4

بھاٹا گراؤنڈ لاکھوں روپے کی شجرکاری مہم خطرے میں

مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث درخت خشک لکڑیوں میں تبدیل، عوامی ٹیکس کا پیسہ ضائع ہونے کا خدشہ

راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے متعلقہ شعبے کی نگرانی نہ ہونے سے عملہ من مانیوں میں مصروف

ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز کے باوجود شجرکاری منصوبے عدم توجہی کا شکار، شہریوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ

راولپنڈی(مدثر الیاس کیانی سے)  راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں واقع بھاٹا گراؤنڈ میں شجرکاری مہم کے تحت لگائے گئے درجنوں درخت مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث سوکھ کر خشک لکڑیوں میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ مقامی شہریوں کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مذکورہ علاقے میں لگائے گئے بیشتر درخت مکمل طور پر مردہ ہو جائیں گے، جس سے نہ صرف شجرکاری مہم کے مقاصد متاثر ہوں گے بلکہ قومی وسائل کا بھی ضیاع ہوگا۔پاکستان اس وقت ماحولیاتی تبدیلیوں کے سنگین اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ حکومت اور مختلف ادارے ہر سال شجرکاری مہمات پر کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں، آگاہی مہمیں چلائی جاتی ہیں اور شہری علاقوں میں ہزاروں پودے لگائے جاتے ہیں تاکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی لائی جا سکے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ تاہم متعلقہ اداروں کی جانب سے پودے لگانے کے بعد ان کی مناسب دیکھ بھال نہ کیے جانے کے باعث بیشتر منصوبے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ذرائع کے مطابق راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے متعلقہ شعبے کی انچارج زیادہ تر وقت ٹیکس، ڈی آئی پی اور اکاؤنٹس سے متعلق امور میں مصروف رہتی ہیں، جس کے باعث فیلڈ میں نگرانی کا فقدان ہے۔ نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے ماتحت عملہ من مانیوں میں مصروف ہے اور لگائے گئے درختوں کی آبپاشی، نگہداشت اور حفاظت پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ درخت سوکھ گئے تو محکمے کو مالی نقصان ہوگا اور یہ نقصان دراصل عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے وسائل کا ضیاع ہوگا۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بھاٹا گراؤنڈ میں لگائے گئے درختوں کی فوری بنیادوں پر دیکھ بھال یقینی بنائی جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کا تعین کیا جائے تاکہ شجرکاری مہم کے ثمرات محفوظ رہ سکیں۔ اس حوالے سے راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے ترجمان عمران عجیب سے متعدد بار رابطہ کرنے اور موقف جاننے کے لیے کالز کی گئیں، تاہم خبر فائل ہونے تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ان کا موقف موصول ہونے کی صورت میں اسے بھی شائع کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں