شام ڈھلے مورگاہ ، خواجہ کارپوریشن ، اڈیالہ روڈ ، ڈھیری ، بائیس نمبر سمیت دیگر علاقوں میں تجاوزات مافیا کا راج
اخلاق لا پتہ ماتحت کے مطابق وہ کسی فیملی ایشو میں پھنسے ہیں اور اہلیان کینٹ نے کاروائیوں کو فوٹو سیشن یا نام دیدیا
راولپنڈی ( مدثر الیاس کیانی سے) چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کے سی ای او عارفین زبیر کی جانب سے تجاوزات کے مکمل خاتمے کے لیے متعدد احکامات اور دعووں کے باوجود زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ اہلیانِ کینٹ کا کہنا ہے کہ تجاوزات کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں محض فوٹو سیشن تک محدود ہو چکی ہیں جبکہ عملی طور پر تجاوزات مافیا بدستور سرگرم ہے۔ ذرائع کے مطابق مورگاہ کا علاقہ ، خواجہ کارپوریشن، اڈیالہ روڈ، بکرا منڈی، تلسہ روڈ، چکری کے مخصوص علاقوں اور دیگر مصروف مقامات پر شام کے سائے ڈھلتے ہی تجاوزات مافیا اپنے پنجے گاڑ لیتا ہے۔ سڑکوں، فٹ پاتھوں اور عوامی گزرگاہوں پر قبضے نہ صرف ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بنتے ہیں بلکہ شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بھی ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر تجاوزات کے خلاف کارروائیاں واقعی ان رپورٹوں کے مطابق ہو رہی ہیں جو روزانہ مرتب اور پیش کی جاتی ہیں تو پھر شام کے وقت نمودار ہونے والا یہ مافیا تجاوزات کے عملے کی نظروں سے کیسے اوجھل رہتا ہے؟ سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ انچارج تجاوزات اخلاق کی نگرانی میں جاری مہم مطلوبہ نتائج کیوں نہیں دے سکی۔ کینٹ قوانین کے مطابق سرکاری اراضی، فٹ پاتھوں اور عوامی راستوں پر قائم غیر قانونی تجاوزات کا فوری خاتمہ، سامان کی ضبطی، جرمانوں کا نفاذ اور بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی لازم ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ناقص کارکردگی پر انچارج تجاوزات کو فوری طور پر تبدیل کرکے متحرک اور ذمہ دار افسر تعینات کیا جائے تاکہ کینٹ کے علاقوں کو تجاوزات مافیا سے نجات دلائی جا سکے اور قانون کی حقیقی عملداری یقینی بنائی جا سکے۔
