14

راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کا اشتہاری نظام سوالات کی زد میں، طویل تعیناتی اور ہورڈنگز کی نگرانی پر تشویش بڑھ گئی


پری مون سون خطرات کے باوجود درجنوں ہورڈنگ بورڈز کی فزیکل ویریفیکیشن کا ریکارڈ غیر واضح، ایک ہی افسر کے پاس اہم شعبوں کی طویل ذمہ داریوں پر تشویش,
شہری حلقوں کا آزادانہ آڈٹ اور فیکٹ فائنڈنگ کا مطالبہ


راولپنڈی (مدثر الیاس کیانی سے) راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ (آر سی بی) میں اشتہاری ڈھانچوں، ہورڈنگ بورڈز، شاپ سائنز اور ایڈورٹائزنگ امور کی نگرانی سے متعلق انتظامی معاملات ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ذرائع اور شہری حلقوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات کے مطابق ایک جانب کینٹ حدود میں نصب متعدد ہورڈنگ بورڈز کی حفاظتی جانچ اور فزیکل ویریفیکیشن کے حوالے سے صورت حال غیر واضح ہے، جبکہ دوسری جانب انہی شعبوں سے وابستہ انتظامی ذمہ داریوں کی طویل المدتی تقسیم بھی بحث کا موضوع بن چکی ہے۔ذرائع کے مطابق راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں بورڈنگ، شاپ بورڈز، پول اسٹریمرز، بینرز اور دیگر اشتہاری امور کی نگرانی طویل عرصے سے ایک ہی انتظامی دائرہ کار کے تحت چل رہی ہے۔ انتظامی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں میں تبادلوں اور ذمہ داریوں کی گردش (Rotation of Duties) کا مقصد اختیارات کے ارتکاز کو روکنا، شفافیت کو فروغ دینا اور احتساب کے مؤثر نظام کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ متعلقہ افسر ارسلان گجر کئی برسوں سے راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں اشتہاری شعبوں سے وابستہ ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ اگرچہ کسی افسر کی طویل تعیناتی بذات خود غیر قانونی قرار نہیں دی جا سکتی، تاہم گورننس کے ماہرین کے مطابق ایک ہی اسٹیشن اور ایک ہی نوعیت کے شعبے میں غیر معمولی مدت تک تعیناتی انتظامی شفافیت، مفاداتی ٹکراؤ (Conflict of Interest) اور نگرانی کے نظام کے حوالے سے سوالات پیدا کر سکتی ہے۔ادھر محکمہ موسمیات کی جانب سے پنجاب بھر میں پری مون سون بارشوں، تیز ہواؤں اور آندھیوں کی پیشگوئی کے بعد کینٹ حدود میں نصب بڑے ہورڈنگ بورڈز کی موجودہ حالت بھی شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق متعدد مقامات پر نصب اشتہاری ڈھانچوں کی فزیکل ویریفیکیشن، اسٹرکچرل سیفٹی چیک اور انجینئرنگ بنیادوں پر معائنے کا ریکارڈ فوری طور پر دستیاب نہیں، جس کے باعث یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ آیا تمام ہورڈنگ بورڈز حفاظتی معیار پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں بڑے اشتہاری ڈھانچوں کی باقاعدہ انسپکشن اور حفاظتی جانچ ایک لازمی عمل تصور کی جاتی ہے کیونکہ تیز ہواؤں اور بارشوں کے دوران کمزور یا خستہ حال سٹرکچر کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ماضی میں راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں ہورڈنگ بورڈز اور اشتہاری ڈھانچوں سے متعلق حادثات اور شکایات بھی سامنے آ چکی ہیں، جن کے بعد حفاظتی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔قانونی ماہرین کے مطابق کنٹونمنٹ ایکٹ 1924، کینٹ بائی لاز اور پبلک سیفٹی سے متعلق قواعد کے تحت عوامی مقامات پر نصب ڈھانچوں کی نگرانی، حفاظت اور قانونی تقاضوں کی تکمیل یقینی بنانا متعلقہ اتھارٹی کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح سرکاری اداروں میں تبادلوں اور انتظامی اختیارات کی تقسیم کا مقصد بھی شفاف طرز حکمرانی کو یقینی بنانا ہوتا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے غیر ضروری اثر و رسوخ یا اختیارات کے ارتکاز کے خدشات پیدا نہ ہوں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اشتہاری نظام سے وابستہ بعض شعبوں میں ریکارڈ کی جانچ، اجازت ناموں، فیسوں، لائسنسنگ اور نگرانی کے معاملات کا بھی آزادانہ جائزہ لینے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ تمام امور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق انجام دیے جا رہے ہیں یا نہیں۔مزید برآں، ذرائع کے مطابق راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے ترجمان عمران حبیب اور متعلقہ افسر ارسلان گجر سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ ان معاملات پر ان کا مؤقف حاصل کیا جا سکے، تاہم خبر فائل ہونے تک کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہو سکا۔ متعلقہ حکام کا مؤقف موصول ہونے پر اسے بھی نمایاں طور پر شائع کیا جائے گا۔شہری، تاجر اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پری مون سون سیزن کے آغاز سے قبل تمام ہورڈنگ بورڈز، شاپ سائنز، پول اسٹریمرز اور اشتہاری ڈھانچوں کا فوری سیفٹی آڈٹ، فزیکل ویریفیکیشن اور تکنیکی معائنہ کرایا جائے۔ ساتھ ہی اشتہاری نظام، لائسنسنگ، فیسوں اور انتظامی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی جامع جائزہ لیا جائے تاکہ عوامی تحفظ، شفافیت اور ادارہ جاتی احتساب کے تقاضے مکمل طور پر پورے ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں