لاہور(عمرحیات چوہدری) جماعت اسلامی نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کی متنازع اور مبینہ غیر آئینی دفعات کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی لاہورضیاءالدین انصاری ایڈووکیٹ نے چوہدری ذوالفقار علی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کی وساطت سے رٹ پٹیشن دائر کی۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے غیر جماعتی بنیادوں پر مقامی حکومتوں کے انتخابات کراناآئین اور جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ رٹ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین اور وائس چیئرمین کا بالواسطہ انتخاب عوام کے بنیادی جمہوری حق کو مجروح کرتا ہے، جسے آئینی طور پر کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔امیر جماعت سلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ مزید کہا گیا ہے کہ خواتین، لیبر، یوتھ اور اقلیتوں سمیت مخصوص نشستوں پر نمائندوں کا بالواسطہ انتخاب ہارس ٹریڈنگ کو فروغ دے سکتا ہے، اس لیے یہ نشستیں بھی براہِ راست عوامی ووٹ سے منتخب ہونی چاہئیں۔امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاءالدین انصاری نے مؤقف اپنایا کہ نئے ایکٹ کے ذریعے اختیارات عوامی نمائندوں سے چھین کر بیوروکریسی کو منتقل کیے جا رہے ہیں ،جو آئین کے آرٹیکل 140-A کے منافی ہے اور مقامی حکومتوں کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق عوامی مینڈیٹ کو کمزور کرنے والا یہ قانون نہ صرف غیر جمہوری ہے بلکہ مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی کے بنیادی تصور کی بھی نفی کرتا ہے۔پٹیشن میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کی غیر آئینی دفعات کو غیر مؤثرقرار دیا جائے اور آئین کے مطابق ضروری ترامیم کا حکم دیا جائے تاکہ مقامی حکومتوں کا نظام حقیقی معنوں میں عوامی نمائندگی کی بنیاد پر فعال ہو سکے۔
48