودبخود نیچے آجائے گا اور آئی ایم ایف کے قرضوں پر انحصار کا ایک بڑا سبب ختم ہو جائے گا۔ وفاقی حکومت کے پاس 5 جون کو پیش کیے جانے والے بجٹ میں یہ تاریخی موقع ہے کہ وہ روایتی، ڈرپوک اور آئی ایم ایف زدہ بجٹ سازی کے مروجہ اسلوب کو مسترد کرے۔ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ قومی سلامتی کا ضامن صرف دفاعی حصار نہیں ہوتا، بلکہ ایک مستحکم معیشت اور خوشحال عوام ہی کسی بھی ملک کی حقیقی خودمختاری کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اگر حکومت نے ایک بار پھر آئی ایم ایف کے دباﺅمیں آکر بجلی و گیس مزید مہنگی کی، برآمدی صنعتوں کو ریلیف دینے سے انکار کیا اور بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا، تو یہ ملکی معیشت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔
