42

راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں غیر قانونی کمرشل تعمیرات کا اسکینڈل


انکشافات کے بعد بھی بلڈنگ سیکشن اور اعلیٰ حکام کی خاموشی برقرار
اولڈ گرانٹ مسمار کر کے نئی مارکیٹ، خالی سرکاری جگہ پر کویٹہ کیفے تعمیر
کروڑوں کی کمپوزیشن فیس ممکن، مگر دانستہ نظرانداز کیے جانے کا الزام
غیر قانونی تعمیرات کے ذمہ داروں کو مبینہ اعلیٰ سرپرستی حاصل
راولپنڈی (مدثر الیاس کیانی سے)
راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے بلڈنگ سیکشن میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی اور کمرشل تعمیرات کے سنگین انکشافات کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے مکمل خاموشی اختیار کر لی گئی ہے، جس نے ادارے کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ روزنامہ عوامی مشن میں شائع ہونے والی خبر میں انکشاف کیا گیا تھا کہ راولپنڈی صدر کے علاقے میں اولڈ گرانٹ عمارت کو مرمت کے نام پر مکمل طور پر توڑ کر نئی کمرشل مارکیٹ تعمیر کر دی گئی ہے، جبکہ واران اڈے کے بالمقابل خالی سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر کویٹہ کیفے قائم کر کے قبضہ کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تمام تر شواہد اور دستاویزی ثبوت اعلیٰ افسران کے علم میں لانے کے باوجود مذکورہ دونوں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف تاحال کوئی عملی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ ذمہ داران مبینہ طور پر معلومات فراہم کرنے والوں کا تمسخر اڑاتے نظر آتے ہیں، جو اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ انہیں اعلیٰ حکام کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر صرف اولڈ گرانٹ کی غیر قانونی تعمیر کو قواعد کے مطابق جرمانے اور کمپوزیشن فیس کے ساتھ ریگولرائز کیا جائے تو کنٹونمنٹ بورڈ کو کروڑوں روپے کی آمدن ہو سکتی ہے، تاہم دانستہ طور پر اس عمل سے گریز کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب کویٹہ کیفے سرے سے ہی غیر قانونی تعمیر ہے، جس پر کسی قسم کی کمپوزیشن فیس عائد کرنا بھی ممکن نہیں۔
شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور شفاف کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ بلڈنگ سیکشن اور متعلقہ افسران کے کردار کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائیں تاکہ قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں